✕
ٹیکنالوجی

آسٹن کے معروف اے آئی ماہر نے کیوں کہا کہ وہ پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی پرامید ہیں

  • لمز کی جانب سے جاری اعلامیے میں ان کا یہ بیان نقل کیا گیا: ’’عالمی منظرنامے پر پاکستان کا وقت آ پہنچا ہے۔‘‘
شائع اپ ڈیٹ

لمز اور ایشین امریکن اکیڈمی آف سائنسز اینڈ انجینئرنگ کے مشاورتی بورڈز کے رکن عامر حسین کا کہنا ہے کہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے لیے عالمی سطح پر اپنا مقام بنانے کا وقت آ پہنچا ہے۔ تاہم پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے کیا کچھ درکار ہے، اس بارے میں ان کے جوابات زیادہ چشم کشا ہیں۔

آسٹن میں 30 سال گزارنے والے عامر حسین کہتے ہیں کہ میں خود کو کسی حد تک عالمی شہری سمجھتا ہوں اور جہاں میری ضرورت ہو، وہاں جا سکتا ہوں۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمپنی اسپارک کوگنیشن کے بانی عامر حسین کی قیادت میں یہ کمپنی ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کی حامل یونی کارن کمپنی بنی۔ اب اس کمپنی کا نام ایواتھن (Avathon) ہے۔ انہیں حال ہی میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے یونیورسٹی ایڈوائزری بورڈ میں مقرر کیا گیا، جبکہ گزشتہ ماہ ایشین امریکن اکیڈمی آف سائنسز اینڈ انجینئرنگ کے پہلے صنعتی مشاورتی بورڈ میں بھی شامل کیا گیا۔

لمز کی جانب سے جاری اعلامیے میں ان کا یہ بیان نقل کیا گیا: ’’عالمی منظرنامے پر پاکستان کا وقت آ پہنچا ہے۔‘‘

بزنس ریکارڈر کو انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ایسا کیا دیکھ رہے ہیں جس کی بنیاد پر انہوں نے یہ بات کہی تو ان کا جواب جذباتی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں جذبات سے بالاتر ہو کر اور انتہائی غیر جذباتی انداز میں بات کروں تو مجھے یہ کہنے پر اعدادوشمار مجبور کرتے ہیں۔

اعدادوشمار کیا کہتے ہیں؟

انہوں نے اپنی بات کا آغاز اسٹاک مارکیٹ سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 10 اگست 1996 کو جس دن میں پاکستان سے روانہ ہوا، کے ایس ای انڈیکس تقریباً 1,200 پوائنٹس پر تھا، چند پوائنٹس کا فرق ہو سکتا ہے۔ اب مستقبل قریب میں کے ایس ای 100 انڈیکس 200,000 پوائنٹس کی حد عبور کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق روپے کی قدر میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے اور منافع سمیت امریکی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس سے موازنہ کیا جائے تو پاکستانی اسٹاک مارکیٹ نے امریکی انڈیکس کے برابر یا اس سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ تاہم یہ اس بات پر منحصر ہے کہ موازنہ کس دن کیا جا رہا ہے۔

عامر حسین کا خیال ہے کہ حکومت کو اس کامیابی کو نمایاں طور پر اجاگر کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ملکی معیشت کی مضبوطی اور مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت کا ایک اہم مظاہرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت کہ سیکیورٹی چیلنجز، سیاسی رہنماؤں کے قتل، حکومتوں کی تبدیلیوں اور تباہ کن سیلابوں کے کئی برسوں کے باوجود مارکیٹ اس سنگِ میل تک پہنچی، اسے مزید قابلِ ذکر بناتی ہے۔ یہ ملک کی مشکلات کے مقابلے کی صلاحیت کا ایک ٹھوس اور اعدادوشمار پر مبنی پیمانہ پیش کرتی ہے۔

انہوں نے دوسرے اہم شعبے کے طور پر توانائی کا ذکر کیا، جسے وہ ملک کے سب سے بڑے ساختی مسائل میں سے ایک قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس کی وجہ سے درآمدات، قرض گیری اور ادائیگیوں کے توازن کے بحران جنم لیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان میں پیدا ہونے والی مجموعی بجلی کا تقریباً 25 فیصد حصہ شمسی توانائی کے ذرائع سے حاصل ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے یورپ کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو پاکستان چینی سولر پینلز کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔

بزنس ریکارڈر نے حال ہی میں رپورٹ کیا تھا کہ 2025 میں بجلی کی مجموعی پیداوار میں شمسی توانائی کا حصہ تقریباً 20 فیصد تھا، جبکہ چھتوں پر نصب شمسی نظاموں کو بھی شمار کرنے والے دیگر تخمینوں کے مطابق یہ شرح اس سے زیادہ ہے۔

تیسرا اہم شعبہ صنعت ہے۔ عامر حسین کے مطابق اب پاکستان میں تقریباً 30 کمپنیاں گاڑیاں اسمبل کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہوا بازی کے شعبے کی برآمدات بھی شروع ہو چکی ہیں، جبکہ بیٹریاں اگلا شعبہ ہوں گی۔

ان کے بقول ان میں سے کسی بھی پیش رفت کا انحصار اس بات پر نہیں کہ حکومت میں کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام چیزیں اپنے طور پر قدرتی انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں۔۔۔ یہی وہ ساختی بہتری ہے جو میرے خیال میں پاکستان حاصل کر رہا ہے۔ ان کا نتیجہ تھا میں پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی پُرامید ہوں۔

ایسی عالمی شناخت جو فائدہ پہنچائے

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کو امریکا جیسی عالمی شناخت حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا تو عامر حسین نے شناخت کی دو اقسام میں فرق واضح کیا۔ ایک شناخت جو محض خود اطمینانی کے لیے ہو اور دوسری جو حقیقتاً ملک کے لیے فوائد کا باعث بنے۔ انہوں نے کریڈٹ ریٹنگز، بانڈز کی قیمتوں کے تعین اور پاکستان کے پانڈا بانڈ کے اجرا کو دوسری قسم میں شمار کیا اور کہا کہ پاکستان نے ان شعبوں میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔

ان کی تجویز تھی کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے اعدادوشمار درست کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کی جی ڈی پی 420 سے 430 ملین ڈالر ہے، جبکہ ان کے مطابق غیر دستاویزی معیشت کا حجم 45 سے 80 فیصد تک ہو سکتا ہے۔ اس میں درمیانی تخمینے کو شامل کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ آپ (پاکستان) 750 ارب سے 900 ارب ڈالر کی معیشت کے حامل ملک ہو سکتے ہیں۔

اس معاملے کی عملی اہمیت بھی ہے۔ بعض سرمایہ کاری فنڈز کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ کسی ملک میں سرمایہ کاری سے پہلے اس کی معیشت کے حجم سے متعلق کم از کم مقررہ معیار پر پورا اترے۔ عامر حسین کے مطابق درست اعدادوشمار کی بنیاد پر پاکستان ایسی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا اہل ہو سکتا ہے جس کے لیے وہ بصورتِ دیگر اہل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے معاملے میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے، تاہم انہوں نے بھارتی تحقیق کا حوالہ بھی دیا جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے اپنے معاشی تخمینے بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہیں۔ عامر حسین نے بتایا کہ ان کے اعدادوشمار عالمی بینک، پاکستان کے وزیر خزانہ اور گھریلو اخراجات سے متعلق ترکیہ کے ایک ماہرِ تعلیم کی تحقیق پر مبنی ہیں۔

’میں برین ڈرین کے تصور پر یقین نہیں رکھتا‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستان کے لیے برین ڈرین (ذہین اور ہنرمند افراد کا ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہونا) کی اصطلاح درست ہے تو انہوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ بیرونِ ملک سے گفتگو کرنے والے اے آئی ماہر کا کہنا تھا کہ آپ کا ذہن اس وقت بھی پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ میرا ذہن بھی اسی وقت پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

ان کے مطابق، جس چیز میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ سرمایہ ملک میں آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی میرٹ کی بنیاد پر اپنے ملک میں اسی طرح سرمایہ کاری کرنی چاہیے جس طرح بیرونِ ملک مقیم بھارتی شہری کرتے ہیں۔

عامر حسین نے بتایا کہ وہ پاکستان کے بانڈز میں سرمایہ کار ہیں، جنہیں ان کے بقول میری رائے میں مارکیٹ کا بہترین بانڈ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا صرف اس لیے نہیں کہ میں پاکستان سے محبت کرتا ہوں بلکہ اس لیے بھی کہ انہیں ان بانڈز میں سرمایہ کاری پر اچھے منافع کی توقع ہے۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ان کا پیغام تھا کہ عالمی مواقع سے فائدہ اٹھائیں، لیکن یہ نہ بھولیں کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے۔

یہاں کاروبار اور ادارے کھڑے کرنے کے لیے کیا درکار ہے؟

پاکستانی کاروباری افراد اپنی کمپنیوں اور منصوبوں کے بارے میں سرمایہ کاروں کے سامنے پیشکش کرتے وقت کہاں غلطی کرتے ہیں؟ اس سوال پر عامر حسین نے کہا کہ دنیا بھر میں نئے کاروباری منصوبوں کی کامیابی کی شرح کم ہے، تاہم پاکستان کو کم لاگت کی صورت میں برتری حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں کسی کام کا آغاز کرنے اور کسی مصنوعات کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق بنانے کے نتیجے تک پہنچنے کی لاگت بہت کم ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ماہر چاہتے ہیں کہ پاکستانی کاروباری افراد ابتدا ہی سے عالمی منڈی کو مدنظر رکھ کر کام کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کاروباری افراد نے اوبر اور ڈور ڈیش جیسے کاروباری نمونوں کو مقامی سطح پر تو اپنایا، لیکن وہ ان نمونوں کو پاکستان سے باہر دیگر ممالک میں لے جانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کے تناظر میں پاکستان کو خدمات کے شعبے کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے اور یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ کیا گاہک معاہدوں کے تحت کام کرنے کے لیے سافٹ ویئر ڈیولپرز کی خدمات حاصل کرتے رہیں گے، جبکہ مصنوعی ذہانت اس میں سے بہت سا کام شاید کم لاگت اور زیادہ تیزی سے کر سکتی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کو اپنی مصنوعات اور برانڈز تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی برانڈز بہت کم ہیں جنہیں عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہو۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ان جیسی صلاحیت رکھنے والا کوئی شخص لاہور میں اسپارک کوگنیشن جیسی کمپنی قائم کرنا چاہے تو کن تبدیلیوں کی ضرورت ہوگی، تو عامر حسین نے کہا کہ ایسی کمپنی اسپارک کوگنیشن جیسی ہرگز نہیں ہوگی، کیونکہ کمپنیاں اپنے گرد موجود کاروباری اور معاون نظام (ایکو سسٹم) کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہیں۔

ان کے بقول پاکستان کے پاس صنعتی مشینری اور آلات کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جنہیں سینسرز اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے جدید بنایا جا سکتا ہے، اور یہ ایک حقیقی کاروباری منڈی ہے۔

لمز کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے ایک طالب علم کے لیے ان کا مشورہ اس بات سے شروع ہوتا ہے کہ اس کی مصنوعات کا خریدار کون ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی مصنوعات تیار کریں جس کے لیے کوئی گاہک پہلے دن سے آپ کو ڈالر میں ادائیگی کرے، چاہے وہ گاہک بیرونِ ملک ہی کیوں نہ ہو۔

ان کے مطابق اس سلسلے میں پہلی رکاوٹ مصنوعات کو گاہکوں تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف ٹیکساس (یو ٹی) کا ایک طالب علم اپنے سابق طلبہ کے نیٹ ورک کے ذریعے فارچیون 500 کمپنی کے کسی اعلیٰ عہدیدار سے رابطہ کر سکتا ہے اور ملاقات کا وقت حاصل کر سکتا ہے، کیونکہ پورا تعلیمی اور پیشہ ورانہ نظام بالواسطہ طور پر اس کی ضمانت دیتا ہے۔ اسی معیار کی مصنوعات رکھنے والے لمز کے طالب علم کے لیے ایسے افراد تک رسائی کا دائرہ نسبتاً محدود ہے، کیونکہ اس وقت امریکا یا یورپ میں لمز کے فارغ التحصیل افراد کی تعداد کم ہے جو اس نوعیت کے عہدوں پر فائز ہوں۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ صورتِ حال تبدیل ہو جائے گی۔‘‘

وہ عملی طور پر کیا کر رہے ہیں؟

عامر حسین لمز میں اپنے کردار کو مشاورتی نوعیت کا عہدہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس کردار کا مقصد براہِ راست کسی کام کا انتظام چلانے کے بجائے نئے مواقع کے دروازے کھولنا اور حکمتِ عملی کی تشکیل میں مدد دینا ہے۔

وہ یونیورسٹی کی اعلیٰ قیادت کو حکمتِ عملی، تعلیمی پروگراموں، تحقیقی اقدامات اور شراکت داریوں کے حوالے سے مشورے دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ انفرادی اساتذہ کو کسی متعلقہ شخص سے رابطہ کرانے، تحقیق کے لیے کسی اہم مسئلے کی نشاندہی کرنے یا مطلوبہ آلات فراہم کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشاورتی بورڈ کا رکن اپنے تجربے، نقطہ نظر اور روابط کے ذریعے ادارے کے لیے قدر پیدا کرتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں ان اور ان کی اہلیہ زیب حسین کی جانب سے قائم کردہ مشین لرننگ لیبارٹری کا پاکستان میں بھی کوئی متبادل قائم کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے تو عامر حسین نے کہا کہ پاکستان کی ضرورت مختلف ہے۔

ان کے مطابق اس عطیے کے بعد امریکی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن نے بھی 25 ملین ڈالر فراہم کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو جس چیز سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، وہ مصنوعی ذہانت کا عملی نفاذ اور اسے اپنانا ہے۔

انہوں نے پاکستانی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مصنوعی ذہانت کو اپنے کاموں میں استعمال کریں اور طلبہ کو عملی تجربہ حاصل کرنے کے مواقع دیں۔ ان کا مشورہ تھا کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت پر تحقیق کے لیے شاید تجارتی بنیادوں پر قائم لیبارٹری کا راستہ سب سے بہتر ہو۔ اس بارے میں جلد مزید بات ہوگی۔

اس کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ورلڈ کوانٹ فاؤنڈری یا گلوبل وینچر برج نے کسی پاکستانی کمپنی یا کاروباری شخصیت میں سرمایہ کاری کی ہے تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ انہوں نے فاؤنڈری کے سرمایہ کاری کے منصوبوں میں شامل ایک کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کی مثال دی، جو امریکا کی تیل اور گیس کی صنعت کا تجربہ کار ماہر اور پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں۔

انہوں نے مائنس ففٹین منصوبے کے بارے میں بھی بات کی، جس کی بنیاد زیب حسین نے رکھی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایک دہائی کے دوران لاہور کے موسمِ گرما کے اوسط درجہ حرارت میں 15 ڈگری فارن ہائیٹ کمی لانا ہے۔

عامر حسین کے مطابق اس ہدف کا تعین محض خواہش کی بنیاد پر نہیں کیا گیا بلکہ اسپین میں ہونے والی ایک تحقیق سے رہنمائی حاصل کی گئی، جس میں گرم تارکول سے بنی سڑکوں اور سایہ دار سرسبز مقامات کے درجہ حرارت میں 15 ڈگری تک فرق سامنے آیا تھا۔

لاہور میں اس منصوبے کے تحت نصب کیے گئے سینسرز سے مختلف علاقوں کے درجہ حرارت میں پانچ، چھ اور سات ڈگری تک فرق سامنے آیا ہے۔ اس منصوبے میں حصہ لینے والے افراد درخت لگانے یا اپنے مقامات پر درجہ حرارت ناپنے والے سینسرز نصب کرنے کے بدلے ایم 15 ٹوکن حاصل کرتے ہیں۔

عامر حسین نے وضاحت کی کہ اس ٹوکن کو مالیاتی آلے کے بجائے ایک انعامی پروگرام کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ یہ ایک تجربہ ہے جس کے تحت شرکا کو حاصل ہونے والے کریڈٹ کے بدلے شراکت دار اداروں کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات اور فوائد حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹوکن منصوبے کے وجود اور کامیابی کے لیے ناگزیر نہیں ہے۔

روبوٹس، کلاس رومز اور دفاع

تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے عامر حسین نے کہا کہ ٹیکنالوجی بنیادی طور پر ایک صابر استاد کی طرح کام کر سکتی ہے اور طلبہ کی رہنمائی کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اسے انسانوں کے درمیان براہِ راست رابطے اور میل جول کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی آپ کو بتاتا ہے کہ اس نے یہ سمجھ لیا ہے کہ مستقبل کی تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا کردار کیا ہوگا تو ایسا نہیں ہے، کسی نے بھی ابھی یہ بات پوری طرح نہیں سمجھی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی روبوٹکس کمپنی آرگن میکاٹرونکس پاکستان کی کم لاگت افرادی قوت پر مبنی مینوفیکچرنگ کے نظام سے کس طرح مطابقت رکھتی ہے تو انہوں نے عمومی انداز میں جواب دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں ایسے بے شمار کام ہیں جو انسانوں کو نہیں کرنے چاہئیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں وائرس پر تحقیق کرنے والی لیبارٹریوں، جوہری حادثات اور بم ناکارہ بنانے جیسے کاموں کی مثالیں دیں۔ ان کے مطابق حکومتیں خودکاری کے ذریعے حاصل ہونے والی کارکردگی اور بچت کے فوائد عوام تک پہنچا سکتی ہیں۔

تاہم انہوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا کہ پاکستان کے صنعت کاروں کو اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کرنے چاہئیں۔

نیٹو، کونسل آن فارن ریلیشنز اور سینٹر فار اے نیو امریکن سکیورٹی (سی این اے ایس) میں اپنے کردار اور مغربی دفاعی ٹیکنالوجی کے ساتھ پاکستان کے پیچیدہ تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے عامر حسین نے کہا کہ ایسے اداروں کا مقصد مختلف نقطہ ہائے نظر کا تبادلہ کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا کردار بندوق اٹھانا نہیں۔۔۔ میرا کردار معاملات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

ان جوابات میں کون سے سوالات ابھی تشنہ رہ گئے؟

عامر حسین نے پاکستان کے حق میں مجموعی معیشت کی بنیاد پر ایک مربوط مؤقف پیش کیا ہے اور اس بات کا بھی واضح اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی کاروباری افراد نے ابتدا ہی سے روابط اور نیٹ ورکنگ کے حوالے سے ایک نقصان دہ صورتِ حال کا سامنا کیا ہے۔ عامر حسین نے بتایا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کافی کاروبار کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ اس میں مزید اضافہ ہوگا، تاہم انٹرویو میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ کس نوعیت کے کاروبار کی بات کر رہے ہیں۔

اپنی جانب سے سرمایہ کاری اور عملی وابستگی کے حوالے سے ان کے جوابات میں کسی منصوبے کے بجائے چند معیار بیان کیے گئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں کسی منصوبے کے لیے سرمایہ، وقت یا اپنی کمپنی کے وسائل مختص کرنے پر آمادہ ہونے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہوگی تو انہوں نے چند شرائط گنوائیں۔ ان کے مطابق، وہ یہ دیکھیں گے کہ آیا وہ متعلقہ افراد کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، کیا وہ ایسے مقصد کے لیے پُرعزم ہیں جس پر وہ خود بھی یقین رکھتے ہوں، کیا وہ باصلاحیت اور حقیقت پسند ہیں اور کیا اس منصوبے کو بڑے پیمانے پر وسعت دی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر معاملہ مقصد میں ہم آہنگی، متعلقہ افراد کے معیار اور ایسے بڑے کام کرنے کا ہے جو معیشت پر نمایاں اثر ڈال سکیں۔

اگر سرمایہ واقعی وطن واپس آنا ہے، جیسا کہ ان کا مؤقف ہے، تو ان کے الفاظ اس بارے میں جلد مزید بات ہوگی پر نظر رکھنا اہم ہوگا۔