✕
کاروبار اور معیشت

پاکستان موجودہ یورو بانڈ قرض کی ٹوکنائزیشن پر غور کررہا ہے، وزیر خزانہ

  • مجوزہ منصوبے پر مشاورت کررہے، آر ایف پی جاری کرنے سے قبل کابینہ سے منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی، محمد اورنگزیب
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کو کہا کہ پاکستان اپنے موجودہ یورو بانڈ قرض کو ٹوکنائز کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے زیرِ اہتمام اور لمز کے اشتراک سے منعقدہ تقریب ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکاری کے مستقبل پر مکالمہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت اس مجوزہ منصوبے پر مشاورت کررہی ہے اور درخواست برائے تجاویز (آر ایف پی) جاری کرنے سے قبل کابینہ سے منظوری حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت وزارتِ خزانہ اور حکومتِ پاکستان اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ موجودہ یورو بانڈ قرض کی ٹوکنائزیشن کس طرح کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے مشاورت جاری ہے اور ہم اس معاملے پر کابینہ کی منظوری کے منتظر ہیں، جس کے بعد اس سلسلے میں درخواست برائے تجاویز (آر ایف پی) جاری کرنے کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

اس اقدام کا مقصد خودمختار قرضوں کے انتظام میں ٹوکنائزیشن کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لینا ہے جس سے ڈیجیٹل مالی لین دین اور سرمایہ کاری کے لیے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل مالیاتی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے قابلِ عمل تجاویز تیار کرنے میں فعال کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس کام کے لیے درکار صارفین سے روابط، عملی تجربہ اور رسک مینجمنٹ کی صلاحیتیں آپ کے پاس موجود ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کا جائزہ لینے کے لیے ضروری مہارت اور تجربہ حاصل کرنے میں سرمایہ کاری کریں اور متعلقہ ریگولیٹرز کے ساتھ ملکر ان سرگرمیوں پر کام کریں جن کی آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کے تحت اجازت حاصل ہے، یقیناً اس سلسلے میں اپنے اپنے بورڈز کی حمایت بھی حاصل کریں۔

پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے تحت ورچوئل اثاثوں کے لیے قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک قائم کردیا ہے جبکہ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کو ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی لائسنسنگ اور نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے بھی مشروط بنیادوں پر بینکوں کو پی وی اے آر اے سے لائسنس یافتہ کاروباری اداروں کو خدمات فراہم کرنے کی اجازت دینے کا راستہ فراہم کیا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ بینک مناسب جانچ پڑتال کریں اور صارفین کے فنڈز کو الگ رکھیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بینکوں پر اپنے فنڈز یا صارفین کے ڈپازٹس استعمال کرتے ہوئے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری، ان کی خرید و فروخت یا انہیں اپنے پاس رکھنے پر عائد پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل مالیاتی جدت کے ساتھ مناسب حفاظتی اقدامات، ریگولیٹری نگرانی اور سائبر سکیورٹی کے مؤثر انتظامات بھی ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمیں چوبیس گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے سائبر حملوں کا سامنا ہے، اس لیے کسی قسم کی غفلت یا لاپروائی کی گنجائش نہیں۔‘