✕
دنیا

سعودی اتحاد کا تیل سے مالا مال مشرقی خطے کے اوپر ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

  • سعودی قیادت کا اتحاد یمن کی حکومت کی حمایت کرتا ہے جبکہ حوثی باغیوں کا دارالحکومت صنعاء پر کنٹرول ہے
شائع اپ ڈیٹ

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف برسرپیکار سعودی قیادت کے اتحاد نے ہفتے کی علی الصباح دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے تیل سے مالا مال مشرقی علاقے کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک ڈرون کو روک کر تباہ کردیا جب کہ حوثی باغیوں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سعودی قیادت کا اتحاد یمن کی حکومت کی حمایت کرتا ہے جبکہ حوثی باغیوں کا دارالحکومت صنعاء پر کنٹرول ہے۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان سرحد پار جھڑپوں میں شدت آگئی ہے جس سے علاقائی تنازع میں ایک نیا محاذ کھلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

سعودی عرب کا مشرقی علاقہ ملک کا اہم اقتصادی مرکز ہے جہاں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حوثی باغیوں کی جانب سے متعدد حملے کیے جا چکے ہیں۔ اس علاقے میں سعودی عرب کے بیشتر تیل اور گیس کے ذخائر واقع ہیں، جبکہ عالمی تیل کمپنی سعودی آرامکو کا ہیڈکوارٹر بھی یہیں قائم ہے۔ اکتوبر کے اوائل میں ہونے والے ایک حملے میں آرامکو کے ہیڈکوارٹرز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔

اتحاد نے مزید بتایا کہ اس نے بعد ازاں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی طرف بھیجے گئے ایک اور ڈرون کو بھی فضا ہی میں روک کر تباہ کر دیا۔

اس سے قبل سعودی قیادت کے اتحاد نے جمعے کو بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے علاقے مدینہ منورہ کی فضائی حدود میں بھیجے گئے ایک ڈرون کو روک کر تباہ کردیا، تاہم حوثی باغیوں نے جمعہ کو کسی بھی قسم کے حملے کی تردید کی تھی۔

حوثی باغی اسلام کے دو مقدس ترین شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کے الزامات کی بارہا تردید کر چکے ہیں اور ان شہروں کی جانب ڈرون بھیجنے سے متعلق سعودی دعوؤں کو مسترد کرتے رہے ہیں۔