لیک تو سامنے آگئے، مگر احتساب نہیں ہوا
- پاکستان میں ہمیشہ ظاہر شدہ آمدن پر ٹیکس عائد ہوتا رہا ہے اور غیر واضح ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت کے معاملے میں سودے بازی ہوتی رہی، یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے
پاکستان نے ایک پوری دہائی بیرونِ ملک اثاثوں سے متعلق انکشافات کو سیاسی تماشے میں بدلنے میں گزار دی۔ نام سامنے آتے ہیں، ٹی وی اسٹوڈیوز میں شور مچ جاتا ہے، تحقیقات کے وعدے کیے جاتے اور عوام انتظار کرتے رہ جاتے ہیں۔
حکومتیں بدل جاتی ہیں، مگر غیر واضح ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت کے تحفظ کا نظام برقرار رہتا ہے۔ اکتوبر 2026 میں سوال اب یہ نہیں کہ آیا پاکستان ایسی معلومات حاصل کرسکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست پر قابض عناصر ان معلومات کو اپنے ہی طبقے کے مراعات یافتہ مفادات متاثر کرنے کی اجازت دیں گے؟
اس سلسلے کی کڑیاں 2015 میں سوئس لیکس، 2016 میں پاناما اور بہاماس لیکس، 2017 میں پیراڈائز لیکس، 2021 میں پنڈورا پیپرز اور 2022 میں سوئس سیکرٹس تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ الگ الگ انکشافات تھے، جن کا تعلق مختلف اداروں اور ادوار سے تھا۔ ان میں سامنے آنے والے پاکستانی روابط کا منظم انداز میں تحقیقات کا تقاضا تھا۔
بیرونِ ملک اثاثوں کی ملکیت بذاتِ خود کوئی جرم نہیں۔ اس کے لیے ٹیکس کی رہائشی حیثیت، اصل مستفید مالک، سرمائے کے قانونی ذرائع اور معلومات ظاہر کرنے سے متعلق قانونی تقاضوں کا تعین ضروری ہے۔ اسی وجہ سے سنجیدہ تحقیقات ناگزیر تھیں۔ کسی فہرست میں نام آجانے یا کسی سیاست دان کی تردید سے معاملہ طے نہیں ہوجاتا۔
پاناما لیکس نے پاکستان میں ایک غیر معمولی سیاسی اور عدالتی کشمکش کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو 2017 میں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں ان کی سزائیں 2023 میں کالعدم قرار دے دی گئیں۔ ان بریت کے فیصلوں کا احترام لازم ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ انکشافات میں سامنے آنے والے دیگر افراد کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟
کتنی تحقیقات میں ملکیت کو قانونی قرار دیا گیا؟ کتنے ٹیکس تخمینے اپیل کے مراحل میں برقرار رہے؟ حقیقتاً کتنا ٹیکس وصول کیا گیا اور جرائم سے حاصل ہونے والی کتنی رقم واپس لائی گئی؟ نوٹس جاری کرنا اور ٹیکس واجبات عائد کرنا، رقم وصول کرنے کے مترادف نہیں۔ پاکستان کو سنسنی خیز ناموں کی ایک اور فہرست کے بجائے قانون کے نفاذ سے متعلق ایسی مالیاتی تفصیلات درکار ہیں جن کی آزادانہ تصدیق اور عوامی آڈٹ ہوسکے۔
ہماری جانب سے اس معاملے پر نشاندہی پاناما لیکس سے بہت پہلے کی جاتی رہی ہے۔سوئس اکاؤنٹس کی تحقیقات (بزنس ریکارڈر، 15 اگست 2014) میں 200 ارب ڈالر سے متعلق غیر مصدقہ دعوؤں کو چیلنج کرتے ہوئے ٹھوس معلومات کی بنیاد پر باضابطہ درخواستیں دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
منی بجٹ اور غیر قانونی دولت (دی نیوز، 15 فروری 2015) میں غیر منصفانہ ٹیکسوں اور بیرونِ ملک دولت کے معاملے پر حکومتی بے عملی کا تقابل کیا گیا۔ اسی طرح پیراڈائز پیپرز: ایک اور لمحۂ بیداری (بزنس ریکارڈر، 12 نومبر 2017)،بدعنوان، ٹیکس چور، رازداری اور معلومات تک رسائی کا حق (بزنس ریکارڈر، 12 جنوری 2020) اورغیر ظاہر شدہ اور ناجائز اثاثوں کی واپسی (بزنس ریکارڈر، 26 فروری 2020) میں بار بار اسی ناکامی کی نشاندہی کی گئی کہ حکومتیں قانون کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان تک تو باآسانی پہنچ جاتی ہیں، لیکن جب دولت کو سیاسی تحفظ حاصل ہو تو ان کا عزم کمزور پڑ جاتا ہے۔
بعد ازاں بین الاقوامی تعاون کے فروغ نے معلومات کی عدم دستیابی کا حکومتی عذر مزید کمزور کردیا۔ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان نے 2018 میں مالیاتی کھاتوں سے متعلق معلومات کا خودکار تبادلہ شروع کیا۔
کامن رپورٹنگ اسٹینڈرڈ (سی آر ایس) انتظامی معاونت اور متعلقہ مجاز حکام کے درمیان طے شدہ انتظامات کے تحت کام کرتا ہے۔ اسے بیس ایروژن اینڈ پرافٹ شفٹنگ (بی ای پی ایس) کے کثیرالجہتی کنونشن (ایم ایل آئی) سے الگ سمجھنا ضروری ہے، جو یکم اپریل 2021 کو پاکستان کے لیے نافذ العمل ہوا۔
یہ کنونشن متعلقہ ٹیکس معاہدوں میں ترامیم کرتا ہے، جن میں معاہدوں کے غلط استعمال کی روک تھام کے اقدامات بھی شامل ہیں لیکن یہ بیرونِ ملک بینک اکاؤنٹس سے رقم واپس لانے کا کوئی عالمگیر نظام نہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اقدام خودبخود ایک روپیہ بھی وصول نہیں کرتا۔ حاصل ہونے والی معلومات کو ٹیکس گوشواروں، اثاثوں کی تفصیلات اور ملکیت کے ریکارڈ سے ملانا ضروری ہے۔
تضادات سامنے آنے پر قانون کے مطابق تحقیقات، ٹیکس کا تعین اور وصولی کرنا ہوتی ہے۔ جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کی واپسی کے لیے متعلقہ شواہد اور بین الاقوامی تعاون کے قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا بھی لازم ہے۔
بین الاقوامی معاہدوں میں شمولیت کا اعلان کرتے رہنا، مگر عملی نتائج پیش نہ کرنا، معلومات تک رسائی کو کامیابی قرار دینے کے مترادف ہے۔ پارلیمان کو مطالبہ کرنا چاہیے کہ موصول ہونے والی معلومات، استعمال کی گئی معلومات، قانوناً قابلِ وصول قرار دیے گئے واجبات اور حقیقتاً وصول کی گئی رقم کے الگ الگ اعداد و شمار پیش کیے جائیں۔ بصورتِ دیگر بین الاقوامی تعاون بیرونِ ملک دکھانے کے لیے ایک اور اعزاز بن کر رہ جائے گا جبکہ ملک کے اندر اس کا اصل مقصد بدستور پورا نہیں ہوسکے گا۔
سوئس لیکس کے معاملے کا الگ سے احتساب ہونا چاہیے۔ ہماری سابقہ تحقیقات میں ٹیکس معاہدے پر نظرثانی میں تاخیر اور پرانی معلومات کی بنیاد پر کارروائی کے مواقع ضائع ہونے پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ حکومت کو اب اس پورے عمل کی تفصیلات پارلیمان میں پیش کرنی چاہییں، جن میں مذاکرات، معاہدے کے مؤثر ہونے کی تاریخیں، بھیجی گئی درخواستیں، موصول ہونے والے جوابات اور نمٹائے گئے مقدمات کی تفصیلات شامل ہوں۔
بینکوں میں موجود تاریخی رقوم کو محض چوری کا پیسہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی ان رقوم میں کمی کو وطن واپسی کی کامیابی سمجھا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے یہ رقوم کسی دوسری جگہ منتقل ہوگئی ہوں۔ پاکستان نے حقیقتاً کیا حاصل کیا، اس کا تعین صرف تصدیق شدہ لین دین اور وصولیوں سے ہی ہوسکتا ہے۔
ٹیکس ایمنسٹی اسکیمیں حکومتی ترجیحات کو غیر معمولی وضاحت کے ساتھ ظاہر کرتی ہیں۔ 7 نومبر 2019 کو پارلیمان میں دی گئی بریفنگ، جس کی تفصیلات اسی وقت ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوئیں، کے مطابق 135 افراد نے 2018 کی اسکیم کے تحت تقریباً 62 ارب 33 کروڑ 50 لاکھ روپے کے اثاثے ظاہر کیے اور 2 ارب 89 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا۔ اسی طرح 56 افراد نے 2019 کی اسکیم کے تحت 31 ارب 78 کروڑ روپے کے اثاثے ظاہر کیے اور ایک ارب 69 کروڑ 40 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا۔
اس طرح مجموعی طور پر تقریباً 94 ارب 10 کروڑ روپے کے اثاثوں کو صرف 4 ارب 58 کروڑ 40 لاکھ روپے کے عوض قانونی حیثیت دی گئی، جو ظاہر کردہ اثاثوں کی مالیت کا تقریباً 4.9 فیصد بنتا ہے۔ یہ وہ معاملات تھے جن پر بیرونِ ملک سے حاصل ہونے والی معلومات پہلے ہی حکام تک پہنچنے کے تناظر میں بات ہورہی تھی۔ ریاست کو مؤثر احتساب کا قابلِ اعتماد نظام دکھانا چاہیے تھا، لیکن اس نے رعایتی شرائط پر معاملات طے کرنے کی پیشکش کردی۔
یہ تناسب اس بات کا حساب نہیں کہ ہر معاملے میں قانوناً کتنا ٹیکس وصول کیا جاسکتا تھا۔ ٹیکس کی رہائشی حیثیت، اثاثوں کے حصول کا سال، ٹیکس سے استثنیٰ، قانونی مدت اور دستیاب شواہد جیسے عوامل بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہماری تنقید کے لیے مبالغہ آمیز اندازوں کی ضرورت نہیں۔ دستاویزی شواہد میں سامنے آنے والی یہ رعایت ہی حکومتی طرزِ عمل پر سنگین سوالات اٹھانے کے لیے کافی ہے۔
تنخواہ دار طبقے کا کوئی فرد یہ کہہ کر تنخواہ سے کٹوتی کے معاملے پر سودے بازی نہیں کرسکتا کہ وہ آئندہ قانون کی پابندی کرے گا۔ لیکن اثاثے چھپانے والوں کو وہ سہولت فراہم کی گئی جو ان شہریوں کو حاصل نہیں تھی جن کی آمدن پہلے ہی ریاست کے ریکارڈ میں موجود تھی۔ اس سے ایک واضح پیغام ملا کہ قانون کی پابندی کرنے والوں پر فوری ٹیکس واجب الادا ہے، جبکہ اثاثے چھپانے والے بالآخر رعایت حاصل کرسکتے ہیں۔
ہم مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ 2018 اور 2019 کے اثاثے سفید کرنے کے انتظامات غیر آئینی تھے۔ قانون کی پابندی کرنے والے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک آئین کے آرٹیکل 25 سے متعلق سوالات اٹھاتا ہے، جبکہ ان اسکیموں میں رازداری کا پہلو آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت معلومات تک رسائی کے حق سے متعلق خدشات پیدا کرتا ہے۔
اسی طرح ایسے اقدامات کے لیے فنانس ایکٹ کا راستہ اختیار کرنا، جو منی بل کے آئینی دائرہ کار سے باہر ہوں، آرٹیکل 73 کے تحت ایک الگ آئینی اعتراض کو جنم دیتا ہے۔ یہ ہمارا آئینی مؤقف ہے، اسے اس عدالتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے جس میں دونوں اسکیموں کو حتمی طور پر غیر مؤثر قرار دیا گیا ہو۔
کوئی حکومت محض اپنی ترجیحی قانون سازی کے تحت جمع ہونے والے محصولات کے اعداد و شمار پیش کرکے ان اعتراضات کا جواب نہیں دے سکتی۔
وزیراعظم کی حیثیت سے عمران خان بھی اس امتحان میں ناکام رہے۔ ان کی حکومت کو یہ موقع ملا تھا کہ وہ بدعنوانی کے خلاف اپنے وعدوں کو بلاامتیاز قانون کے نفاذ میں تبدیل کرتی لیکن پاکستان تحریک انصاف نے 2019 میں خود بھی ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی، حالانکہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے وہ ایسی رعایتوں کی مخالفت کرتی رہی تھی۔
اس کے بعد پنڈورا پیپرز میں عمران خان کے سیاسی حلقے سے وابستہ افراد کے بیرونِ ملک مالیاتی ڈھانچے سامنے آئے۔ تاہم اس تحقیقات میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا تھا کہ خود عمران خان کی بھی آف شور کمپنیاں تھیں۔ ان کی ذمہ داری بطور سربراہِ حکومت تھی کہ حقائق سامنے لاتے، اپنے اتحادیوں اور مخالفین کے لیے یکساں معیار اپناتے اور قابلِ اعتماد نتائج عوام کے سامنے رکھتے۔
سابق حکمرانوں کی بدعنوانی کی مذمت، ان کی اپنی حکومت کی مالیاتی رعایتوں کو دہرانے کا جواز نہیں بن سکتی تھی۔
بے نامی ٹرانزیکشنز (ممانعت) ایکٹ 2017 بھی حکومت کے لیے ایک اور امتحان تھا۔ اس قانون کے قواعد مارچ 2019 میں جاری کیے گئے۔ اس کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے غیر ظاہر شدہ بے نامی جائیدادوں کے مالکان کو دعوت دی کہ وہ کارروائی شروع ہونے سے پہلے 2019 کی اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں۔
یہ ایک ادارہ جاتی تضاد تھا کہ ایک طرف چھپائی گئی ملکیت کا اصل مالک سامنے لانے کے لیے قانونی نظام بنایا جارہا تھا، جبکہ دوسری طرف اس قانون کے نتائج سے بچنے کا راستہ بھی مشتہر کیا جارہا تھا۔ اصل مالک کی شناخت کے لیے بنائے گئے قانون کو ایک اور ایمنسٹی اسکیم کی تشہیر کا ذریعہ بنا دیا گیا۔
تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ بے نامی جائیدادوں کے خلاف کارروائی سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ ایف بی آر کے مطابق 7 ارب 40 کروڑ روپے مالیت کے 27 ریفرنسز کی تصدیق کی گئی۔ ایک الگ اعلامیے میں 187 سے زائد ریفرنسز اور اسلام آباد کمشنریٹ کی جانب سے غیر منقولہ جائیدادوں کی پہلی ضبطی کا ذکر کیا گیا، جس کے تحت دو پلاٹ وفاقی حکومت کے نام منتقل کیے گئے۔
یہ پیش رفت اکتوبر 2026 تک کے مجموعی اعداد و شمار نہیں بلکہ رپورٹ کیے گئے اہم مراحل ہیں۔ تاہم ان سے شفافیت کا مطالبہ مزید مضبوط ہوتا ہے کہ کتنے ریفرنسز کے نتیجے میں حتمی ضبطگیاں ہوئیں، کتنی مالیت حقیقتاً وصول کی گئی اور کتنے اصل مستفید مالکان کو کامیابی سے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا؟
موجودہ حکمران اشرافیہ عمران خان کی ناکامی کو اپنی بریت کا جواز نہیں بنا سکتی۔ ان کی دولت سے متعلق عوامی سطح پر موجود غیر حل شدہ سوالات کی بھی اسی معیار پر جانچ ہونی چاہیے۔ اسی طرح اثاثوں کی تفصیلات جمع کرادینا بھی ان میں درج ہر چیز کے قانونی ذرائع سے حاصل ہونے کا ثبوت نہیں۔
الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ارکانِ پارلیمان کے لیے ہر سال اپنے، اپنے شریکِ حیات اور زیرِ کفالت بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا لازم ہے۔ اگر ان تفصیلات میں جان بوجھ کر اہم غلط معلومات دی جائیں تو قانون میں مقررہ 120 روزہ مدت کے اندر بدعنوان طرزِ عمل کی کارروائی شروع کی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے بروقت جانچ پڑتال ضروری ہے۔ فارم معمول کے مطابق وصول کرلینا اور پھر قانونی مدت گزر جانے دینا، حقیقی چھان بین کا متبادل نہیں ہوسکتا۔
الیکشن کمیشن اور ایف بی آر کو قانونی طریقہ کار کے تحت اثاثوں کے گوشواروں کا باہمی موازنہ کرنا چاہیے، غیر واضح تبدیلیوں کا جائزہ لینا چاہیے اور تضادات سامنے آنے پر متعلقہ حکام کو کارروائی کے لیے بھیجنا چاہیے۔ جہاں اثاثوں کی قانونی حیثیت ثابت ہوجائے، وہاں اس نتیجے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ لیکن جہاں اثاثے چھپانے یا غیر قانونی ذرائع سے حاصل کرنے کا ثبوت ملے، وہاں کسی کو اس کے سیاسی عہدے کی بنیاد پر تحفظ نہیں ملنا چاہیے۔
نہ بیرونِ ملک جائیداد کی ملکیت اور نہ ہی خاندانی تعلق کسی کو مجرم ثابت کرتا ہے۔ اسی طرح انتخابی کامیابی یا عوامی عہدہ بھی دولت کے ذرائع سے متعلق غائب کڑی فراہم نہیں کرتا۔ حکومتی ارکان، اپوزیشن اور ہر بااثر ادارے کے لیے شواہد کا یکساں معیار ہونا چاہیے۔
گنار مائرڈال نے اپنی کتاب ایشین ڈراما میں کمزور ریاست کے جس تصور کا تجزیہ کیا، وہ اس صورتِ حال کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس تصور کے مطابق قوانین تو موجود ہوتے ہیں، لیکن ان کا نفاذ طاقتور مفادات کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں قانون سازوں، قانون کے محافظوں اور قانون توڑنے والوں کا گٹھ جوڑ ایسے نظام کی عکاسی کرتا ہے جس میں احتساب کے قوانین بنانے والے ہی ان پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
اداروں کی کمزوری ان لوگوں کے لیے منافع بخش بن جاتی ہے جو اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے قانونی نتائج سے بچنے کے استثنیٰ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کی قیمت صرف محصولات کے نقصان تک محدود نہیں۔ ہر ترجیحی تصفیہ دیانت دار کاروباری طبقے کو یہ پیغام دیتا ہے کہ قانون کی کم پابندی کرنے والے ان کے حریفوں کو بہتر رعایتیں مل سکتی ہیں۔ اس سے مستقبل میں قانون کے نفاذ کی کسی بھی مہم کی ساکھ کمزور ہوتی ہے اور لوگوں کو یہ امید بندھتی ہے کہ شاید آئندہ بھی کوئی رعایتی اسکیم آجائے گی۔
عوام سے سرکاری خدمات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیکس طلب کیا جاتا ہے۔ انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ ریاست چھپائی گئی دولت کے خلاف اپنے دعووں پر بار بار سمجھوتا کیوں کرتی ہے، جبکہ ان شہریوں سے بروقت ادائیگی کا تقاضا کیا جاتا ہے جن تک باآسانی رسائی حاصل ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ پارلیمان میں ہر بڑے انکشاف سے متعلق مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔ ان میں تحقیقات، مقدمات کے اختتام، وصولیوں، قانونی کارروائیوں اور تاخیر کی وجوہات کے مجموعی اعداد و شمار شامل ہوں، البتہ قانونی رازداری کا خیال رکھا جائے۔ بے نامی جائیدادوں کے حوالے سے کارکردگی بتاتے ہوئے جائیداد منجمد کرنے، حتمی ضبطگی اور حقیقتاً حاصل ہونے والی آمدن میں واضح فرق رکھا جائے۔
اثاثوں کے گوشواروں کو محض وصول کرنا کافی نہیں، ان کی تصدیق بھی ضروری ہے۔ مستقبل میں ایسی ایمنسٹی اسکیموں کو مسترد کیا جانا چاہیے اور سابقہ اسکیموں کے خلاف آئینی اعتراضات کا فیصلہ واضح طور پر ہونا چاہیے۔
حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود دولت کے ذرائع کا آزادانہ جائزہ جاری رہنا چاہیے۔ پاکستان ہمیشہ ظاہر شدہ آمدن پر ٹیکس عائد کرتا رہے اور غیر واضح ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت کے معاملے میں سودے بازی کرتا رہے، یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔ پاناما لیکس کے ایک عشرے بعد بھی اصل اسکینڈل یہی ہے کہ ریاست دولت چھپانے والوں کے ساتھ سمجھوتا کرنے پر آمادہ ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026