اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں کم از کم 64 افراد ہلاک
- اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں کم از کم 64 افراد ہلاک، رواں سال ملک میں یہ دوسرا مہلک ریل حادثہ ہے، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں
اسپین میں بدھ کے روز امدادی کارکن جائے حادثہ پر ملبے کے اندر مزید لاشوں کی تلاش میں مصروف رہے؛ یہاں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 64 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ اس سال ملک میں پیش آنے والا دوسرا ہلاکت خیز ریلوے حادثہ ہے۔
حادثے کے بعد ٹرینوں سے نکالے گئے مسافر جائے وقوعہ کے قریب سڑک پر چلتے دکھائی دیے۔ ان میں سے بعض کے کپڑوں پر خون لگا تھا یا زخموں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، جبکہ دیگر مسافر اپنے سوٹ کیس گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ رضاکار انہیں پانی فراہم کر رہے تھے، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ قریبی قصبوں کے لوگوں نے عطیہ کیا ہے۔
حادثے کے مقام پر سیکڑوں ایمبولینسیں، میتیں لے جانے والی گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر کھڑے تھے۔ ایک ٹرین کی کئی بوگیاں پٹری کے بلند حصے پر موجود تھیں، جبکہ اس کے نیچے ڈھلوان پر مڑا ہوا دھاتی ڈھانچا، ٹوٹے ہوئے پینل اور دیگر ملبہ بکھرا ہوا تھا۔ کم از کم تین بوگیاں پٹری سے نیچے جا گری تھیں۔
حادثے میں شامل ایک ٹرین کی آخری بوگی میں اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ سفر کرنے والے میگوئل نے ریڈیو کوپے سے گفتگو کرتے ہوئے حادثے کے لمحے کی تفصیلات بتائیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے ایک زوردار گرج سنی، پھر ایک انتہائی شدید دھماکے جیسی آواز آئی جو 10 سیکنڈ تک جاری رہی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ٹرین پٹری سے اترنے والی ہو۔ دائیں جانب کی کھڑکی سے ہمیں تباہ شدہ ٹرین دکھائی دے رہی تھی۔‘‘
حادثے سے آگاہ ایک شخص نے بتایا کہ نجی کنسورشیم اریو کی چلائی جانے والی ٹرین سگنل میں خرابی کے باعث انفراسٹرکچر مینیجر اے ڈی آئی ایف کی ہدایت پر ٹولیڈو کے قریب رک گئی تھی۔
ان کے مطابق، اس کے بعد رینفے کی چلائی جانے والی ٹرین نے تیز رفتاری سے کھڑی ٹرین کو ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں دونوں ٹرینوں کی کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔
رینفے نے ایک بیان میں کہا کہ سفر جاری رکھنے کی اجازت ملنے کے بعد اس کی ٹرین اریو کی اس ٹرین سے ٹکرا گئی جو ’’نامعلوم وجوہات‘‘ کی بنا پر کھڑی تھی۔
رینفے نے کہا، ’’رینفے کی ٹرین ہدایت کے مطابق آگے بڑھتی رہی، جس کے دوران تصادم ہو گیا۔ واقعات کی درست ترتیب، ریل ٹریفک کے حالات اور ٹکر کے وقت کی صورتِ حال کا تعین تحقیقات کے ذریعے کیا جائے گا۔‘‘
رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے رابطہ کرنے پر اریو یا اے ڈی آئی ایف کی طرف سے فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔