عدلیہ کی آزادی سے متعلق خدشات، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ دے دیا
- جسٹس محسن کیانی کا استعفیٰ اپریل 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ تبادلے کے چند ماہ بعد سامنے آیا، جوڈیشل کمیشن کے اکثریتی فیصلے کے تحت تبادلے سے قبل وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی سینیارٹی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھے، صدر مملکت کو استعفیٰ ارسال
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے صحت کے مسائل، ذاتی وجوہات اور 26 ویں و 27 ویں آئینی ترامیم کے عدلیہ کی آزادی پر اثرات سے متعلق تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے نام اپنے استعفے میں جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ ان ترامیم نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کو متاثر کیا ہے، جبکہ ججوں کی تقرری اور تبادلوں میں انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔
فاضل جج نے کہا کہ اپنے عدالتی کیریئر کے دوران انہوں نے 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے۔ ان کا مقصد آئین کی بالادستی برقرار رکھنا، بنیادی حقوق کا تحفظ اور کسی خوف یا جانبداری کے بغیر انصاف فراہم کرنا تھا۔
انہوں نے عام سائلین کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ضروریات کو بتدریج نظرانداز کیا جا رہا ہے اور عدالتی کارروائیوں کی منصفانہ حیثیت پر عوامی اعتماد متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ میرا ضمیر مجھے بینچ پر مزید کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی منصب کو آزادی، آئین سے وفاداری اور انسانی وقار کے تحفظ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ وہ عوام کی خدمت جاری رکھنے، لوگوں کے حقوق کے تحفظ اور قانونی آگاہی کے فروغ کے لیے دوبارہ وکالت کے شعبے میں واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ان کا استعفیٰ اپریل 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) سے لاہور ہائی کورٹ تبادلے کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ یہ تبادلہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اکثریتی فیصلے کے بعد کیا گیا تھا۔ تبادلے سے قبل وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین ججوں میں شامل اور سینیارٹی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھے۔
رپورٹس کے مطابق لاہور ہائی کورٹ تبادلے کے بعد جسٹس محسن کیانی کو سینیارٹی فہرست میں 12 ویں نمبر پر رکھا گیا۔ انہوں نے ہائی کورٹس کے درمیان ججوں کے تبادلوں کو بھی چیلنج کیا تھا اور عدالتی انتظامی امور پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان چھ ججوں میں شامل تھے جنہوں نے مارچ 2024 میں سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر عدالتی امور میں انٹیلی جنس اداروں کی مبینہ مداخلت کی نشاندہی کی تھی۔
حال ہی میں نظرثانی شدہ ڈیوٹی روسٹر کے تحت جسٹس محسن کیانی کو لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی رجسٹری میں ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، جہاں انہیں سنگل بینچ کی سربراہی کرنا تھی۔
انہیں 23 دسمبر 2015 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا اور ان کی ریٹائرمنٹ 11 فروری 2032 کو ہونا تھی۔
ان کے استعفے کے ساتھ ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط ان کا عدالتی سفر اختتام پذیر ہوگیا۔