پاکستان مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لیے انڈونیشیائی کمپنی سے معاہدے کے قریب پہنچ گیا
- تین ویکسین مقامی طور پر تیار ہوں گی، جس کے لیے انڈونیشیائی دوا ساز کمپنیوں سے ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کی جائے گی ، وزیر صحت مصطفی کمال
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان ملک میں ویکسین تیار کرنے کا پلانٹ قائم کرنے کے لیے انڈونیشیا کی ایک دوا ساز کمپنی سے معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے، جس کے تحت ابتدائی طور پر تین ویکسین مقامی سطح پر تیار کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد حفاظتی ٹیکوں میں استعمال ہونے والی ادویات کے معاملے میں خود کفالت حاصل کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے گزشتہ ہفتے کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ 24 ویں فارما ایشیا 2026 نمائش کے دورے کے دوران بتایا کہ پاکستان نے عالمی دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ 40 کروڑ ڈالر کے معاہدے بھی کیے ہیں، جن کے تحت ملک میں ادویات کی تیاری کے لیے فعال دواسازی اجزا (اے پی آئیز) یعنی خام مال مقامی سطح پر تیار کیا جائے گا۔
وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کی کمپنی بائیو فارما کے ساتھ ملک میں ابتدائی تین ویکسین کی مقامی تیاری شروع کرنے کے لیے معاہدہ کرنے والا ہے۔
ان کے مطابق انڈونیشیا کے وزیر صحت بودی گنادی صادقین پاکستان کے ساتھ ویکسین کی مقامی تیاری میں بامعنی تعاون بڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ حال ہی میں انڈونیشیا کی ایک ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا اور ملک میں ویکسین کی مقامی تیاری کے انتظامات کا معائنہ مکمل کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جلد ہی حفاظتی ٹیکوں کی ادویات خود تیار کرنے کے قابل ہوجائے گا اور پیداوار بھی جلد شروع کردی جائے گی۔
پاکستان اس وقت انڈونیشیا کی سرکاری کمپنی بائیو فارما سے 13 ویکسین درآمد کررہا ہے۔
وزیر صحت کے مطابق ان میں سے تین ویکسین پاکستان میں مقامی طور پر تیار کی جائیں گی، جس کے لیے انڈونیشیائی دوا ساز کمپنیوں سے ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں پاکستان کی پہلی ویکسین پالیسی تیار کی ہے اور وفاقی کابینہ نے اس کی تقریباً منظوری دے دی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید بتایا کہ تقریباً دو ماہ قبل اسلام آباد میں منعقدہ کاروبار سے کاروبار (بی ٹو بی) کانفرنس کے دوران پاکستان کے صحت کے نظام کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے عالمی کمپنیوں کے ساتھ آٹھ معاہدے کیے گئے۔ ان کے تحت مجموعی طور پر 65 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ کانفرنس میں 180 چینی اور 320 پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی۔
وزیر صحت کے مطابق اس مجموعی سرمایہ کاری میں سے 40 کروڑ ڈالر کے معاہدے فعال دواسازی اجزا کی مقامی تیاری کے لیے پیداواری یونٹس قائم کرنے سے متعلق ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ باقاعدہ معاہدے ہیں، محض مفاہمت کی یادداشتیں نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فعال دواسازی اجزا کی مقامی تیاری کے یونٹس ڈیڑھ سے دو سال کے دوران مرحلہ وار کام شروع کردیں گے۔
25 کروڑ سے زائد آبادی اور 700 سے زیادہ دوا ساز کمپنیوں کے باوجود پاکستان ادویات کی مقامی تیاری کے لیے درآمدی فعال دواسازی اجزا پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، تاکہ مختلف بیماریوں کا علاج کیا جاسکے۔
پاکستان کا مقصد ویکسین کی تیاری میں خود کفالت حاصل کرکے ممکنہ طبی اور مالی بحران سے بچنا بھی ہے، کیونکہ عالمی شراکت داروں کی جانب سے رعایتی نرخوں پر بوسٹر ویکسین کی فراہمی 2031 تک ختم ہونے کی توقع ہے۔
اس وقت پاکستان کو گاوی، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سمیت عالمی شراکت داروں کے ذریعے رعایتی نرخوں پر ویکسین فراہم کی جاتی ہیں۔
پاکستان اپنے قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے تحت بچوں کو 13 بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مفت ویکسین فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام سے تقریباً 25 کروڑ افراد کی آبادی مستفید ہوتی ہے، جبکہ ملک میں ہر سال تقریباً 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔
اس وقت پاکستان ویکسین کی خریداری کے سالانہ 40 سے 50 کروڑ ڈالر کے تخمینہ شدہ اخراجات کا تقریباً 51 فیصد خود برداشت کرتا ہے، جبکہ باقی 49 فیصد عالمی شراکت دار فراہم کرتے ہیں۔ تاہم یہ معاونت بتدریج کم ہوتی جائے گی اور 2030-31 تک پاکستان کو ویکسین کی خریداری کے تمام اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس سے قبل کہا تھا کہ 2031 تک پاکستان کو ویکسین مکمل طور پر اپنے وسائل سے خریدنا پڑیں گی اور اس وقت ان کی سالانہ لاگت بڑھ کر تقریباً 1.2 ارب ڈالر ہونے کا تخمینہ ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026