200 یونٹس بجلی کا رعایتی ٹیرف ختم کرنے کی تیاری، نیا ہدفی سبسڈی نظام متعارف کرایا جائیگا
- اس نظام کو تبدیل کرنے کے لیے تیزی سے پیش رفت جاری ہے، وزیر توانائی
وفاقی حکومت موجودہ بجلی کے ٹیرف نظام کی جگہ ایک نیا ہدفی سبسڈی نظام متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت 200 یونٹس سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر اضافی بلنگ کے بوجھ کو ختم کرتے ہوئے مستحق صارفین کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے منگل کو سینیٹ میں یہ بات بتائی۔
انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عابد شیر علی کی جانب سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام کو تبدیل کرنے کے لیے تیزی سے پیش رفت جاری ہے، جس کے تحت اگر کوئی صارف 200 یونٹس سے صرف ایک یونٹ بھی زیادہ بجلی استعمال کرے تو اسے اگلے چھ ماہ تک زیادہ ٹیرف ادا کرنا پڑتا ہے۔
عابد شیر علی نے اپنے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے وزیر توانائی کی توجہ بجلی کے سلیب پر مبنی اضافی ٹیرف اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی بلنگ کے طریقہ کار کی جانب مبذول کرائی، جس سے صارفین پر غیر معمولی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ موجودہ نظام کے تحت 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے محفوظ صارفین کو رعایت دی جاتی ہے، تاہم متعدد ایسے مالی طور پر مستحکم افراد بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جو اپنے گھروں میں سولر سسٹم نصب کرچکے ہیں اور قومی گرڈ سے 200 یونٹس سے کم بجلی حاصل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماہانہ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 2 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے بیشتر سولر سسٹم استعمال کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے تمام صارفین کو یکساں رعایت دینا مناسب نہیں، کیونکہ اس زمرے میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو اس ریلیف کے مستحق نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں ہدفی سبسڈی کا نظام متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے، تاکہ 200 یونٹس تک رعایتی ٹیرف کا فائدہ صرف مستحق صارفین کو ملے۔ اس مقصد کے لیے تمام صارفین کو یکساں ریلیف دینے کا موجودہ طریقہ ختم کردیا جائے گا۔
اویس لغاری کے مطابق رعایتی سلیب کی حد 200 سے بڑھا کر 250 یونٹس کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اس سے قبل عابد شیر علی نے کہا کہ موجودہ بجلی ٹیرف سلیب کا نظام غیر منصفانہ اور انتہائی ظالمانہ ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی صارف کی ماہانہ کھپت 200 سے بڑھ کر 201 یونٹس ہوجائے تو فی یونٹ ٹیرف 15 روپے سے بڑھ کر 30 روپے ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں غریب صارف کو بھاری بل ادا کرنا پڑتا ہے۔
دریں اثنا، سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران نائب وزیراعظم اور قائد ایوان اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے چین کی قیادت میں قائم عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں شفافیت، کشادگی اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔
سینیٹ کا اجلاس جمعرات تک ملتوی کردیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026