مستحکم روپیہ شرح سود میں اضافے کا امکان بڑھا رہا ہے
- گزشتہ اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کے تین ارکان نے شرحِ سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافے کے حق میں ووٹ دیا تھا
پاکستان نے تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کو توقعات سے بہتر انداز میں برداشت کیا ہے۔ لیکن جیسے جیسے عالمی مالیاتی حالات سخت ہو رہے ہیں، کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف سیاسی مزاحمت اسٹیٹ بینک کے لیے شرحِ سود برقرار رکھنے کی گنجائش محدود کر رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان آج اپنی مانیٹری پالیسی کے فیصلے کا اعلان کرے گا۔ گزشتہ اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کے تین ارکان نے شرحِ سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافے کے حق میں ووٹ دیا تھا، جبکہ دیگر سات ارکان نے شرح برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کالم میں صبر سے کام لینے کی دلیل دی گئی تھی کہ پہلے دیکھا جائے کہ جنگ توانائی کی قیمتوں، مہنگائی اور بیرونی کھاتوں کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔
چھ ہفتے گزرنے کے بعد غیر یقینی صورت حال میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔ مارکیٹ کو شرحِ سود میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع ہے۔ اس کے باوجود پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے حق میں معقول دلائل موجود ہیں۔ نہ مالیاتی کھاتوں کو اور نہ ہی بیرونی کھاتوں کو کسی بڑے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ اکتوبر میں مہنگائی کی شرح میں کمی متوقع ہے۔ شرحِ سود سخت کرنے کے حق میں زیادہ مضبوط دلیل کہیں اور موجود ہے: بیرونِ ملک مالیاتی حالات میں سختی کے دوران روپے کی قدر مستحکم رکھنے کا کام مسلسل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
پاکستان نے رواں سال تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کو غیر معمولی طور پر بہتر انداز میں برداشت کیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کا بوجھ بڑی حد تک صارفین تک منتقل کیا گیا ہے، جس سے خصوصاً شہری مراکز میں طلب کم ہوئی ہے۔ ایل این جی کی درآمدات میں کمی نے زرمبادلہ کے بھاری اخراجات سے بچنے میں مدد دی ہے۔ ترسیلاتِ زر اور خدمات کی برآمدات نے درآمدات میں اضافے کے اثرات کم کرنے میں مدد کی، جس سے کرنٹ اکائونٹ کو قابلِ انتظام رکھنے میں مدد ملی۔ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، جبکہ ایک سال پہلے یہ 75 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا۔ توانائی کی قیمتوں کے جھٹکے کی شدت کو دیکھتے ہوئے یہ بگاڑ معمولی ہے۔
بیرونی مالی اعانت کے حالات بھی بہتر ہوئے ہیں۔ پاکستان کو بین الاقوامی قرض مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی حاصل ہو گئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے قرضوں کی تجدید سے متعلق خدشات کم ہو رہے ہیں۔ مالیاتی کارکردگی بھی مقررہ اہداف سے بہتر رہی ہے۔ یہ حفاظتی گنجائشیں حکام کو تیل کی قیمتوں میں سابقہ اتار چڑھاؤ کے ادوار کے مقابلے میں کہیں زیادہ سہولت فراہم کرتی ہیں۔
تاہم اکتوبر اپنے ساتھ نئی تشویشیں لے کر آیا ہے۔ یہ تحریر لکھے جانے کے وقت برینٹ خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے زیادہ تھی، جبکہ مارکیٹ میں امریکا اور ایران کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کرنے کے خدشات بڑھ رہے تھے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ماہانہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہنے کا امکان ہے۔ ایران کے ساتھ تجارت میں رکاوٹوں کے باعث ایل پی جی کی مارکیٹ میں پہلے ہی قلت اور قیمتوں میں تیز اضافے کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ موسمِ سرما قریب آنے کے ساتھ ایل پی جی کی محدود رسد اور ایل این جی کی کم دستیابی نہ صرف قیمتوں میں اضافے بلکہ قلت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
مہنگائی کا منظرنامہ اب بھی غیر یقینی ہے۔ اپریل سے ستمبر کے دوران عمومی مہنگائی کی اوسط شرح 10.7 فیصد رہی۔ اگر تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس برقرار رہتی ہے تو مارچ تک مہنگائی 9 سے 11 فیصد کی حد میں رہ سکتی ہے، جس کے بعد سازگار بنیادی اثرات کے باعث مالی سال کی آخری سہ ماہی میں یہ کم ہو کر تقریباً 7 فیصد تک آ سکتی ہے۔ اگر تنازع طویل عرصے تک جاری رہتا ہے تو یہ صورت حال تبدیل ہو جائے گی۔ اسی طرح، اگر لڑائی ختم ہو جاتی ہے اور توانائی کی قیمتیں واپس نیچے آتی ہیں تو مہنگائی میں کہیں زیادہ تیزی سے کمی ہو سکتی ہے۔
11.5 فیصد پر پالیسی ریٹ اب بھی مہنگائی کی موجودہ عمومی شرح سے زیادہ ہے۔ اس سے کچھ اطمینان ضرور ملتا ہے، اگرچہ دونوں کے درمیان فرق زیادہ نہیں اور صرف تازہ ترین اعداد و شمار کے بجائے مہنگائی سے متعلق توقعات زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ شرحِ سود بڑھانے کے حق میں دلیل یہ ہے کہ توانائی کی بلند قیمتیں وسیع تر قیمتوں اور اجرتوں سے متعلق توقعات میں مستقل طور پر شامل ہو سکتی ہیں، نہ کہ صرف تیل کی قیمتوں کے ابتدائی جھٹکے کی بنیاد پر۔
درآمدات کی ساخت ایک زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق، پہلی سہ ماہی میں غیر تیل درآمدات میں 15 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پٹرولیم درآمدات میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کا بڑا حصہ گاڑیوں، مشینری اور توانائی کے علاوہ دیگر اشیا سے متعلق تھا۔ اس میں سے کچھ اضافہ سرمایہ کاری اور کھپت میں بحالی کی عکاسی کرتا ہے، اگرچہ توانائی کی بلند لاگت آنے والے مہینوں میں شہری طلب کو کم کر سکتی ہے۔ دیہی طلب نسبتاً زیادہ مستحکم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ زرعی اجناس کی بلند قیمتیں کاشت کاروں کی آمدنی کو سہارا دیتی ہیں۔
ان اعداد و شمار میں ایسی کوئی بات نہیں جو فوری بیرونی بحران کی نشاندہی کرتی ہو۔ لیکن پاکستان کو درپیش خطرے کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں کا جھٹکا مہنگائی کو بلند رکھنے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے، جس کے باعث کئی بڑے مرکزی بینک شرحِ سود بڑھا رہے ہیں یا ایسا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگر پاکستان شرحِ سود برقرار رکھتا ہے، جبکہ دیگر ممالک میں قرض لینے کی لاگت بڑھتی ہے، تو روپے میں سرمایہ کاری پر ملنے والے منافع کا تقابلی فائدہ کم ہو جاتا ہے۔ اس سے کرنسی پر دباؤ لازمی طور پر پیدا نہیں ہوتا، لیکن شرحِ مبادلہ سے متعلق توقعات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ملکی پالیسی کا معاملہ مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ تقریباً 109 تک پہنچ گئی ہے، جو آٹھ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ چونکہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح اس کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے مقابلے میں زیادہ ہے اور روپے کی برائے نام شرحِ مبادلہ میں بمشکل تبدیلی آئی ہے، اس لیے حقیقی معنوں میں روپے کی قدر بڑھ رہی ہے۔ اس سے بتدریج برآمدات کی مسابقتی صلاحیت کم ہوتی ہے اور درآمدات نسبتاً زیادہ پرکشش ہو جاتی ہیں۔ یہ اشاریہ کرنسی کی قدر میں عدم مطابقت کی درست مقدار کا تعین نہیں کرتا، لیکن اس کا رجحان نظرانداز کرنا مشکل ہے۔
روپے کی قدر میں معمولی اور منظم کمی اس حقیقی اضافے کو محدود کرنے میں مدد دے سکتی ہے اور شرحِ مبادلہ کو بیرونی جھٹکے کا کچھ بوجھ برداشت کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ اس سے ملکی طلب کو دبانے کے لیے شرحِ سود زیادہ بڑھانے کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کے اپنے مہنگائی سے متعلق اخراجات ہیں، خصوصاً اس وقت جب درآمدی توانائی مہنگی ہو۔ لیکن جب مقامی قیمتیں بڑھ رہی ہوں تو برائے نام شرحِ مبادلہ کو مستحکم رکھنا بھی بے لاگ نہیں ہے۔
مسئلہ سیاسی ہے۔ معاشی منتظمین نے روپے کا استحکام اپنی معاشی کامیابی کی کہانی کا مرکزی حصہ بنا رکھا ہے۔ کرنسی کو بتدریج بھی اپنی قدر میں ردوبدل کی اجازت دینے کی خواہش بہت کم دکھائی دیتی ہے۔ اس سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے لیے دستیاب راستے محدود ہو جاتے ہیں۔ اگر بیرونی مالیاتی حالات مزید سخت ہوتے ہیں اور روپے کو کافی لچک نہیں دی جاتی تو معاشی ردوبدل کا زیادہ بوجھ شرحِ سود کو اٹھانا پڑے گا۔
یہ ایسی مہنگی حکمتِ عملی ہے جس معیشت کو نجی سرمایہ کاری بحال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ قرض لینے کی زیادہ لاگت سے نہ تیل کی رسد میں اضافہ ہوگا اور نہ ہی ایل پی جی کی تجارت میں رکاوٹیں دور ہوں گی۔ شرحِ سود ملکی طلب اور مہنگائی سے متعلق توقعات کو محدود کر سکتی ہے، لیکن اس کی قیمت پہلے ہی کمزور معاشی بحالی کی رفتار مزید سست ہونے کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔
اسٹیٹ بینک شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے سے لے کر 100 بیسس پوائنٹس اضافے تک، کسی بھی فیصلے کے حق میں قابلِ دفاع دلیل دے سکتا ہے۔ صرف ملکی معاشی بنیادوں کو دیکھا جائے تو مزید چھ ہفتے انتظار کرنا ایک مناسب فیصلہ ہوگا۔ لیکن خطرات بڑھ رہے ہیں، مارکیٹ شرحِ سود میں اضافے کو بڑی حد تک پہلے ہی اپنی توقعات میں شامل کر چکی ہے، اور امکان کم ہے کہ مرکزی بینک بیرونی ماحول میں بڑھتی ہوئی سختی کو نظرانداز کرے گا۔
50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ سب سے زیادہ ممکنہ درمیانی راستہ دکھائی دیتا ہے، تاہم 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ بھی ممکن ہے۔ اس سے جارحانہ مالیاتی سختی کی پوری لاگت عائد کیے بغیر خطرات کو تسلیم کیا جا سکے گا۔
تاہم بڑا سوال بدستور جواب طلب رہے گا۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ ادائیگیوں کے توازن کے ایک اور بحران کا شکار ہوئے بغیر تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کو برداشت کر سکتا ہے۔ لیکن ابھی اسے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ شرحِ مبادلہ کو سیاسی عہد بنائے بغیر اور اس کے دفاع کے لیے شرحِ سود کو بنیادی ہتھیار بنائے بغیر بیرونی استحکام برقرار رکھ سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026