حوثی دھمکیوں کے باوجود ریاض ایئرپورٹ پر جزوی آپریشنز بحال
- دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب پر حوثیوں کے روزانہ حملے جاری ہیں
سعودی عرب نے اتوار کو اعلان کیا کہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے دوبارہ حملوں کی دھمکیوں کے باوجود ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے پر دو ٹرمینلز میں جزوی آپریشنز بحال کردیے گئے ہیں، جبکہ ملک نے مزید میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب پر حوثیوں کے روزانہ حملے جاری ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں ایک مہلک حملے کے بعد کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنز معطل کردیے گئے تھے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اتوار کو ایئرلائنز، ہوائی اڈے کے عملے اور مسافروں کو خبردار کیا کہ وہ ہوائی اڈے کا استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ اب بھی فوجی ہدف ہے اور یہاں کبھی بھی حفاظت کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
ہوائی اڈے کے مطابق اتوار سے ٹرمینل ون ملکی پروازوں جبکہ ٹرمینل ٹو قومی ایئرلائنز کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ تاہم فلائٹ ریڈار 24 کے اعدادوشمار کے مطابق اتوار کو ہوائی اڈے پر پروازوں کی سرگرمیاں محدود رہیں۔
حوثیوں کے دعوے کے مطابق 10 اکتوبر کے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا کہ یکم سے 11 اکتوبر کے دوران ہوائی اڈے کو 20 حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
سعودی حکام نے ریاض سمیت متعدد شہروں میں ہنگامی انتباہات جاری کیے۔ اتحاد کے مطابق ریاض کی جانب دو ڈرونز اور ایک بیلسٹک میزائل، جبکہ خمیس مشیط کی طرف ایک کروز میزائل داغا گیا۔ بعد ازاں جنوبی سعودی عرب کی جانب آنے والے 10 بیلسٹک میزائل روکنے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔
یمن میں تازہ لڑائی کے باعث اقوام متحدہ کی ثالثی میں 2022 سے بڑی حد تک برقرار جنگ بندی بھی ختم ہوگئی ہے۔ سعودی عرب نے 2015 میں حوثیوں کے خلاف یمن کی جنگ میں مداخلت کی تھی۔