✕
پاکستان

وزیر توانائی کا من مانے ڈیٹیکشن بلوں کے اجرا کے خلاف کارروائی کا حکم

  • بل صرف پی آئی ٹی سی کے مرکزی آن لائن پورٹل سے جاری ہوں گے، خراب میٹر دو بلنگ سائیکل میں تبدیل کرنا لازم
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے من مانے ڈیٹیکشن بل جاری کرنے کے خلاف جامع کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ایسے بل صرف پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (پی آئی ٹی سی) کے مرکزی آن لائن پورٹل کے ذریعے جاری کیے جائیں۔ انہوں نے دستی طریقے سے ڈیٹیکشن بل جاری کرنے میں ملوث افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی بھی تنبیہ کی ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر اویس احمد خان لغاری نے بجلی صارفین پر بھاری اور مبینہ طور پر غلط ڈیٹیکشن بل عائد کیے جانے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے بورڈز آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں جامع اصلاحاتی فریم ورک پر عمل درآمد کی باضابطہ ہدایات جاری کیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی چوری کی روک تھام قومی ترجیح ہے، تاہم بے گناہ صارفین پر من مانے مالی بوجھ نہیں ڈالے جا سکتے۔ مجوزہ اصلاحات کا مقصد فیلڈ عملے کے صوابدیدی اختیارات کو ضابطے میں لانا، صارفین کے حقوق کا تحفظ اور بجلی چوری کے خلاف کارروائی کرنے والے اہلکاروں کے لیے بلا رکاوٹ فرائض کی انجام دہی یقینی بنانا ہے۔

نئے فریم ورک کے تحت ڈیٹیکشن بل صرف پی آئی ٹی سی کے مرکزی آن لائن پورٹل کے ذریعے جاری کیے جائیں گے۔ فیلڈ عملے اور سب ڈویژنل افسران (ایس ڈی اوز) کی جانب سے دستی طور پر یا صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ڈیٹیکشن بل جاری کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ دستی طریقے سے ایسے بل جاری کرنا سنگین بدعنوانی تصور ہوگا جس پر متعلقہ افسران کو سخت محکمانہ کارروائی اور بڑی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاور ڈویژن آئندہ چند روز میں کنزیومر سروس مینول میں جامع ترامیم بھی تجویز کرے گا، جن کے ذریعے میٹر کی تبدیلی، اوسط بلنگ، میٹر کی درستگی کے مطابق بل میں ردوبدل اور ڈیٹیکشن بل جاری کرنے کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے گی۔

مجوزہ ترامیم کے تحت خراب یا جل جانے والے بجلی کے میٹر فوری طور پر یا زیادہ سے زیادہ دو بلنگ سائیکل کے اندر تبدیل کرنا ہوں گے۔ میٹر کی تبدیلی کے دوران اوسط بلنگ کا دورانیہ بھی دو ماہ تک محدود ہوگا۔

اگر میٹر کی رفتار معمول سے کم یا زیادہ پائی گئی تو گزشتہ دو بلنگ سائیکل تک ہی اضافی رقم کی وصولی یا بل میں کریڈٹ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت ہوگی۔

مجوزہ فریم ورک میں ڈیٹیکشن بل جاری کرنے کی مدت بھی متعین کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجلی کے غیر قانونی استعمال میں ملوث پائے جانے والے عام صارفین کے لیے ڈیٹیکشن بل کی مدت تین بلنگ سائیکل تک محدود رکھنے کی تجویز ہے۔ رجسٹرڈ صارفین کے لیے یہ مدت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ جبکہ غیر رجسٹرڈ صارفین کے لیے 12 ماہ مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ان اصلاحات کا مقصد ماضی کے طویل عرصے کے بل یکمشت عائد کرنے کی روک تھام اور ڈیٹیکشن چارجز کی وصولی کو واضح ضابطہ جاتی حدود کے اندر رکھنا ہے۔

ڈسکوز کے بورڈز آف ڈائریکٹرز اور ان کی کسٹمر سروسز کمیٹیوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈیٹیکشن بلوں کا ہر ماہ باقاعدگی سے جائزہ لیں اور ان کی درستگی، شفافیت اور وصولیوں کے جواز کی جانچ کریں۔

وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کا مقصد بجلی کے شعبے کو صارفین کے لیے زیادہ سازگار بنانا اور ہر سطح پر احتساب یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صارفین کے حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کسی افسر کو قانون اور متعلقہ قواعد سے تجاوز کرتے ہوئے صارفین کا مالی استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔