پیوٹن ٹرمپ معاہدے کے تحت روسی ڈیزل کی پہلی کھیپ امریکا روانہ، شپ ٹریکنگ ڈیٹا
- روسی ڈیزل بردار جہاز امریکا کی جانب رواں دواں ہے، جو ٹرمپ اور ماسکو کے درمیان نئے معاہدے کے تحت 2022 کے بعد روسی ڈیزل کی پہلی کھیپ ہے
جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق اعداد و شمار (شپ ٹریکنگ ڈیٹا) کے مطابق ماسکو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اچانک طے پانے والے معاہدے کے بعد امریکا کے لیے روانہ ہونے والے روسی ڈیزل کی پہلی کھیپ نیویارک جانے والے ایک ٹینکر پر لدی ہوئی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر 3 کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیزل کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں میں کمی لانے کی کوششوں کے تحت رواں ماہ اس معاہدے کا اعلان کیا تھا۔
ٹرمپ نے روس کے خلاف امریکی پابندیوں کے نئے قانون کی بعض شقوں سے بھی استثنیٰ دیا، جبکہ یورپی ممالک کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے قیمتوں میں کمی لانے کے لیے اپنے ہنگامی ذخائر سے مزید تیل جاری نہ کیا تو امریکا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کر دے گا۔
ایل ایس ای جی کے بحری جہازوں سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق، مالٹا کے پرچم بردار درمیانے حجم کے ٹینکر اگیوئی فینیندس پر 22 اکتوبر کو روس کی بحیرۂ بالٹک کی بندرگاہ پرائمورسک میں انتہائی کم سلفر والا 40 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل لادا گیا تھا۔
اس ٹینکر کی امریکا آمد 7 نومبر کو متوقع ہے۔
خریدار اور فروخت کنندہ کی شناخت فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی۔ یہ کھیپ 2022 میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی امریکا درآمد پر پابندی کے اعلان کے بعد روس سے امریکا آنے والی پہلی کھیپ ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ روس فوری طور پر امریکا اور عالمی منڈیوں کے لیے 3 لاکھ میٹرک ٹن، یعنی 22 لاکھ 50 ہزار بیرل تیل برآمد کرے گا۔ اس کے بعد نومبر میں 5 لاکھ ٹن اور پھر ’’اس کے فوراً بعد‘‘ مزید 10 لاکھ ٹن برآمد کیا جائے گا۔
کریملن کے ایک ترجمان نے جمعے کے روز تصدیق کی کہ معاہدے کے تحت پہلا جہاز روانہ ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کی منزل امریکی منڈی ہے یا کوئی اور مقام۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روزانہ کی نیوز بریفنگ کے دوران کانفرنس کال پر کہا، ’’جہاں تک مجھے علم ہے، وزارتِ توانائی کی جانب سے پہلے ہی اطلاعات دی جا چکی ہیں کہ پہلا ٹینکر درحقیقت اپنے وصول کنندگان، یعنی خریداروں کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔ اب اس کے بعد مزید کھیپوں کی ترسیل مسلسل رفتار سے جاری رہے گی۔‘‘
امریکا کے ساتھ اس معاہدے کے تحت روس نے ڈیزل کی برآمدات پر اپنی عائد کردہ پابندی اٹھانے پر اتفاق کیا تھا۔
روس کی عالمی منڈیوں کو دوبارہ ڈیزل برآمد کرنے کی تیاری
یوکرین جنگ کے باعث یورپی یونین کی جانب سے فروری 2023 میں روسی تیل کی مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کیے جانے کے بعد سے روس زیادہ تر ترکیہ، برازیل اور افریقی ممالک کو ڈیزل برآمد کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ریل کے ذریعے وسطی ایشیا کو بھی ڈیزل فراہم کیا جاتا ہے۔
ایل ایس ای جی اور کلیپر کے اس ہفتے جاری کردہ بحری جہازوں سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق، ماسکو کی جانب سے اپنی عائد کردہ پابندی اٹھائے جانے کے بعد روسی ڈیزل کی کھیپوں نے روایتی منڈیوں کی جانب دوبارہ سفر شروع کر دیا ہے۔ کم از کم دو ٹینکروں نے ترکیہ اور برازیل جانے کے اشارے دیے ہیں۔
ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق، دیگر ٹینکروں کی منزل واضح نہیں تھی، جبکہ روسی بندرگاہ پرائمورسک سے ڈیزل لادنے والے بعض جہازوں نے جبرالٹر، بحرِ اوقیانوس کے ساحلی علاقے یا پورٹ سعید کی جانب روانگی کے اشارے دیے۔
روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ امریکا کے لیے مزید کھیپیں بھیجی جائیں گی، کیونکہ دونوں ممالک کی کمپنیاں اس سلسلے میں ضروری معاہدوں کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہی ہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خصوصی ایلچی اور روسی خودمختار دولت فنڈ کے سربراہ کرل دمترییف نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ امریکی محکمہ خزانہ نے معاہدے سے متعلق ادائیگیوں کے پیچیدہ مسائل حل کرنے میں مدد کے لیے روسی فنڈ سے رابطہ کیا ہے۔
الیگزینڈر نوواک کے مطابق، روس رواں سال کے اختتام تک اپنی ڈیزل برآمدات بڑھا کر معمول کی سطح، یعنی ماہانہ 30 لاکھ سے 35 لاکھ ٹن تک پہنچانے کے قابل ہوگا۔