پاک ایران سرحد بندش، ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
- گبد ریمدان اور تفتان سرحدی گزرگاہیں 17 اکتوبر کو بند کردی گئی تھیں
تاجروں کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان دو اہم سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے ایل پی جی کی درآمدات معطل ہوگئی ہیں جس کے باعث ملک میں گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
گبد ریمدان اور تفتان سرحدی گزرگاہیں 17 اکتوبر کو بند کردی گئی تھیں، تاہم پاکستان اور ایران نے اس اقدام کی مختلف وجوہات بیان کیں۔ بلوچستان کی حکومت نے کہا کہ سرحدی گزرگاہوں کی عارضی بندش کا مقصد سیکیورٹی خدشات دور کرنا اور اسمگلنگ کی روک تھام ہے جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے اس کی وجہ تکنیکی مسائل کو قرار دیا۔
پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان ایران سے روزانہ تقریباً 7 ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کرتا ہے۔
گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر شمس الحق نے بتایا کہ صرف گبد ریمدان سرحدی گزرگاہ سے روزانہ 4 ہزار ٹن سے زائد ایل پی جی پاکستان میں داخل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ درآمدات اس وقت رکی ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آلو، کیلے اور چاول ایران لے جانے والے ایک ہزار سے زائد پاکستانی کنٹینرز بھی پھنسے ہوئے ہیں, تاہم بدھ کو گبد ریمدان سرحدی گزرگاہ خراب ہونے والی اشیا کی پاکستانی برآمدات کے لیے دوبارہ کھول دی گئی۔
تاجروں کے مطابق چند ہی روز میں 12 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 4,500 پاکستانی روپے (16 ڈالر) سے بڑھ کر 7,000 روپے (25 ڈالر) ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تعطل برقرار رہا تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
شمس الحق کے مطابق ایل پی جی ٹینکرز سمیت سیکڑوں ٹرک سرحد کے دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں۔ کوئٹہ چیمبر نے بھی اپنے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ اگلے حکم تک ایران سے نئے آرڈرز دینے سے گریز کریں۔
سرحدی گزرگاہوں پر پھنسے ٹرک ڈرائیوروں نے بتایا کہ وہ کئی روز سے سخت موسمی حالات میں موجود ہیں اور انہیں بنیادی سہولتوں تک بھی محدود رسائی حاصل ہے۔
متاثرہ ڈرائیورز میں سے ایک عبدالغنی بلوچ نے کہا کہ ہم سرحد کھلنے کے انتظار میں ایک ہفتے سے زائد عرصے سے یہاں کھڑے ہیں۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق مالی سال 2023-24 میں پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہا جس میں پاکستان کی برآمدات تقریباً 684 ملین ڈالر تھیں۔
پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے خبردار کیا کہ ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی ایل پی جی مختلف قیمتوں پر فروخت ہورہی ہے۔
ان کے مطابق بلوچستان میں 12 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر تقریباً 7 ہزار روپے، لاہور میں 7,500 روپے اور اسکردو میں 8,200 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دیگر اشیا کی قیمتوں پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔
لاہور کے رہائشی فرحت عباس نے بتایا کہ سرحد بند ہونے سے قبل وہ ایل پی جی 250 روپے فی کلوگرام خریدتے تھے، تاہم اب انہیں اس کے لیے 500 سے 600 روپے فی کلوگرام ادا کرنا پڑرہے ہیں۔
صارفین کو خدشہ ہے کہ موسم سرما قریب آنے کے ساتھ ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف نے رواں ہفتے تہران کا دورہ کیا، جہاں ایرانی رہنماؤں کے ساتھ سرحدی امور پر بات چیت کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی بحالی کے لیے مشاورت جاری ہے۔