✕
مارکٹس

ایس ای فروٹس نے آئی پی او واپس لینے کے بعد سرمایہ کاروں کو رقم لوٹا دی

  • کمپنی نے 2026 میں آئی پی او کے ذریعے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فہرست ہونے والی تازہ پھلوں اور سبزیوں کے شعبے کی پہلی کمپنی بننے کا منصوبہ بنایا تھا
شائع اپ ڈیٹ

ایس ای فروٹس اینڈ ویجیٹیبل لمیٹڈ نے ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) واپس لینے کے فیصلے کے بعد سرمایہ کاروں کو سبسکرپشن کی پوری رقم واپس منتقل کردی ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے نوٹس میں بتایا کہ کمپنی کی جانب سے آئی پی او واپس لینے کے فیصلے اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی ہدایات کے مطابق سرمایہ کاروں سے وصول کی گئی تمام رقم ان کے متعلقہ بینک اکاؤنٹس میں منتقل کردی گئی ہے۔

ایس ای فروٹس اینڈ ویجیٹیبل لمیٹڈ، جو پہلے شاہین انٹرپرائزز کے نام سے کام کرتی تھی، سرگودھا میں قائم کمپنی ہے اور آم، ترش پھلوں بالخصوص کینو، آلو اور دیگر زرعی اجناس برآمد کرتی ہے۔

کمپنی نے 2026 میں آئی پی او کے ذریعے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فہرست ہونے والی تازہ پھلوں اور سبزیوں کے شعبے کی پہلی کمپنی بننے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس مقصد کے لیے 3 کروڑ عام حصص پیش کرکے 1.2 ارب سے 1.92 ارب روپے تک سرمایہ جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ یہ حصص آئی پی او کے بعد کمپنی کے ادا شدہ سرمائے کا 32.01 فیصد بنتے تھے۔

گزشتہ ماہ کمپنی کو پی ایس ایکس اور ایس ای سی پی سے آئی پی او کے لیے منظوری بھی مل گئی تھی۔

کمپنی کے 75 فیصد حصص کی بک بلڈنگ 21 ستمبر 2026 کو شروع ہوئی اور دو گھنٹے کے اندر مکمل طور پر سبسکرائب ہوگئی۔ یہ عمل 22 ستمبر کو 40 روپے فی حصص کی مقررہ قیمت پر مکمل ہوا، جس سے کمپنی نے 1.20 ارب روپے جمع کیے۔ حصص کی طلب پیشکش سے 1.6 گنا زیادہ رہی جبکہ باقی 25 فیصد حصص عوامی سبسکرپشن کے لیے 28 اور 29 ستمبر کو پیش کیے جانے تھے۔

تاہم 13 اکتوبر 2026 کو کمپنی نے موجودہ آئی پی او درخواست واپس لینے اور اضافی معلومات و انکشافات کے ساتھ نئی درخواست جمع کرانے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ آئی پی او دستاویزات میں معلومات کی ناکافی فراہمی سے متعلق تحفظات کے بعد کیا گیا، بالخصوص کاروبار کی شراکت داری سے پبلک لمیٹڈ کمپنی میں منتقلی کے معاملے پر۔ متعلقہ کاروبار 1998 سے جاری تھا، جبکہ موجودہ کمپنی 2026 میں رجسٹر ہوئی تھی۔

ایس ای سی پی نے پراسپیکٹس میں اہم تضادات کی نشاندہی کے بعد سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے آئی پی او سے متعلق کارروائی معطل کردی تھی۔ اس کے بعد کمپنی نے رضاکارانہ طور پر آئی پی او واپس لے لیا اور سرمایہ کاروں کی رقم واپس کرنے کا عمل مکمل کیا۔

کمپنی نے آئی پی او واپس لینے کو طریقہ کار سے متعلق اقدام قرار دیتے ہوئے پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

دوسری جانب ایس ای سی پی نے طریقہ کار کی بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے ضابطہ جاتی کارروائی شروع کردی ہے۔