اسٹاک ایکسچینج میں مندی برقرار، 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس گر گیا
- صبح 11 بجے تک بینچ مارک انڈیکس 162,683.08 پوائنٹس پر آگیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو بھی کاروبار کے ابتدائی سیشن کے دوران فروخت کا دباؤ برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس گرگیا۔ یہ صورتحال دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ ملک اور یمن میں سرگرم حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے باعث پیدا ہوئی۔
صبح 11 بجے تک بینچ مارک انڈیکس 1,241.23 پوائنٹس (0.76 فیصد) کی کمی سے 162,683.08 پوائنٹس پر آگیا۔
آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز)، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنریز سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا، اے آر ایل، حبکو، ماری، پی پی ایل، پول، ایم سی بی، ایم ای بی ایل، این بی پی اور یو بی ایل بھی منفی زون میں دکھائی دیے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مندی رہی۔ مسلسل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مثبت محرکات کی عدم موجودگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا جس کے نتیجے میں اہم شعبوں میں وسیع پیمانے پر فروخت دیکھی گئی۔ گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2,006.67 پوائنٹس یا 1.21 فیصد کمی سے 163,924.32 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی منڈیوں میں جمعہ کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی،کیونکہ اے آئی کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے درکار فنڈز سے متعلق خدشات نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کو دباؤ میں ڈال دیا۔ اس کے نتیجے میں امریکی ٹریژری بانڈز میں تین سال سے زائد عرصے کے دوران ایک روزہ سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سرمایہ کاروں نے محفوظ سمجھے جانے والے سرکاری بانڈز اور کرنسیوں کا رخ کیا۔
مارکیٹوں نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید سخت مالیاتی پالیسی اپنانے کے امکانات کے اندازوں میں بھی نمایاں کمی کردی۔ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ آئی اے شعبے میں ممکنہ بلبلہ پھٹنے سے ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کی تیزی متاثر ہوسکتی ہے اور امریکی معیشت کی رفتار سست پڑسکتی ہے۔ اسی تناظر میں آئندہ سال شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات سے تقریباً ایک مکمل چوتھائی فیصد پوائنٹ کی توقع ختم کردی گئی۔
دسمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان بھی اب مکمل طور پر مارکیٹ میں شامل نہیں رہا جبکہ اس اقدام کے امکان کا تخمینہ کم ہوکر 85 فیصد رہ گیا۔
ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک حصص کے وسیع ترین انڈیکس میں جمعے کو 0.3 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد ہفتہ وار خسارہ 2.7 فیصد ہوگیا۔ انڈیکس مسلسل چوتھے ہفتے بھی منفی زون میں رہا۔ جاپان کے نکئی انڈیکس میں 1.3 فیصد کمی ہوئی جبکہ ہفتے کے دوران اس میں مجموعی طور پر 5 فیصد کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 1.7 فیصد کمی ہوئی اور یہ ہفتہ وار 4.3 فیصد خسارے کی جانب گامزن رہا۔ میموری چِپ بنانے والی کمپنی ایس کے ہائنکس کے حصص بھی روزانہ کی بنیاد پر 2.5 فیصد گر گئے۔ تائیوان کی اسٹاک مارکیٹ طوفان کے باعث بند رہی۔
چین کی سرزمین پر درج بڑی کمپنیوں کے حصص پر مشتمل انڈیکس جمعے کو 1.1 فیصد گر کر جولائی 2025 کے بعد کی کم ترین سطح پر آگیا۔ یہ انڈیکس جون کے اواخر میں اپنی بلند ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد نیچے آچکا ہے۔
ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.1 فیصد معمولی اضافہ ہوا، تاہم اس سے ایک روز قبل جمعرات کو اس میں 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے