✕
دنیا

دہلی کی نمائش سے احتجاجی فن پارے ہٹانے پر مجبور کیا گیا، راہول گاندھی کے بھانجے کا دعویٰ

  • سرکاری ثقافتی مرکز نے نوجوانوں کے احتجاج سے متعلق فن پاروں کو ’قابلِ اعتراض‘ قرار دے کر نمائش سے ہٹوا دیا
شائع اپ ڈیٹ

بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کے بھانجے ریحان واڈرا نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری ثقافتی مرکز میں ان کی نمائش سے نوجوانوں کے احتجاج کی عکاسی کرنے والے متعدد فن پارے قابلِ اعتراض قرار دے کر ہٹانے پر مجبور کیا گیا۔

26 سالہ ریحان واڈرا، کانگریس رہنما اور رکن پارلیمنٹ پریانکا گاندھی واڈرا کے بیٹے ہیں۔ ان کے مطابق بدھ کو نمائش کھلنے سے چند گھنٹے قبل بیکانیر ہاؤس کی انتظامیہ نے انہیں یہ فن پارے ہٹانے کی ہدایت کی۔

بھارت میں نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔ جولائی میں امتحانی پرچوں کے افشا ہونے پر کئی ہفتوں کے دھرنے کے نتیجے میں وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

اس ماہ بھی انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف مظاہرے ہوئے، جن میں راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔

ریحان واڈرا نے سوشل میڈیا پر کہا کہ تصاویر دہلی میں نوجوانوں کے احتجاج سے متعلق تھیں، تاہم انہیں بظاہر قابلِ اعتراض قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق بھارتی پرچم کی دو تصاویر ہٹانے کی ہدایت بھی دی گئی، جسے انہوں نے مسترد کردیا۔

بیکانیر ہاؤس مینجمنٹ سوسائٹی نے کہا کہ نمائش سے بعض تصاویر ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی کیونکہ وہ ادارے کی پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ تاہم سوسائٹی نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔ اس کا کہنا تھا کہ پالیسی کے مطابق تصاویر نمائش میں موجود ہیں۔