آکٹوپس ڈیجیٹل لمیٹڈ: کارکردگی اور مستقبل کے امکانات
- آکٹوپس ڈیجیٹل کی بین الاقوامی کاروبار میں توسیع کے باوجود مقامی مارکیٹ میں بڑھتے اخراجات اور ٹیکسوں کا دباؤ منافع بخش کارکردگی کے لیے چیلنج، 2026 کی پہلی ششماہی میں خالص خسارہ 240.81 فیصد بڑھ گیا۔
آکٹوپس ڈیجیٹل لمیٹڈ (پی ایس ایکس: آکٹوپس) کو 2017 میں پاکستان میں ایوانسیون ڈیجیٹل (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے نام سے ایک نجی لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ 2019 میں کمپنی کا نام تبدیل کرکے آکٹوپس ڈیجیٹل (پرائیویٹ) لمیٹڈ رکھ دیا گیا، جبکہ 2020 میں اسے پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کردیا گیا۔ آکٹوپس ڈیجیٹل، ایوانسیون لمیٹڈ کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔
کمپنی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات فراہم کرتی ہے، جن میں معلومات کا ذخیرہ، ملازمین کی کارکردگی کا آن لائن جائزہ اور نگرانی، اخراجات اور پیداواری کارکردگی کی آن لائن جانچ، پلانٹ اور مشینری کی دیکھ بھال، نیز متعلقہ سافٹ ویئر اور آلات کی فروخت و تجارت شامل ہیں۔
حصص کی ملکیت کا ڈھانچہ
31 دسمبر 2025 تک آکٹوپس ڈیجیٹل کے جاری کردہ حصص کی مجموعی تعداد 15 کروڑ 72 لاکھ 63 ہزار تھی، جو 8,479 حصص یافتگان کے پاس تھے۔ ایوانسیون لمیٹڈ کمپنی کا سب سے بڑا حصص یافتہ ہے، جس کے پاس آکٹوپس ڈیجیٹل کے 74.32 فیصد حصص ہیں، جبکہ مقامی عام سرمایہ کاروں کے پاس کمپنی کے 22.88 فیصد حصص ہیں۔
باقی حصص دیگر زمروں کے حصص یافتگان کے پاس ہیں۔
تاریخی کارکردگی (2020 تا 2025)
2024 اور 2025 میں کمی کے سوا زیرِ جائزہ مدت کے دوران آکٹوپس ڈیجیٹل کی آمدن اور خالص منافع میں مجموعی طور پر اضافہ ہوتا رہا۔ کمپنی کے منافع کے مارجن کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ مجموعی منافع کا مارجن 2021 اور 2022 میں مسلسل کم ہوا، تاہم 2023 میں اس میں بہتری آئی۔ اس کے برعکس، عملیاتی منافع اور خالص منافع کے مارجن میں 2021 کے دوران نمایاں گراوٹ آئی، جس کے بعد 2022 میں دونوں میں بحالی ہوئی۔ تاہم، 2023 میں ایک بار پھر دونوں مارجن میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
2024 میں تمام منافع کے مارجن میں شدید گراوٹ آئی، جبکہ 2025 میں ان میں دوبارہ بہتری دیکھنے میں آئی۔
زیرِ جائزہ مدت کے دوران کمپنی کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ ذیل میں پیش کیا گیا ہے۔
2020: آمدن اور منافع میں غیر معمولی اضافہ
2020 میں آکٹوپس ڈیجیٹل کی آمدن میں 1,401.45 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا اور یہ 27 کروڑ 71 لاکھ 10 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ اسی سال کمپنی نے اپنی ہولڈنگ کمپنی ایوانسیون لمیٹڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس کے تحت آکٹوپس ڈیجیٹل نے ایوانسیون کا آفٹر مارکیٹ سپورٹ (اے ایم ایس) شعبہ حاصل کیا۔ اس کے عوض کمپنی نے 10 روپے فی حصص کی قیمت پر اپنے 10 کروڑ 84 لاکھ عام حصص جاری کیے۔ اسی سال آکٹوپس ڈیجیٹل کی حیثیت بھی نجی لمیٹڈ کمپنی سے تبدیل کرکے پبلک لمیٹڈ کمپنی کردی گئی۔
فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن میں اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ اے ایم ایس شعبے کی 24 کروڑ 12 لاکھ 42 ہزار روپے کی آمدن تھی، جو انتظامی فیس منہا کرنے کے بعد ایوانسیون نے آکٹوپس ڈیجیٹل کو منتقل کی تھی۔ کمپنی کو 2019 میں فروخت کی مد میں کوئی لاگت برداشت نہیں کرنا پڑی تھی، تاہم 2020 میں سال کے دوران استعمال ہونے والے مواد کے باعث یہ لاگت بڑھ کر 77 لاکھ 50 ہزار روپے ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں 2020 میں مجموعی منافع کا مارجن 97.20 فیصد رہا۔
ملازمین کی تعداد 2019 کے 4 سے بڑھ کر 2020 میں 21 ہونے کے باعث تنخواہوں اور دیگر مراعات کے اخراجات میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کمپنی کے عملیاتی اخراجات سال بہ سال 12.34 فیصد بڑھ گئے۔
2020 میں عملیاتی منافع 5,336.76 فیصد اضافے کے ساتھ بلند سطح پر پہنچ گیا، جبکہ عملیاتی منافع کا مارجن 2019 کے 25.3 فیصد سے بڑھ کر 91.57 فیصد ہوگیا۔ قرض اور ایکویٹی کا تناسب صفر ہونے کے باعث کمپنی کو کوئی مالیاتی اخراجات برداشت نہیں کرنا پڑے۔
خالص منافع 8,874.13 فیصد اضافے کے ساتھ 21 کروڑ 97 لاکھ 40 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔ خالص منافع کا مارجن 2019 کے 13.27 فیصد سے بڑھ کر 79.30 فیصد ہوگیا۔ تاہم، سال کے دوران نئے حصص جاری کیے جانے کے باعث فی حصص آمدن سال بہ سال 17.96 فیصد کم ہوکر 2.01 روپے رہ گئی۔
2021: برآمدی فروخت میں اضافے سے آمدن کو تقویت
2021 میں آکٹوپس ڈیجیٹل کی آمدن سال بہ سال 125.61 فیصد اضافے کے ساتھ 62 کروڑ 52 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ برآمدی فروخت میں 11.16 گنا اضافہ تھا۔
اسی سال مقامی فروخت اور خدمات سے حاصل ہونے والی آمدن بھی 2.3 گنا بڑھ گئی۔ انجینئرنگ خدمات سے متعلق تنصیب اور سفری اخراجات، سال کے دوران استعمال ہونے والے مواد اور ہولڈنگ کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ دفتری معاونت کے باعث فروخت کی لاگت میں 1,860 فیصد اضافہ ہوا۔ نتیجتاً مجموعی منافع 75.68 فیصد بڑھا، تاہم مجموعی منافع کا مارجن کم ہوکر 75.69 فیصد رہ گیا۔
2021 میں عملیاتی اخراجات میں 705.46 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ متوقع قرض نقصانات (ای سی ایل) کے لیے 5 کروڑ 80 لاکھ 68 ہزار روپے کی خطیر رقم مختص کرنا تھا۔ اسی سال کمپنی نے شرحِ مبادلہ سے حاصل ہونے والے منافع اور مدتی ڈپازٹ رسیدوں (ٹی ڈی آر) پر منافع بھی تسلیم کیا، جس کے نتیجے میں دیگر آمدن 1 کروڑ 11 لاکھ 40 ہزار روپے رہی۔
عملیاتی منافع سال بہ سال 42 فیصد بڑھا، تاہم عملیاتی منافع کا مارجن کم ہوکر 57.65 فیصد رہ گیا۔ خالص منافع میں 57.44 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 34 کروڑ 59 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔ اس دوران خالص منافع کا مارجن 55.33 فیصد اور فی حصص آمدن 2.53 روپے رہی۔
2022: بڑھتی لاگت سے مجموعی منافع میں کمی
2022 میں آکٹوپس ڈیجیٹل کی آمدن سال بہ سال 9.89 فیصد بڑھ کر 68 کروڑ 70 لاکھ 10 ہزار روپے ہوگئی۔ درآمدات پر پابندیوں کے باعث کمپنی کے اے ایم ایس شعبے کی آمدن، بالخصوص اسپیئر پارٹس اور مواد پر زیادہ انحصار کرنے والے منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدن، محدود رہی۔
پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور بلند افراطِ زر کے باعث فروخت کی لاگت میں 103.59 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔ نتیجتاً مجموعی منافع سال بہ سال 20.21 فیصد کم ہوگیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 54.96 فیصد رہ گیا۔
عملیاتی اخراجات میں سال بہ سال 64.50 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ تنخواہوں اور دیگر مراعات کے اخراجات میں اضافہ تھا۔ کمپنی کے ملازمین کی تعداد 2021 کے 27 سے بڑھ کر 2022 میں 46 ہوگئی۔ اسی سال انتظامی فیس، بینک چارجز اور متوقع قرض نقصانات کے لیے مختص رقم میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
تاہم، دیگر آمدن میں 2,202.94 فیصد کے غیر معمولی اضافے نے عملیاتی نتائج کو سہارا دیا۔ اس اضافے کی وجوہ میں برآمدی فروخت پر شرحِ مبادلہ سے حاصل ہونے والا منافع اور بنیادی کمپنی سے حاصل ہونے والی مارک اپ آمدن شامل تھی۔
2022 میں عملیاتی منافع سال بہ سال 19.34 فیصد بڑھا، جبکہ عملیاتی منافع کا مارجن بھی بہتر ہوکر 62.61 فیصد ہوگیا۔ خالص منافع 17 فیصد اضافے کے ساتھ 40 کروڑ 50 لاکھ 63 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔ خالص منافع کا مارجن 58.96 فیصد اور فی حصص آمدن 2.74 روپے رہی۔
2023: فروخت اور مجموعی منافع میں نمایاں نمو
2023 میں آکٹوپس ڈیجیٹل کی خالص فروخت 31.46 فیصد بڑھ کر 90 کروڑ 31 لاکھ 18 ہزار روپے ہوگئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ برآمدی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن اور سال کے دوران فراہم کی جانے والی اے ایم ایس کاروباری خدمات تھیں۔
انجینئرنگ خدمات سے متعلق تنصیب کے زیادہ اخراجات کے باعث فروخت کی لاگت سال بہ سال 28 فیصد بڑھ گئی۔ تاہم، برآمدی فروخت میں نمایاں اضافے کے نتیجے میں مجموعی منافع 34.26 فیصد بڑھا اور مجموعی منافع کا مارجن بہتر ہوکر 56.13 فیصد ہوگیا۔
2023 میں آکٹوپس ڈیجیٹل کے عملیاتی اخراجات میں 31.47 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ تنخواہوں اور دیگر مراعات کے اخراجات میں اضافہ تھا، کیونکہ کمپنی نے ملازمین کی تعداد گزشتہ سال کے 57 سے بڑھا کر 85 کردی تھی۔
متعلقہ فریقوں سے واجب الادا رقوم کے لیے متوقع قرض نقصانات کی مد میں مختص رقم، نیز قانونی اور پیشہ ورانہ خدمات کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، جس نے عملیاتی اخراجات بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شرحِ مبادلہ سے حاصل ہونے والے نمایاں منافع اور متعلقہ فریقوں سے حاصل ہونے والی زیادہ مارک اپ آمدن کے باعث 2023 میں دیگر آمدن 29.80 فیصد بڑھ گئی۔ آکٹوپس ڈیجیٹل کا عملیاتی منافع 21.97 فیصد بہتر ہوا، تاہم عملیاتی اخراجات میں اضافے کے باعث عملیاتی منافع کا مارجن کم ہوکر 58.10 فیصد رہ گیا۔
2023 کے دوران آکٹوپس ڈیجیٹل نے 1 کروڑ 44 لاکھ 18 ہزار روپے کا طویل مدتی قرض حاصل کیا، جس کے نتیجے میں 16 لاکھ 30 ہزار روپے کے مالیاتی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ کمپنی کا خالص منافع سال بہ سال 27.34 فیصد اضافے کے ساتھ 51 کروڑ 58 لاکھ 8 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔ اس دوران فی حصص آمدن 3.45 روپے اور خالص منافع کا مارجن 57.11 فیصد رہا۔
2024: آمدن اور منافع میں نمایاں کمی
2024 میں آکٹوپس ڈیجیٹل کی خالص فروخت 5.80 فیصد کم ہوکر 85 کروڑ 7 لاکھ 29 ہزار روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام کے باعث برآمدی فروخت میں کمی تھی۔
سال کے دوران استعمال ہونے والے مواد کی قیمتوں میں اضافے، تنخواہوں اور دیگر مراعات کے بھاری اخراجات، نیز فیس اور سبسکرپشن چارجز کے باعث فروخت کی لاگت میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔ نتیجتاً مجموعی منافع میں 25.22 فیصد کمی آئی اور مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 44.56 فیصد رہ گیا۔
2024 میں عملیاتی اخراجات میں 0.50 فیصد کمی ہوئی۔ اس کی وجہ بنیادی کمپنی کی جانب سے دفتری جگہ، عملیاتی امور، انسانی وسائل اور انتظامی معاونت کی مد میں وصول کیے جانے والے اخراجات میں کمی، نیز قانونی اور پیشہ ورانہ خدمات کے اخراجات میں نمایاں کمی تھی۔ تاہم، ملازمین کی تعداد 2023 کے 85 سے بڑھ کر 2024 میں 91 ہونے کے باعث تنخواہوں اور دیگر مراعات کے اخراجات میں اضافہ ہوا، جس نے مذکورہ بچت کے اثرات کو بڑی حد تک زائل کردیا۔
شرحِ مبادلہ کے نقصان اور جاری کھاتے پر مارک اپ اخراجات کے باعث دیگر اخراجات میں 51.51 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب، دیگر آمدن میں 80.78 فیصد کمی آئی۔ اس کی وجہ گزشتہ سال دیگر آمدن کی غیر معمولی بلند سطح تھی، جب کمپنی نے شرحِ مبادلہ سے نمایاں منافع حاصل کیا تھا۔
2024 میں آکٹوپس ڈیجیٹل کا عملیاتی منافع 80 فیصد کم ہوگیا، جبکہ عملیاتی منافع کا مارجن گر کر 12.31 فیصد کی کم ترین سطح پر آگیا۔ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ اور کمپنی کے واجب الادا قرض میں اضافے کے باعث مالیاتی اخراجات میں 117.55 فیصد اضافہ ہوا۔
2024 میں قرض پر انحصار کا تناسب 0.31 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ کمپنی نے گزشتہ سال بیرونی مالی معاونت حاصل کی تھی، تاہم نقدی اور بینک کھاتوں میں موجود بھاری رقوم کے باعث اس پر قرض کا بوجھ نسبتاً محدود رہا۔
کمپنی کا خالص منافع 82 فیصد کم ہوکر 9 کروڑ 24 لاکھ 37 ہزار روپے رہ گیا۔ اس کے نتیجے میں فی حصص آمدن 0.58 روپے اور خالص منافع کا مارجن 10.87 فیصد رہا۔
2025: کاروباری ڈھانچے میں تبدیلی کے اثرات
2025 میں آکٹوپس ڈیجیٹل کی خالص فروخت میں مزید 40.61 فیصد کمی آئی اور یہ 50 کروڑ 52 لاکھ 25 ہزار روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ برآمدی فروخت میں نمایاں گراوٹ تھی، جو کمپنی کے بین الاقوامی کاروباری ڈھانچے میں تبدیلی کے نتیجے میں سامنے آئی۔
گزشتہ سال تک بین الاقوامی منصوبوں سے حاصل ہونے والی تمام آمدن پاکستان میں ظاہر کی جاتی تھی، کیونکہ گروپ کی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی کارپوریٹ موجودگی نہیں تھی۔
تاہم، 2025 میں کاروباری سرگرمیوں کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے بین الاقوامی منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدن گروپ کی متحدہ عرب امارات میں قائم مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی آکٹوپس ڈیجیٹل ایف زیڈ ایل ایل سی کو منتقل کردی گئی۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں 2025 کے انفرادی مالی گوشواروں میں خالص آمدن میں نمایاں کمی ظاہر ہوئی۔
اسی وجہ سے فروخت کی لاگت میں بھی 44.92 فیصد کمی آئی، جس کے نتیجے میں مجموعی منافع 35.25 فیصد کم ہوگیا۔ تاہم، مجموعی منافع کا مارجن بہتر ہوکر 48.58 فیصد رہا۔ کمپنی کے کاروباری ڈھانچے میں تبدیلیوں کے باعث عملیاتی اخراجات میں بھی 28.35 فیصد کمی ہوئی۔
ملازمین کی تعداد 2024 کے 91 سے کم ہوکر 2025 میں 87 رہ گئی۔ متعلقہ فریقوں سے حاصل ہونے والی مارک اپ آمدن اور شرحِ مبادلہ سے منافع کے باعث دیگر آمدن 107.26 فیصد بڑھ کر 13 کروڑ 27 لاکھ روپے ہوگئی۔
اس کے برعکس، دیگر اخراجات میں 9.92 فیصد کمی آئی، کیونکہ سال کے دوران شرحِ مبادلہ کا کوئی نقصان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ اس طرح متوقع قرض نقصانات کے لیے مختص رقم میں اضافے کے اثرات زائل ہوگئے۔
2025 میں عملیاتی منافع میں 16.93 فیصد بہتری آئی اور عملیاتی منافع کا مارجن بڑھ کر 24.23 فیصد ہوگیا۔ دوسری جانب، واجب الادا ذمہ داریوں، بالخصوص مشارکہ فنانسنگ، میں اضافے کے باعث مالیاتی اخراجات 15.35 فیصد بڑھ کر 40 لاکھ 80 ہزار روپے ہوگئے۔
کمپنی نے 2025 میں 8 کروڑ 67 لاکھ 8 ہزار روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.20 فیصد کم تھا۔ اس دوران فی حصص آمدن 0.54 روپے رہی، جبکہ خالص منافع کا مارجن بہتر ہوکر 17.16 فیصد ہوگیا۔
حالیہ کارکردگی: 2026 کی پہلی ششماہی
کیلنڈر سال 2026 کی پہلی ششماہی میں آکٹوپس ڈیجیٹل کی خالص فروخت 5.15 فیصد اضافے کے ساتھ 18 کروڑ 86 لاکھ 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ مقامی فروخت اور خدمات سے حاصل ہونے والی آمدن میں مناسب اضافے کے باوجود برآمدی فروخت کی کمزور کارکردگی نے مجموعی نمو کو بڑی حد تک محدود رکھا۔
نئے آرڈرز میں اضافے، مصنوعی ذہانت سے لیس حل اپنی مصنوعات میں شامل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے، افراطِ زر کے دباؤ اور ہنرمند افرادی قوت کی بھرتی کے باعث 2026 کی پہلی ششماہی میں فروخت کی لاگت 6.82 فیصد بڑھ گئی۔
اس دوران مجموعی منافع میں 3.45 فیصد اضافہ ہوا، تاہم مجموعی منافع کا مارجن گزشتہ سال کی اسی مدت کے 49.74 فیصد سے کم ہوکر 48.94 فیصد رہ گیا۔ کاروباری سرگرمیوں میں توسیع اور افراطِ زر کے دباؤ کے باعث انتظامی اخراجات میں 9.25 فیصد اضافہ ہوا۔
2026 کی پہلی ششماہی میں دیگر اخراجات 54.76 فیصد بڑھ گئے۔ اس کی ممکنہ وجوہ میں متوقع قرض نقصانات کے لیے زیادہ رقم مختص کرنا اور شرحِ مبادلہ کا نقصان شامل تھے۔ تاہم، اس عرصے میں تسلیم کی گئی 5 کروڑ 90 لاکھ 90 ہزار روپے کی دیگر آمدن نے ان اخراجات کے اثرات کو پوری طرح زائل کردیا۔ دیگر آمدن میں سال بہ سال 12 فیصد اضافہ ہوا۔
اس اضافے کی ممکنہ وجہ مارک اپ آمدن میں اضافہ تھا۔ اس کے باوجود، آکٹوپس ڈیجیٹل کا عملیاتی خسارہ 653 فیصد بڑھ کر 1 کروڑ 34 لاکھ 26 ہزار روپے ہوگیا۔ بینک چارجز میں اضافے کے باعث مالیاتی اخراجات بھی 5.39 فیصد بڑھ گئے۔
کمپنی نے 2026 کی پہلی ششماہی میں 3 کروڑ 9 لاکھ 66 ہزار روپے کا خالص خسارہ ظاہر کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 240.81 فیصد زیادہ تھا۔ اس عرصے میں فی حصص خسارہ 0.20 روپے رہا، جبکہ 2025 کی پہلی ششماہی میں یہ 0.06 روپے تھا۔
مستقبل کے امکانات
آکٹوپس ڈیجیٹل کی مستقبل کی حکمت عملی کا بنیادی انحصار اس کے ڈیجیٹلائزیشن کاروبار پر ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، امریکا اور دنیا کے دیگر حصوں میں تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔ کمپنی مقامی مارکیٹ میں سست کاروباری سرگرمیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف جغرافیائی منڈیوں میں اپنی موجودگی مسلسل بڑھا رہی ہے۔
کمپنی سعودی عرب میں اپنے ڈیجیٹل اور آفٹر مارکیٹ سپورٹ (اے ایم ایس) کاروبار کو بھی وسعت دے رہی ہے، جبکہ امریکا اور یورپی منڈیوں میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ ان خطوں میں سازگار کاروباری ماحول سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔
تاہم، مقامی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے عملیاتی اخراجات اور ٹیکسوں کا بوجھ کمپنی کی کارکردگی کو متاثر کر رہا ہے، جس سے اس کے منافع کے مارجن اور مجموعی منافع پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔