پاکستانی نژاد سرجن آصف حسن کو پرائیڈ آف برطانیہ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نواز دیا گیا
- آصف حسن نے بچوں کے علاج معالجے میں اہم پیش رفت کی قیادت کی
پاکستانی نژاد بچوں کے دل کے معروف سرجن ڈاکٹر آصف حسن کو دل کی سنگین بیماریوں میں مبتلا بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے تین دہائیوں پر محیط غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں 2026 کے پرائیڈ آف برطانیہ ایوارڈز میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا ہے۔
پرائیڈ آف برطانیہ ایوارڈز برطانیہ کا ایک قومی سطح پر ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والا پروگرام ہے، جو غیر معمولی خدمات اور انسانیت کے جذبے کا مظاہرہ کرنے والے گمنام ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ ایوارڈ یافتگان کا انتخاب عوام کی جانب سے نامزدگیوں اور ججوں کے ایک پینل کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
پرائیڈ آف برطانیہ کی ویب سائٹ کے مطابق ڈاکٹر آصف حسن حال ہی میں نیوکاسل کے فری مین اسپتال میں بچوں کے دل کی سرجری کے شعبے کے سربراہ کی حیثیت سے 30 سال خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں۔ اپنے شاندار پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران انہوں نے اندازاً 400 ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیے اور پیدائشی طور پر دل کی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا بچوں کے علاج میں نمایاں تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ ان کی جدید طبی مداخلتوں کے نتیجے میں آج ہزاروں مریض زندہ ہیں۔
برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) میں خدمات کے دوران ڈاکٹر حسن نے بچوں کے علاج میں اہم طبی پیش رفت کی قیادت کی۔ انہوں نے نیوکاسل کے ’’برج ٹو ٹرانسپلانٹ‘‘ پروگرام کی مشترکہ قیادت کی، جس میں برلن ہارٹ نامی میکانکی پمپ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ آلہ عطیہ کردہ دل دستیاب ہونے تک شیر خوار بچوں اور دیگر کم عمر مریضوں کو زندہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے سرجری کے بعد سینے کی ہڈی بند کرنے کے لیے بوٹ لیس کلوزر تکنیک متعارف کرائی، جس کی مدد سے ان بچوں کو بھی عطیہ کردہ دل لگانا ممکن ہوا جن کے لیے وہ دل ان کے سینے کی گنجائش کے لحاظ سے بہت بڑا ہوتا تھا۔
ڈاکٹر حسن ایسے انتہائی پیچیدہ مریضوں کا علاج کرنے کے لیے بھی معروف رہے جنہیں زیادہ خطرے کے باعث دوسرے امراضِ قلب کے مراکز علاج فراہم کرنے سے انکار کرچکے تھے۔ فری مین اسپتال میں ان کی ٹیم بے شمار خاندانوں کے لیے امید کی آخری کرن ثابت ہوئی۔ پرائیڈ آف برطانیہ کے سابق چلڈرن آف کریج ایوارڈ یافتگان میکس جانسن اور سیسیلیا ادامو بھی ان بچوں میں شامل ہیں جن کی زندگیاں ان کے علاج سے بچائی گئیں۔
سرجری کے شعبے میں نمایاں کامیابیوں کے علاوہ ڈاکٹر حسن نے برطانیہ اور دنیا کے دیگر ممالک میں بچوں کے دل کے سرجنز کی نئی نسل کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
اپنے کیریئر اور ایوارڈ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنی ٹیم اور این ایچ ایس کے سر باندھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی ایسے جانشینوں کی تربیت ہے جو ان کی اپنی صلاحیتوں سے بھی آگے نکل سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے انسانی تکالیف کے انتہائی سنگین مناظر بھی دیکھے، لیکن ساتھ ہی انسانوں کی غیر معمولی ہمت اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا بھی مشاہدہ کیا۔ ان کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مریضوں کو بہترین معیار کا علاج بلا تعطل ملتا رہے۔
بچوں کے دل کے سرجن ڈاکٹر آصف حسن نے کہا کہ میرے کیریئر میں بہت بڑی کامیابیاں بھی آئیں اور انتہائی مشکل لمحات بھی گزرے۔ جب کسی مریض کے صحت یاب ہونے اور اچھی زندگی گزارنے کی خبر سنتا ہوں تو میرا دل خوشی سے بھر جاتا ہے، لیکن مجھے وہ تمام تکلیف دہ واقعات بھی یاد ہیں جن میں کوئی مریض جانبر نہ ہوسکا۔ میں نے انسانوں کی بے پناہ تکالیف کو قریب سے دیکھا ہے، لیکن ان کی ہمت اور حوصلے کا بھی مشاہدہ کیا ہے۔
میں ایک عام سا انسان ہوں، لیکن مجھے غیر معمولی ساتھیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، جنہوں نے مریضوں کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ ان میں صرف سینئر ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ نرسیں اور دیگر انتہائی قابلِ قدر افراد بھی شامل ہیں۔ مجھے دنیا کے غیر معمولی اداروں میں سے ایک این ایچ ایس میں کام کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔
میرا ایک پختہ عزم یہ تھا کہ جب میں کام چھوڑوں تو کسی کو میری کمی محسوس نہ ہو۔ اصل فن یہ ہے کہ ادارے میں آپ کی جگہ لینے والے افراد اس قدر قابل ہوجائیں کہ آپ کی ضرورت باقی نہ رہے۔ میں چاہتا تھا کہ ایسے لوگوں کی تربیت کروں جو صرف اپنے کام میں ماہر ہی نہ ہوں بلکہ مجھ سے بھی بہتر ثابت ہوں اور میں نے یہ مقصد حاصل کرلیا۔ یہی میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔