کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے مسابقتی ایکٹ 2010ء کے تحت پہلے مرحلے کے جائزے کے بعد اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ سے اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ (ای پی سی ایل) کے حصص خریدنے کے لیے لوٹے کیمیکل پاکستان لمیٹڈ (ایل سی پی ایل) کی مجوزہ خریداری کی منظوری دے دی ہے۔ منگل کو جاری بیان کے مطابق یہ منظوری مسابقتی جائزے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد دی گئی۔
لوٹے کیمیکل پاکستان لمیٹڈ (ایل سی پی ایل) پاکستان میں پیوریفائیڈ ٹیریفتھالک ایسڈ (پی ٹی اے) تیار اور فراہم کرنے والی ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے۔ پی ٹی اے بنیادی طور پر پالئیسٹر اور پولی ایتھیلین ٹیریفتھالیٹ (پی ای ٹی) کی تیاری میں خام مال کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ مجوزہ خریداری کا ہدف اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ (ای پی سی ایل) پولی وینائل کلورائیڈ (پی وی سی)، کاسٹک سوڈا، ہائیڈروجن پرآکسائیڈ اور کلور الکلی کے دیگر کیمیائی مادے تیار اور فراہم کرتی ہے۔
رواں سال مارچ میں لوٹے کیمیکل پاکستان لمیٹڈ نے اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ (ای پی سی ایل) کے حصص اور انتظامی کنٹرول حاصل کرنے کے ارادے کا اعلان کیا تھا۔
مسابقتی جائزے کے لیے سی سی پی نے پولی وینائل کلورائیڈ (پی وی سی)، کاسٹک سوڈا اور ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کو متعلقہ مصنوعات کی منڈیاں قرار دیا جبکہ پاکستان کو متعلقہ جغرافیائی مارکیٹ تسلیم کیا۔
جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ لوٹے کیمیکل پاکستان لمیٹڈ ان میں سے کسی بھی متعلقہ مارکیٹ میں کاروبار نہیں کرتی۔
مزید برآں لوٹے کیمیکل پاکستان لمیٹڈ یا اس سے منسلک، وابستہ یا گروپ کی کوئی بھی کمپنی اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ سے مصنوعات نہیں خریدتی۔ لہٰذا، مجوزہ لین دین سے دونوں کمپنیوں کے درمیان نہ تو افقی مسابقتی اشتراک پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی عمودی کاروباری تعلق قائم ہوتا ہے۔
پی وی سی کی مارکیٹ میں اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ (ای پی سی ایل) ملک کی واحد مقامی تیار کنندہ کمپنی ہے جب کہ درآمدات مسابقت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کاسٹک سوڈا اور ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی منڈیوں میں ای پی سی ایل کے حصص نسبتاً کم ہیں اور اسے دیگر کمپنیوں سے مسابقت کا سامنا ہے۔
سی سی پی نے مزید مشاہدہ کیا کہ مجوزہ خریداری سے اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ (ای پی سی ایل) کی ملکیت اور انتظامی کنٹرول میں تبدیلی آئے گی، تاہم اس سے بذاتِ خود کمپنی کی پیداواری صلاحیت، فروخت یا پیداوار میں اضافہ نہیں ہوگا۔ لہٰذا اس لین دین سے مارکیٹ میں ارتکاز بڑھنے، نئی کمپنیوں کے داخلے میں رکاوٹیں پیدا ہونے یا کسی بھی فریق کی مارکیٹ میں اثرورسوخ کی طاقت میں نمایاں اضافے کا امکان نہیں ہے۔
پہلے مرحلے کے جائزے کی بنیاد پر کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ مجوزہ لین دین سے متعلقہ منڈیوں میں مسابقت میں نمایاں کمی آنے یا کسی کمپنی کی اجارہ دارانہ حیثیت قائم ہونے یا مزید مضبوط ہونے کا امکان نہیں ہے۔ چنانچہ مسابقتی ایکٹ 2010ء کی شق 31(1)(d)(i) کے تحت اس لین دین کی منظوری دے دی گئی ہے۔