✕
اداریہ

ریلوے بدستور زبوں حالی کا شکار

  • پاکستان ریلوے کو شاذ و نادر ہی وہ مسلسل پالیسی توجہ ملی ہے جس کی اس کی معاشی اہمیت متقاضی ہے
شائع اپ ڈیٹ

وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان ریلوے کو جدید بنانے اور اس کی اراضی کی تجارتی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے حالیہ ہدایات خوش آئند ہیں، خصوصاً ایسے ادارے کے لیے جو کئی دہائیوں سے نظراندازی، مالی کمزوری اور ناکافی سرمایہ کاری کا شکار رہا ہے۔ کراچی سے پشاور تک 1,726 کلومیٹر طویل مین لائن ون (ایم ایل ون) کی اپ گریڈیشن کے لیے ریلوے کی املاک کو مالی وسائل کی فراہمی میں استعمال کرنے کی مجوزہ تجویز فنڈز کا ایک اہم ذریعہ فراہم کر سکتی ہے، جس کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم، یہ اقدام اس حوالے سے ایک اہم سوال بھی اٹھاتا ہے کہ ملک اپنے قیمتی ترین سرکاری اثاثوں میں سے ایک کو بحال کرنے کا ارادہ کس طرح رکھتا ہے، اور کیا ریلوے کی اراضی کو تجارتی مقاصد کے لیے ترقی دینا اس جائیداد کا بہترین استعمال ہے، جو مستقبل میں ریلوے کے آپریشنل تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بھی کام آ سکتی ہے۔

پاکستان ریلوے کو شاذ و نادر ہی وہ مسلسل پالیسی توجہ ملی ہے جس کی اس کی معاشی اہمیت متقاضی ہے۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے سڑکوں کے ذریعے نقل و حمل کو بڑھتا ہوا غلبہ حاصل کرنے دیا، جبکہ ریلوے کا بنیادی ڈھانچہ، مال برداری کی صلاحیت اور آپریشنل کارکردگی اس رفتار سے ترقی نہیں کر سکے جس کی ضرورت تھی۔ ترقی پذیر معیشت میں یہ صورت حال خاص طور پر افسوس ناک ہے، جہاں طویل فاصلے تک بڑی مقدار میں سامان کی ترسیل کے لیے ریل کے ذریعے نقل و حمل نمایاں لاگتی فوائد فراہم کر سکتی ہے۔ مسافروں کے لیے بھی سستی اور قابلِ اعتماد ریل خدمات ایک ضروری عوامی سہولت فراہم کر سکتی ہیں، خصوصاً کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے۔

بھارت اس بات کی ایک مفید مثال پیش کرتا ہے کہ مسلسل سرمایہ کاری اور پالیسی توجہ سے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا وسیع ریلوے نیٹ ورک بڑی تعداد میں مسافروں اور مال برداری کو سنبھالتا ہے، جو آمدنی میں نمایاں فرق رکھنے والے گنجان آباد ملک میں ریل کے ذریعے نقل و حمل کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے حالات مختلف ہیں، لیکن بنیادی معاشی منطق یکساں ہے۔ ایک فعال ریلوے نیٹ ورک نقل و حمل کے اخراجات کم کر سکتا ہے، رابطوں کو بہتر بنا سکتا ہے اور سڑکوں پر دباؤ کم کر سکتا ہے۔ لہٰذا، ملک کو ریلوے کی ترقی کو محض کبھی کبھار بحالی کے منصوبے کے بجائے اپنی معاشی پالیسی کا ایک مرکزی جزو سمجھنا چاہیے۔

مال برداری کے شعبے میں مواقع خاص طور پر اہم ہیں۔ پاکستان کی بڑی سمندری بندرگاہیں جنوب میں واقع ہیں، جبکہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کا بڑا حصہ شمال کی جانب پھیلا ہوا ہے۔ درآمدی سامان کو پیداواری اور کھپت کے مراکز تک پہنچانا ضروری ہے، جبکہ برآمدی سامان کو اس کے برعکس سمت میں لے جانا پڑتا ہے۔ اس صورت حال سے کراچی سے پشاور تک کے راستے پر قابلِ اعتماد اور زیادہ گنجائش کی حامل مال بردار ریل خدمات کے لیے ایک فطری منڈی پیدا ہوتی ہے۔ کنٹینرز اور بڑی مقدار میں سامان کی ریل کے ذریعے زیادہ ترسیل سے طویل فاصلے تک سڑکوں کے ذریعے مال برداری پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، رسد اور ترسیل کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے اور پاکستان ریلوے کی تجارتی افادیت مضبوط ہو سکتی ہے۔ ایم ایل ون کو اسی موقع کو سامنے رکھتے ہوئے ترقی دی جانی چاہیے، جس میں مال برداری کی مناسب گنجائش، ٹرمینلز اور بندرگاہوں و صنعتی مراکز سے رابطے شامل ہوں۔

ریلوے کی اراضی پر نئی توجہ بھی تاخیر سے سہی، لیکن خوش آئند ہے۔ غیر قانونی قبضوں اور اثاثوں کے ناقص انتظام نے ادارے کو اپنی قیمتی جائیداد پر مؤثر اختیار سے محروم کر رکھا ہے، جبکہ یکے بعد دیگرے آنے والی انتظامیہ ایسی املاک کے لیے درکار شفافیت اور نظم و ضبط قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ غیر قانونی قبضے میں لی گئی اراضی کی نشاندہی اور اسے واگزار کرانے کی کوششوں کی یقیناً حمایت کی جانی چاہیے۔ تاہم اراضی کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے فیصلوں سے پہلے اس کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنا، ملکیت کے واضح دستاویزات تیار کرنا اور ہر جائیداد کی موجودہ اور مستقبل کی افادیت کا شفاف جائزہ لینا ضروری ہے۔

ریلوے کی اراضی کی آئینی اور قانونی حیثیت کا بھی محتاط جائزہ لیا جانا چاہیے۔ پاکستان ریلوے کے پاس موجود یا اس کے زیرِ استعمال اراضی کی ملکیت، حصول اور منتقلی کی تاریخ مختلف ہو سکتی ہے، جس میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ کیے گئے انتظامات بھی شامل ہیں۔ کسی بھی مالیاتی ماڈل کے تحت جائیداد کو رہن رکھنے، لیز پر دینے یا اس کی ترقی کے لیے استعمال کرنے سے پہلے ملکیت کے واضح حقوق اور متعلقہ قانونی اختیارات کا تعین ضروری ہے۔ اسی طرح، مستقبل میں پٹریوں، مال برداری کے یارڈز، ٹرمینلز، اسٹیشنوں اور نیٹ ورک کی توسیع کے لیے درکار اراضی کو بھی محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ ریلوے کی املاک سے حاصل ہونے والے تجارتی منافع کا موازنہ ان کی طویل مدتی ٹرانسپورٹ افادیت سے کیا جانا ضروری ہے۔

بالآخر ادارے میں کارپوریٹ طرز کی اصلاحات کا دائرہ کار آپریشنز، دیکھ بھال، مالی جواب دہی، مال برداری کی خدمات کی مارکیٹنگ اور خدمات کے قابلِ اعتماد ہونے تک پھیلنا چاہیے۔ اثاثوں کو رہن رکھ کر قرض حاصل کرنا بنیادی ڈھانچے کی مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اس سے پیدا ہونے والی مالی ذمہ داریوں کے لیے آمدن کے قابلِ اعتبار تخمینے اور خطرات کا محتاط انتظام ضروری ہے۔ حکومت کو مالی وسائل کی فراہمی کا طریقۂ کار شائع کرنا چاہیے، تجارتی افادیت کا آزادانہ جائزہ لینا چاہیے اور عمل درآمد کے لیے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کرنے چاہییں۔

پاکستان ریلوے کو بہت طویل عرصے سے ایک پیداواری قومی اثاثے کے بجائے ایک مہنگی وراثت سمجھا جاتا رہا ہے۔ وزیر اعظم کا یہ اقدام اس سوچ کو تبدیل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ ریلوے ایک ایسا ادارہ بن جائے جو نمایاں طور پر زیادہ مسافروں اور سامان کی نقل و حمل کے ذریعے اپنے اخراجات پورے کرے، اور اس کی اراضی بھی اسی وسیع تر مقصد کے حصول کے لیے استعمال ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026