✕
پاکستان

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے اپوزیشن مرکز کا ساتھ دے، بلاول بھٹو

  • سیکیورٹی صورت حال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، دہشت گردی کے خلاف اتحاد کی اپیل
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کی کوششوں کی حمایت کرکے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے خاتمے میں مدد دے سکتی ہے۔

بلاول بھٹو نے کراچی میں سانحہ کارساز کی 19 ویں برسی کے موقع پر یادگارِ شہدا پر منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ ان کی جماعت دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صوبے میں سیکیورٹی کی صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کا ساتھ دے تو ایمرجنسی ختم ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں بہتری کے بجائے صورت حال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔

سانحہ کارساز کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے اسے پاکستان کی تاریخ کے افسوس ناک واقعات میں سے ایک قرار دیا اور جاں بحق افراد کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو سنگین سیکیورٹی خطرات کے باوجود پاکستان واپس آئی تھیں، تاہم ان کے استقبالی جلوس کو ایک بڑے دہشت گرد حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور شدت پسندی کے خلاف جنگ میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔ انہوں نے سوات میں فوجی آپریشن کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس آپریشن کے ذریعے بے نظیر بھٹو کا یہ وعدہ پورا ہوا کہ سوات میں پاکستان کا پرچم لہرائے گا۔

پی پی پی چیئرمین نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لاکر ملک میں دوبارہ آباد ہونے دیا گیا اور دہشت گردی کے جرائم میں سزا یافتہ بعض قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ ان کے بقول پاکستان اب ان فیصلوں کے نتائج بھگت رہا ہے اور خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کی بلند ترین سطح کا سامنا ہے۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ان کی جماعت دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے اور ملک سے شدت پسندی کے خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی کو بھی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے وفاقی حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ دونوں اقدامات آئینی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن ان اقدامات کی واپسی چاہتی ہے تو اسے مذاکرات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے قومی اتحاد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک سیاسی قوتیں اس خطرے کے خلاف متحد نہیں ہوں گی، ملک کامیابی حاصل نہیں کرسکے گا۔

دیگر سیاسی امور پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ پاکستان کو تاریخ کے بدترین معاشی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے مجوزہ پارلیمانی مذاکرات میں حصہ لیں۔

نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت صوبائی منظوری سے نئی اکائیاں قائم کی جاسکتی ہیں۔ گلگت بلتستان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے موجود ہے تو اب تک نیا صوبہ کیوں نہیں بنایا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی مفاہمت اور مذاکرات پر زور دیا۔