فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 5 کروڑ روپے تک کی متنازعہ ٹیکس لائیبلٹی سے متعلق ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے آلٹرنیٹو ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (اے ڈی آر سی) کے چیئرمین کے لیے یکمشت 3,00,000 روپے اور ہر رکن کے لیے 1,50,000 روپے کا معاوضہ مقرر کر دیا ہے۔
جاری کردہ نظرثانی شدہ قواعد کے تحت، 5 کروڑ روپے سے زائد کے متنازع ٹیکس واجبات کے تصفیے کے لیے کمیٹی کے چیئرمین کو 5 لاکھ روپے جبکہ ہر رکن کو ڈھائی لاکھ روپے یکمشت معاوضہ دیا جائے گا۔ تاہم کمیٹی میں شامل ان لینڈ ریونیو کا ایسا افسر جس کا عہدہ بی ایس 21 یا اس سے زیادہ ہو، مقررہ معاوضے کا اہل نہیں ہوگا۔
ایس آر او 1927(I)/2026 کے مطابق، نظرثانی شدہ رول 231C کا اطلاق ان تمام تنازعات پر ہوگا جو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 134A کے تحت حل کے لیے پیش کیے گئے ہوں یا جنہیں حل کے لیے متعلقہ دفعہ کے تحت نامزد کیا گیا ہو۔ قواعد میں متاثرہ شخص سے مراد ایسا فرد یا ادارہ ہے جس نے متعلقہ دفعہ کے تحت تنازع حل کرنے کے لیے درخواست دی ہو جبکہ کمیٹی سے مراد انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 134A کی ذیلی دفعہ (3) کے تحت تشکیل دی گئی کمیٹی ہے۔
ایف بی آر نے کمیٹی ارکان کے لیے سفری اور یومیہ الاؤنسز کی بھی منظوری دی ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین کو وفاقی حکومت کے گریڈ 22 کے افسر کے مساوی سفری اور یومیہ الاؤنسز دیے جاسکیں گے جبکہ کمیٹی ارکان گریڈ 21 کے وفاقی سرکاری افسران کے مساوی الاؤنسز کے اہل ہوں گے۔
ترمیم شدہ قواعد کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 134A کے تحت تنازع حل کرانے کا خواہش مند متاثرہ شخص ایف بی آر کو تحریری درخواست جمع کرانے کا پابند ہوگا۔ درخواست رول 231C کے شیڈول کے حصہ اول میں مقررہ فارم کے مطابق جمع کرانا ہوگی۔