ٹرمپ کا ایران کی جوہری تنصیب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر حملے کا عندیہ
- امریکی صدر ایران کی زیرِ زمین گہرائی میں واقع جوہری تنصیب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو نشانہ بنانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ تہران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دیے جائیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک مقام ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے، کیونکہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
جمعرات کی شب نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے۔ یہ جنگ فروری میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، ’’کیونکہ اگر اس کے پاس یہ ہتھیار آ گیا تو وہ اسے استعمال کرے گا۔‘‘
ٹرمپ نے نیوز میکس کو بتایا، ’’ان کا جوہری پروگرام پہاڑ کے نیچے لاکھوں ٹن چٹانوں تلے دفن ہے۔ اب ہم ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر غور کر رہے ہیں۔ ہمیں وہاں حملہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہم اسے بھی نشانہ بنائیں گے اور تیزی سے تباہ کر دیں گے۔‘‘
’پک ایکس ماؤنٹین‘ تہران کی اہم جوہری تنصیبات میں سے ایک کے قریب واقع ایک مضبوط حفاظتی انتظامات والی تنصیب ہے، جو زمین کے اندر انتہائی گہرائی میں بنائی گئی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران میں جوہری بم استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کے بقول، ’’میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں کروں گا، ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔‘‘
ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ ایران میں امریکی زمینی فوج تعینات کرنے پر غور نہیں کر رہے۔
ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ آیا انہوں نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے جی بی یو 43/بی میسیو آرڈیننس ایئر برسٹ (ایم او اے بی) بم، جسے ’’تمام بموں کی ماں‘‘ بھی کہا جاتا ہے، استعمال کرنے کی منظوری دی ہے یا نہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ایم او اے بی بم جوہری ہتھیار نہیں ہے۔