✕
اداریہ

معاشی استحکام کے باوجود عوام بدحال

شائع اپ ڈیٹ

معاشی صورت حال کوئی حوصلہ افزا تصویر پیش نہیں کررہی۔ کاروباری طبقہ اور صارفین سب ہی اس کے اثرات بھگت رہے ہیں۔ اب حکمران سیاسی جماعتوں کے مختلف حلقوں میں بھی مایوسی اور بے چینی سامنے آنے لگی ہے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ معاشی کارکردگی اتنی اچھی نہیں کہ 2028-29 کے ممکنہ انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے میں مدد دے سکے۔ دوسرے لفظوں میں سیاسی بے چینی بڑھ رہی ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اب بھی معیشت کو بنیادی اصولوں کے مطابق چلانے کی بات کررہے ہیں اور معاشی استحکام کو سراہتے ہیں۔ مختصر مدت میں یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہوتی ہے، تاہم مسلسل پانچ سال تک معیشت کا گلا گھونٹ کر استحکام برقرار رکھنے کی کوشش الٹا نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مالیاتی اصلاحات کا فقدان ہے، خواہ بات ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی ہو یا حکومتی جاری اخراجات میں کمی لانے کی۔

بلاشبہ حکومت مسلسل چوتھے سال بنیادی مالیاتی سرپلس برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ مجموعی مالیاتی خسارہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آچکا ہے۔ تاہم اس سے غربت میں کمی لانے میں مدد نہیں مل رہی۔ عالمی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 2024 کے دوران انتہائی غربت کی شرح، یعنی روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدن پر زندگی گزارنے والے افراد کا تناسب 23 فیصد تھا۔ یہ شرح بنگلہ دیش کے 5.9 فیصد اور بھارت کے 5.3 فیصد سے چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔

پاکستان کی تقریباً نصف آبادی مناسب خوراک، رہائش، تعلیم، صحت کی سہولتوں اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ ملک کی 48 فیصد آبادی یومیہ 4.2 ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کرتی ہے جو بنگلہ دیش اور بھارت میں اس شرح سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔

موجودہ معاشی استحکام کی پالیسیاں صورت حال کو مزید خراب کررہی ہیں۔ کمزور اور پسماندہ طبقات کو روزگار کے مواقع درکار ہیں جو صرف معاشی نمو میں اضافے کے ذریعے پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ استحکام کی پالیسیوں سے صرف اشرافیہ کو اطمینان حاصل ہورہا ہے جبکہ عوام کی اکثریت کی زندگی اجیرن ہوتی جارہی ہے۔ معاشی ترقی کے لیے ترقیاتی اخراجات میں اضافہ اور رسمی شعبے پر عائد ٹیکسوں کو معقول بنانا ضروری ہے، مگر دونوں محاذوں پر پیش رفت نظر نہیں آتی۔

حکومتی جاری اخراجات میں کوئی نمایاں کمی دکھائی نہیں دیتی جس کے باعث عوامی سطح پر حکومت کے بارے میں تاثر انتہائی منفی ہے۔ بیرون ملک دوروں اور نجی طیاروں کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ وزرا اور مشیروں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جبکہ حکمران اشرافیہ کو نوازنے کا سلسلہ بھی ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔

دوسری جانب مالیاتی اہداف پورے کرنے کے لیے کٹوتیوں کی تلوار صرف ترقیاتی اخراجات پر چلائی جاتی ہے۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے اخراجات مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے اوسطاً 0.6 فیصد رہے جب کہ اس سے پہلے کے پانچ برس میں یہ شرح 1.3 فیصد تھی۔ یہ صورت حال ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید بگڑ رہی ہے۔ ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی اپنے ہی جسم کا گوشت کاٹنے کے مترادف ہے اور اس میں کمی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاقی اخراجات میں کمی کی تلافی صوبائی اخراجات میں اضافے سے ہوجاتی ہے۔ تاہم رواں سال صوبے وفاق کو ایک کھرب روپے اضافی فراہم کررہے ہیں جس کے نتیجے میں وہ خود ترقیاتی منصوبوں، صحت اور تعلیم کے اخراجات میں کٹوتیاں کررہے ہیں۔ ایسے ملک میں یہ طرزِ عمل سنگین غفلت کے مترادف ہے جہاں 5 سے 16 سال کی عمر کے ڈھائی کروڑ بچے، یعنی مجموعی تعداد کا 35 فیصد، اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچے عمر کے لحاظ سے مناسب نشوونما سے محروم ہیں۔

ملک میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ہنگامی صورت حال نافذ ہونی چاہیے، لیکن اس کے برعکس حکومتیں آئی ایم ایف کے اہداف پورے کرنے کیلئے ان شعبوں کے اخراجات کم کررہی ہیں جبکہ اپنے غیر ضروری اور بے جا اخراجات میں کمی کے لیے کچھ نہیں کررہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ دیگر تمام اقسام کے اخراجات کم کرکے ترقیاتی منصوبوں اور سماجی شعبوں پر خرچ کرنے کے لیے مالی گنجائش پیدا کرے۔ اس کے ساتھ ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر اور خوردہ فروشوں، تاجروں اور دیگر طبقات کو ٹیکس کے دائرے میں لا کر اضافی محصولات حاصل کیے جائیں۔ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ مخصوص طبقات کو ٹیکس سے مستثنیٰ سمجھنے کی روایت ختم کرنا ہوگی، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ حکومت کو اس مسئلے کا براہِ راست اور سنجیدگی سے سامنا کرنا چاہیے۔

اگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک مسلسل زوال کی گہرائیوں میں گرتا جا سکتا ہے اور عوام و حکمران اشرافیہ کے درمیان خلیج مزید وسیع ہوتی رہے گی۔ حالات کو اس طرح بگڑنے دینے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ بالآخر یہ صورت حال ایک بڑے دھماکے کی شکل اختیار کرسکتی ہے جو پورے نظام کو بہا لے جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026