اسٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار، 100 انڈیکس میں 350 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
- صبح 11 بجکر 10 منٹ پر 100 انڈیکس 166,552.85 پوائنٹس پر جاپہنچا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو کاروبار کے ابتدائی اوقات کے دوران خریداری کا رجحان غالب رہا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس میں 350 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صبح 11 بجکر 10 منٹ پر 100 انڈیکس 366.69 پوائنٹس یا 0.22 فیصد اضافے سے 166,552.85 پوائنٹس پر جاپہنچا۔
آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز)، بجلی کی پیداوار اور ریفائنریوں کے شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ اے آر ایل، حبکو، ماری، پول، پی پی ایل، پی ایس او، ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
ایک اہم پیشرفت میں ایف بی آر نے جمعرات کو ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں مزید توسیع کرتے ہوئے 31 اکتوبر 2026 مقرر کردی جس سے ٹیکس دہندگان کو گوشوارے جمع کرانے کے لیے مزید دو ہفتے مل گئے۔
جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تیزی کا رجحان برقرار رہا اور نمایاں حصص میں وسیع پیمانے پر خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ تاہم بعض حصص کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچنے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کے باعث دورانِ کاروبار ہونے والا کچھ اضافہ کم ہوگیا جبکہ سعودی عرب پر حوثی حملوں میں شدت نے خطے میں جغرافیائی سیاسی خدشات بڑھا دیے۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 768.66 پوائنٹس یا 0.46 فیصد اضافے سے 166,186.17 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی منڈیوں میں جمعہ کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں بحالی دیکھی گئی۔ اس سے قبل گزشتہ سیشن میں بڑے پیمانے پر فروخت ہوئی تھی، جب سرمایہ کاروں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص فروخت کیے۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ کمپنی کوری ویو کے بھاری قرضوں سے متعلق خدشات نے اے آئی صنعت میں تیزی کو مالی معاونت فراہم کرنے والے ذرائع کے بارے میں تشویش بڑھا دی تھی۔
جمعرات کو سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکی ٹریژری بانڈز اور دیگر محفوظ سمجھے جانے والے ممالک کے سرکاری قرضوں کی خریداری کے باعث منافع کی شرح میں نمایاں کمی کے بعد بانڈ مارکیٹ مستحکم ہوگئی۔ امریکی بانڈز پر منافع کم ہونے سے ڈالر کی کشش گھٹ گئی اور امریکی کرنسی پانچ ہفتوں میں پہلی بار ہفتہ وار گراوٹ کی جانب گامزن رہی۔
سونے کی قیمت جمعرات کی بلند سطح سے نیچے آگئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بھی کم ہوکر 105 ڈالر فی بیرل کی سطح کی جانب بڑھنے لگی۔
جاپان کے ٹیکنالوجی اسٹاکس پر مشتمل نکی انڈیکس 1.8 فیصد بڑھا جس سے جمعرات کو ہونے والی تقریباً 5 فیصد کی گراوٹ کے کچھ نقصانات پورے ہوگئے۔
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 2.8 فیصد چڑھ گیا جو ایک روز قبل تقریباً 8 فیصد گراوٹ کا شکار ہوا تھا۔
تائیوان کے مرکزی اسٹاک انڈیکس میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.1 فیصد بڑھ گیا۔ سرزمین چین کے بلیو چپ حصص میں بھی 0.3 فیصد کی معمولی تیزی دیکھی گئی۔
امریکی اسٹاک فیوچرز میں کمی رہی۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل نیسڈیک کے فیوچرز 0.3 فیصد نیچے آئے جبکہ ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.1 فیصد کمی ہوئی۔ اس سے قبل جمعرات کو دونوں انڈیکس کے نقد حصص میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے