✕
کاروبار اور معیشت

پاکستان اور عالمی بینک کا کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پر عمل درآمد تیز کرنے کا عزم

  • وزیر خزانہ نے زور دیا کہ رعایتی مالی وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے
شائع اپ ڈیٹ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی اور عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی مالی معاونت کے ذرائع متنوع بنانے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔

محمد اورنگزیب نے جے پی مورگن کے سرمایہ کاری سیمینار میں بھی شرکت کی، جس کا عنوان تھا ’’پاکستان: عالمی معیشت کے غیر یقینی حالات میں مضبوطی کی جانب سفر‘‘۔سیمینار کے دوران وزیر خزانہ نے مجموعی معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور بنیادی بجٹ سرپلس برقرار رکھنے کے حوالے سے پیش رفت کو اجاگر کیا۔

تبادلۂ خیال میں ترسیلات زر کی مضبوط آمد، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، جاری کھاتے کے خسارے کو محدود رکھنے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں پر بھی بات ہوئی۔

انہوں نے بین الاقوامی مالی معاونت کے ذرائع متنوع بنانے اور بیرونی قرضوں کے مجموعی حجم میں اضافہ کیے بغیر مہنگے قرضوں کی جگہ نسبتاً کم لاگت کے مالی وسائل حاصل کرنے کی کوششوں کی وضاحت کی۔ وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد اور مسلسل ساختی اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے محتاط زری پالیسی جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔

محمد اورنگزیب نے کمزور اور مستحق گھرانوں کے لیے ہدفی معاونت، توانائی کی محتاط خریداری اور برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی کی اہمیت اجاگر کی۔ اس کے علاوہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی رابطہ کاری بہتر بنانے اور تجارت و سرمایہ کاری کے شراکتی روابط مضبوط کرنے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔