ای ایس جی رپورٹنگ کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت
- بڑی منڈیاں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سخت تقاضے متعارف کرا رہی ہیں
پاکستان انوائرنمنٹل، سوشل اینڈ گورننس (ای ایس جی) پالیسی رپورٹ 2026 کے اجرا کے موقع پر سینیٹر شیری رحمٰن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات سے انکشافات اور عملی نفاذ کے درمیان ایک نمایاں خلیج کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ایک طویل عرصے سے پائیداری کا تصور کارپوریٹ پریزنٹیشنز کی زبان بننے کا خطرہ رہا ہے، بجائے اس کے کہ اسے کاروباری کارکردگی کا ایک قابل پیمائش جزو بنایا جائے۔
لہٰذا بنیادی چیلنج یہ نہیں کہ پاکستان کو ای ایس جی اپنانا چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ ایسا نظام تشکیل دے سکتا ہے جس میں ماحولیاتی اور سماجی وعدے قابل اعتبار، قابل تصدیق اور ٹھوس نتائج پیدا کرنے کے اہل ہوں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سینکڑوں کمپنیوں کے اندراج کے باوجود ان کے اخراج، وسائل کے استعمال، فضلے اور ماحولیاتی اثرات سے متعلق تفصیلی اور آزادانہ طور پر قابل تصدیق معلومات کی دستیابی محدود ہے۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ پائیداری سے متعلق ایک چمک دار رپورٹ صاف ستھری پیداوار، اخراج میں کمی یا وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کے شواہد کا متبادل نہیں بن سکتی۔ یہ فرق اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب ہمارے کاروبار عالمی منڈی میں کام کر رہے ہیں، جہاں ماحولیاتی معیارات تجارت اور سرمایہ کاری کے فیصلوں کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
بڑی منڈیاں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سخت تقاضے متعارف کرا رہی ہیں، اس لیے برآمد کنندگان پر اپنی مصنوعات کے ماحولیاتی اثرات ثابت کرنے کے لیے دباؤ بڑھتا جائے گا۔ چنانچہ ای ایس جی اب محض کارپوریٹ ساکھ کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ تیزی سے مسابقت اور منڈیوں تک رسائی کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
تاہم ضابطہ سازی احتیاط سے کی جانی چاہیے۔ پاکستان کا نجی شعبہ پہلے ہی بھاری ٹیکسوں، توانائی کی بلند لاگت اور ضابطہ جاتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ کاروباری اداروں کو تقاضے پورے کرنے کے عملی ذرائع فراہم کیے بغیر محض تعمیل کی ایک اور تہہ شامل کرنے سے اخراجات تو بڑھ سکتے ہیں، لیکن ماحولیات کے حوالے سے کوئی بامعنی بہتری حاصل نہیں ہوگی۔
ایک مؤثر حکمت عملی میں لازمی اور معیاری انکشافات کے ساتھ ایسی مراعات شامل ہونی چاہئیں جو صاف ستھری ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو تجارتی طور پر قابل عمل بنائیں۔ ایسا نظام ضابطوں کی پابندی کی حوصلہ افزائی کرے گا اور کاروباری اداروں کو ماحولیاتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ راستہ بھی فراہم کرے گا۔
مجوزہ پاکستان گرین ٹیکسانومی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ درجہ بندی کا ایک مشترکہ نظام کاروباری اداروں، بینکوں اور نگران اداروں کو حقیقی طور پر پائیدار سرگرمیوں اور محض ظاہری دعوؤں کے درمیان فرق کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم، یہ نظام اسی وقت مفید ہوگا جب اس کے ساتھ واضح معیارات، آزادانہ تصدیق اور قابل اعتبار نفاذ بھی موجود ہوں۔
بصورت دیگر، ای ایس جی کاغذی کارروائی کی ایک اور مشق بن کر رہ جائے گا۔ تصدیق کا معاملہ خاص طور پر اہم ہے، کمپنیوں کو مناسب بیرونی جانچ پڑتال کے بغیر اپنی ماحولیاتی کارکردگی کا خود جائزہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
نگران اداروں کو انکشافات کا جائزہ لینے اور ان کا زمینی حقائق سے موازنہ کرنے کے لیے مناسب تکنیکی صلاحیت درکار ہوگی۔ دوسری جانب، سزائیں خلاف ورزی کی نوعیت اور شدت کے تناسب سے ہونی چاہئیں، جبکہ جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کرنے اور مسلسل عدم تعمیل کرنے والوں پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
اسی طرح ایک حقیقت پسندانہ عبوری راستہ متعین کرنا بھی اہم ہے، جیسا کہ سینیٹر شیری رحمٰن نے بجا طور پر تجویز کیا ہے، تاکہ صاف ستھری پیداوار کو معاشی طور پر قابل عمل بنایا جا سکے۔ سیمنٹ سازی جیسی صنعتیں راتوں رات تبدیل نہیں ہو سکتیں۔
صاف ستھری ٹیکنالوجی، توانائی کی بچت، فضلے میں کمی اور کم اخراج والے پیداواری طریقوں کے لیے بھاری سرمایہ اور تکنیکی مہارت درکار ہوتی ہے۔ مراعات، رعایتی مالی سہولتیں اور قابل پیش گوئی ضابطے کاروباری اداروں کو غیر ضروری بوجھ ڈالے بغیر اس تبدیلی کی جانب بڑھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
بالآخرای ایس جی پالیسی کو حکومت اور کاروباری شعبے کے درمیان مقابلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
مقصد نہ تو محض ضابطے نافذ کرنا ہونا چاہیے اور نہ ہی جواب دہی کے بغیر پائیداری کے رضاکارانہ وعدے کرنا۔ اس کے بجائے ایسا نظام قائم ہونا چاہیے جس میں شفافیت لازمی ہو، حقیقی بہتری کی حوصلہ افزائی کی جائے اور گمراہ کن دعوؤں کے نتائج بھگتنا پڑیں۔
صرف اسی صورت میں ای ایس جی محض تعمیل کے لیے جمع کرائی جانے والی رپورٹ کے بجائے ایک صاف ستھری، زیادہ مضبوط اور مسابقتی معیشت کی تعمیر کا عملی ذریعہ بن سکے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026