✕
پاکستان

شہباز شریف کا کسٹمز حکام کو فضائی مسافروں سے غیر ضروری پوچھ گچھ ختم کرنے کا حکم

  • وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ایئرپورٹس پر سامان کی دستی تلاشی کے بجائے جدید اسمارٹ اسکینرز نصب کیے جائیں
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز ملک کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر مسافروں کی سہولت کے لیے جدید اسمارٹ اسکینرز فوری نصب کرنے اور سامان کی جانچ پڑتال کے فرسودہ طریقۂ کار کی جگہ خودکار نظام متعارف کرانے کی ہدایت کردی۔

کسٹمز نظام کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ عالمی سطح پر رائج خودکار اسکریننگ نظام متعارف کرائے جائیں اور کسٹمز حکام کی جانب سے مسافروں سے غیر ضروری پوچھ گچھ نہ کی جائے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ اسمارٹ اسکینرز فضائی راستے سے پاکستان لائے جائیں اور بلا تاخیر تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر نصب کیے جائیں۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا، ’’مسافروں کا آرام اور سہولت ہماری اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی انہیں ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘

انہوں نے ہوائی اڈوں پر خدمات انجام دینے والے عملے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت دینے کا بھی حکم دیا اور ہدایت کی کہ مسافروں کے ساتھ خوش اخلاقی اور احترام کو تربیت کا لازمی حصہ بنایا جائے۔

شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین اور ان کی ٹیم کو کسٹمز کے نفاذ کا نیا نظام متعارف کرانے پر سراہا۔ انہوں نے ٹیکس چوری کے ذریعے قومی محصولات کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری ادارے احترام کے مستحق ہیں، جبکہ ٹیکس چوری کرنے والوں کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔

اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعظم کو ہوائی اڈوں،بندرگاہوں اور دیگر مقامات پر سامان کی نقل و حرکت، کسٹمز نگرانی اور پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ روکنے کے اقدامات پر بریفنگ دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام اور انہیں فعال بنانے کے عمل میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق انڈس کلکٹریٹ (انفورسمنٹ) نے ابتدائی تین ہفتوں کے دوران 80 کارروائیوں میں تقریباً 20 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کا سامان ضبط کیا۔ ان کارروائیوں کے لیے مجموعی طور پر 865 اہلکار تعینات کیے گئے، جنہوں نے 26 اہم راستوں کا احاطہ کیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اسمگل شدہ کپڑے، گاڑیوں، سگریٹ، ہائی اسپیڈ ڈیزل، آٹو پارٹس اور دیگر اشیا کی اسمگلنگ کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔

حکام نے بتایا کہ کسٹمز اصلاحات کے تحت سامان کی مالیت کا تخمینہ لگانے والے 280 اہلکاروں کی بھرتی مکمل کرلی گئی ہے، جبکہ ان کی تربیت اکتوبر اور نومبر 2026 میں شیڈول ہے۔

اجلاس کو ایف بی آر کی ان اصلاحات پر بھی بریفنگ دی گئی جن کا مقصد اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کسٹمز کے نفاذ سے متعلق کارروائیوں کو ایک مربوط، ملک گیر ادارے کے تحت یکجا کرنا ہے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، مصدق ملک، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ اور شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، ارکانِ پارلیمنٹ عثمان اویسی اور رانا ارادت شریف خان سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔