فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے گزشتہ دو برسوں کے دوران صنعتی بجلی کا ٹیرف 16 سینٹ سے کم کرکے 12 سینٹ فی یونٹ کرنے کے حکومتی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدات بڑھانے اور درآمدات کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بجلی کا نرخ مزید کم کرکے 9 سینٹ فی یونٹ سے نیچے لایا جائے اور اس سہولت کا اطلاق تمام صنعتی صارفین پر کیا جائے۔
ہفتے کو جاری کردہ بیان میں عاطف اکرام شیخ نے خبردار کیا کہ 12 سینٹ فی یونٹ کا نرخ اور مخصوص صنعتوں کے لیے رعایتی اسکیمیں عارضی حل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات بڑھانے اور درآمدات کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بی تھری اور بی فور سمیت تمام صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ یکساں طور پر کم کیے جائیں۔
عاطف اکرام شیخ نے ریلیف فراہم کرنے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے صنعتی شعبے میں بجلی کی طلب بڑھانے کے لیے دو اقدامات متعارف کرانے پر بھی وفاقی وزیر کی کوششوں کو سراہا جن میں اضافی بجلی کے استعمال پر رعایتی پیکیج اور وقت کے لحاظ سے اختیاری دو حصوں پر مشتمل ٹیرف (ٹو یو) شامل ہیں۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ اضافی بجلی کے استعمال کے پیکیج کے تحت صارفین کو ان کی سابقہ کھپت، یعنی بنیادی استعمال کی مقررہ سطح سے زائد بجلی استعمال کرنے پر رعایتی نرخ فراہم کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ لوڈ پر بجلی کے بل پہلے کی طرح وصول کیے جاتے ہیں جبکہ رعایت صرف اضافی استعمال ہونے والے یونٹس پر لاگو ہوتی ہے۔
دو حصوں پر مشتمل وقت کے لحاظ سے ٹیرف (ٹو یو) کے تحت بجلی کے بل کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں فی کلوواٹ ماہانہ مقررہ صلاحیتی چارجز اور بجلی کے فی یونٹ استعمال پر متغیر چارجز شامل ہیں جن کی شرح استعمال کے وقت کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔ اس ٹیرف میں سولر سے بجلی پیدا کرنے والے صارفین، غیر سولر صارفین اور پیک آورز کے لیے الگ الگ نرخ مقرر ہیں۔ اس کا مقصد صنعتوں کو دن کے اوقات میں زیادہ بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے جب شمسی توانائی کی پیداوار وافر ہوتی ہے، تاکہ بجلی کی طلب اور پیداوار میں دن کے مختلف اوقات کے دوران پیدا ہونے والے اتار چڑھاؤ یعنی ڈک کرو کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ صنعتی شعبہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران دو حصوں پر مشتمل ٹو یو ٹیرف پر اپنے تحفظات پاور ڈویژن کے سامنے پیش کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیرف کے تحت مقررہ چارجز بہت زیادہ ہیں جبکہ جنگ کے باعث رسد اور نقل و حمل کا نظام متاثر ہونے کے پیش نظر موجودہ حالات میں یہ ٹیرف صنعت کے لیے قابلِ عمل نہیں۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر نے تجویز دی کہ کسی ایک صنعت کو دی جانے والی رعایت کا بوجھ بھی تمام صارفین سے وصول کیا جائے گا جس سے ایک کو ہونے والا فائدہ دوسرے کے لیے اضافی بوجھ بن جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ صنعت پہلے ہی دن کے اوقات اور شمسی توانائی کی دستیابی کے مطابق اپنے بجلی کے استعمال کو بہتر بنا چکی ہے، اس لیے رات کے بجائے دن میں بجلی کی طلب منتقل کرنے کی گنجائش محدود ہے۔ مزید یہ کہ مجوزہ سولر آورز کے نرخوں پر بھی تمام حسابات کے مطابق شمسی توانائی، قومی گرڈ سے حاصل ہونے والی بجلی کے مقابلے میں سستی رہتی ہے۔ چنانچہ یہ ٹیرف نہ تو سولر آورز میں صنعتوں کو دوبارہ گرڈ سے بجلی لینے پر آمادہ کر سکے گا اور نہ ہی ڈک کرو کے مسئلے کو حل کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایسی تجاویز مرتب کرتے وقت صنعتی شعبے کی آرا کو مناسب اہمیت دی جائے گی۔
عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ بی تھری اور بی فور کے صارفین زیادہ وولٹیج پر بجلی حاصل کرتے ہیں اور انہیں بجلی فراہم کرنے کی لاگت بھی نسبتاً کم ہوتی ہے، اس کے باوجود وہ کراس سبسڈی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق دیگر صنعتی صارفین کے ساتھ ان زمروں کے لیے بھی بجلی کے نرخ باآسانی کم کیے جا سکتے ہیں جس سے صارفین اور بجلی کے نظام دونوں کو فائدہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی بجلی کے نرخوں میں کمی پر آئی ایم ایف کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔