نوبیل انعام سابق جج کو ملنے کے چند گھنٹے بعد امریکا کی عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد
- عالمی فوجداری عدالت نے اس اقدام کو ’’قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادی اساس پر حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنے 125 رکن ممالک سے عدالت کے دفاع کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعے کو عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں۔ یہ اقدام عدالت کی سابق جج کو نوبیل امن انعام ملنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس سے واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان سفارتی محاذ آرائی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
عالمی فوجداری عدالت نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادی اساس پر حملہ‘‘ قرار دیا اور اپنے 125 رکن ممالک سے عدالت کے دفاع کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
عدالت نے ایک بیان میں کہا، ’’عدالت تنہا اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اب اس کا مستقبل ان ریاستوں کے ہاتھ میں بھی ہے جنہوں نے اسے قائم کیا تھا۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا، ’’یہ معاملہ صرف ایک ادارے کے دفاع تک محدود نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی پر مبنی بین الاقوامی نظام کے تحفظ کا بھی ہے۔ تاریخ اس لمحے کا فیصلہ کرے گی۔‘‘
ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے سے عالمی فوجداری عدالت کی مخالف رہی ہے۔ یہ عدالت 2002 میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات چلانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ واشنگٹن اس سے قبل بھی عدالت کے استغاثہ کے حکام اور ججوں پر پابندیاں عائد کرچکا ہے۔
جمعے کو اٹھایا گیا یہ قدم کہیں زیادہ سخت ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ اس کے تحت خود عدالت کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی ممکنہ طور پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے رائٹرز کی جانب سے سب سے پہلے شائع کیے گئے ایک بیان میں کہا، ’’صدر ٹرمپ عالمی فوجداری عدالت کو کبھی بھی امریکی شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اسی لیے امریکا آج عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کررہا ہے۔ ہم اس خودسر عدالت کے ساتھ لین دین پر پابندی لگائیں گے، اس کے وسائل کی فراہمی روک دیں گے اور کام کرنے کی اس کی صلاحیت مفلوج کردیں گے۔‘‘
امریکی محکمہ خزانہ نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ابتدائی طور پر چھ ماہ کی رعایتی مدت مقرر کی ہے۔ اس کے علاوہ بعض استثنیٰ بھی دیے گئے ہیں، جن کے تحت ٹیلی کمیونیکیشن، سافٹ ویئر، پنشن کی ادائیگی اور زیرِ حراست افراد سے متعلق لین دین کی بعض اقسام کی اجازت ہوگی۔
روبیو نے کہا کہ پابندیوں کا ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ عالمی فوجداری عدالت اور اس کے رکن ممالک کو امریکی تحفظات دور کرنے کا موقع مل سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی مطالبات پورے نہ کیے گئے تو پابندیوں میں ردوبدل کیا جائے گا۔
واشنگٹن نے اسرائیلی حکام، بشمول وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کی کارروائیوں سے متعلق ماضی کی تحقیقات پر عالمی فوجداری عدالت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ افغانستان سے متعلق یہ تحقیقات اب ’’کم ترجیح‘‘ پر ہیں۔
عالمی فوجداری عدالت کی نائب پراسیکیوٹر نازہت شمیم خان نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ان پابندیوں کا مقصد عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی اور ایک آزاد عدالتی ادارے کے کام کو کمزور کرنا ہے۔ ہماری تمام زیرِ غور صورتِ حال، تحقیقات اور قانونی کارروائیوں پر کام جاری رہے گا۔‘‘
عالمی فوجداری عدالت اب تک 70 سے زائد افراد پر باضابطہ فردِ جرم عائد کرچکی ہے، جن میں عالمی رہنما اور بین الاقوامی تنازعات کی اہم شخصیات شامل ہیں۔ بینجمن نیتن یاہو کے علاوہ عدالت نے حماس کی شخصیات کی گرفتاری بھی طلب کی ہے۔ فردِ جرم کا سامنا کرنے والوں میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، سوڈان کے سابق صدر عمر البشیر اور لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی بھی شامل ہیں۔ کینیا کے صدر ولیم روٹو اور سابق صدر اوہورو کینیاٹا کے خلاف الزامات واپس لے لیے گئے تھے۔
نوبیل کمیٹی نے انعام دیتے ہوئے سیاسی حملوں کا حوالہ دیا
ماضی میں عالمی فوجداری عدالت کو اپنے رکن ممالک کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل رہی ہے۔ ان میں یورپی یونین کے تمام ممالک اور امریکا اور ترکیہ کے سوا نیٹو اتحاد کے تمام ارکان شامل ہیں۔ عدالت کا صدر دفتر نیدرلینڈز میں ہے، جو یورپی یونین اور نیٹو دونوں کا رکن ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل جنوبی افریقہ کی قانون دان ناوی پلے کو نوبیل امن انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ وہ 2003 سے 2008 تک عالمی فوجداری عدالت کے اپیلز چیمبر کی رکن رہی تھیں۔ انعام دینے والی کمیٹی نے واضح کیا کہ یہ اقدام ایسے بین الاقوامی عدالتی اداروں کی حمایت کے لیے کیا گیا ہے، ایسے وقت میں جب ’’بین الاقوامی قانون کے ججوں اور اداروں کو سیاسی حملوں کا سامنا ہے۔‘‘
نوبیل کمیٹی نے کہا، ’’ایسا بین الاقوامی قانونی نظام، جس میں جنگی مجرموں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے اور بدسلوکی کا شکار افراد کو انصاف ملے، ایک پُرامن دنیا کے لیے بنیادی شرط ہے۔‘‘
امریکی پابندیوں کے تحت عموماً امریکا میں قائم تمام کمپنیوں کے لیے پابندیوں کی زد میں آنے والے ادارے کے ساتھ کسی بھی قسم کا کام کرنا ممنوع ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بینکوں کو ایسے اداروں کے کھاتے بند کرنا پڑتے ہیں، بیمہ کمپنیاں کوریج ختم کردیتی ہیں اور سافٹ ویئر کمپنیاں تعاون روک دیتی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی عالمی فوجداری عدالت کے بعض عہدیداروں پر مخصوص پابندیاں عائد کی تھیں، تاہم صدر جو بائیڈن کے دور میں یہ پابندیاں اٹھالی گئی تھیں۔ ٹرمپ کے جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے چند روز بعد واشنگٹن نے نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔
عدالت کے عہدیدار کئی ماہ سے اس امکان کے پیش نظر تیاری کررہے تھے کہ پابندیاں خود عدالت پر بھی عائد کی جاسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں دفتری کمپیوٹرز پر مائیکروسافٹ کے سافٹ ویئر کی جگہ اوپن سورس متبادل استعمال کرنے اور بینکاری و صحت بیمے کے نئے انتظامات کرنے کے اقدامات کیے گئے۔
عدالت کے رجسٹرار اوسوالڈو زوالا گیلر نے رواں ہفتے کے آغاز میں یورپی یونین پر زور دیا تھا کہ وہ نام نہاد ’’بلاکنگ میکانزم‘‘ کے استعمال کے لیے تیار رہے، جس کے ذریعے یورپی ممالک کو امریکی پابندیوں کے ماورائے علاقائی اثرات سے تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔
روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے پابندیاں عائد کرنے میں اس امید پر تاخیر کی تھی کہ عالمی فوجداری عدالت اور اس کے بانی معاہدے، روم اسٹیچوٹ، میں شامل ممالک امریکی تحفظات دور کریں گے، تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔
روبیو نے کہا، ’’یا تو عالمی فوجداری عدالت اپنی دھمکیاں ختم کرے گی یا ہم اس عدالت کا خاتمہ کردیں گے۔ ہم اپنے اتحادیوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ، جن میں سے بہت سے عالمی فوجداری عدالت کے رکن ہیں اور اپنے دفاع کے لیے امریکی فوجیوں پر انحصار کرتے ہیں، عدالت کو لگام دیں گے۔‘‘