ٹرمپ کے ایلچی کے تیل پائپ لائن منصوبے سے وابستہ کمپنی میں مالی مفادات برقرار
- سفارت کار تھامس بارک پر کاروباری شراکت دار کی کمپنی کو عراق اور شام کے 15 ارب ڈالر کے تیل پائپ لائن منصوبے میں آگے لانے اور وفاقی غیر جانب داری کے ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں
مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے اعلیٰ سفارت کار تھامس بارک نے اپنے کاروباری شراکت دار کی کمپنی کو عراق سے شام تک تیل پائپ لائن منصوبے میں شامل کرنے کی حمایت کی، جس پر وفاقی اخلاقی ضوابط کی خلاف ورزی کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ تین افراد کے مطابق بارک کی یہ سرگرمیاں مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق قواعد کے منافی ہوسکتی ہیں۔
عراق اور شام نے جولائی میں ایک کنسورشیم کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔ اس کنسورشیم میں امریکی سرمایہ کاری گروپ ٹی آئی کیپیٹل، امریکی توانائی کمپنی شیورون اور قطر کی یو سی سی ہولڈنگ شامل ہیں۔ اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کے حساس بحری راستے سے گریز کرتے ہوئے تیل پائپ لائن کی بحالی کے لیے تکنیکی اور مالیاتی مطالعات کیے جائیں گے۔
عراق اور شام کے لیے امریکی صدارتی خصوصی ایلچی اور ترکیہ میں امریکی سفیر تھامس بارک کے ٹی آئی کیپیٹل اور اس کے بانی زیاد غندور سے طویل عرصے سے کاروباری تعلقات ہیں۔
عوامی ریکارڈ کے مطابق 2025 میں سینیٹ میں توثیقی سماعتوں کے وقت بارک کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو کے قریب ایک رئیل اسٹیٹ منصوبے میں مالی مفاد رکھتے تھے، جس کے منافع میں ان کا حصہ پانچویں حصے تک ہوسکتا تھا۔ یہ منصوبہ ٹی آئی کیپیٹل چلا رہی تھی، جس کے چیف ایگزیکٹو زیاد غندور ہیں۔ بارک نے اس وقت یہ مفاد برقرار رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔