✕
کاروبار اور معیشت

یورو مسلسل پانچویں ہفتے گراوٹ کی جانب گامزن، فروخت کا دباؤ کم ہونے لگا

  • گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران ڈالر کے مقابلے میں یورو 3 فیصد سے زیادہ گرچکا ہے
شائع اپ ڈیٹ

یورو جمعہ کو مسلسل پانچویں ہفتے گراوٹ کی جانب گامزن رہا، تاہم ایسے اشارے ملے کہ اس کی مسلسل فروخت کا دباؤ کم ہورہا ہے۔ فرانس کی قرضہ مارکیٹ میں گراوٹ رکنے اور امریکی بانڈز کے منافع میں کمی کے باعث ڈالر کی تیزی بھی کچھ ماند پڑ گئی۔

مشترکہ یورپی کرنسی یورو پیر کو 17 ماہ کی کم ترین سطح ایک ڈالر 11.61 سینٹ تک گر گئی تھی۔ اس کی وجہ فرانس پر قرضوں کے ریکارڈ بلند حجم اور بجٹ اخراجات میں کٹوتیوں کے لیے درپیش سیاسی مشکلات کے حوالے سے مارکیٹ میں پائی جانے والی تشویش تھی جبکہ اس کے برعکس امریکی ڈالر اور معیشت مضبوط دکھائی دے رہے تھے۔

بعدازاں یورو بحال ہو کر ایک ڈالر 12.11 سینٹ پر آ گیا۔ اس کے باوجود رواں ہفتے اس کی قدر میں 0.3 فیصد کمی ہوئی جبکہ گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران ڈالر کے مقابلے میں یورو 3 فیصد سے زیادہ گرچکا ہے۔

یورو اور برطانوی پاؤنڈ کی شرح تبادلہ میں بھی رواں ہفتے 0.3 فیصد کمی ہوئی اور یہ 84.74 پینس پر آ گئی جو 16 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ یورو اور سوئس فرانک کی شرح تبادلہ گزشتہ ہفتے 17 ماہ کی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ کے بعد مستحکم ہوکر 0.9324 فرانک فی یورو کے قریب رہی۔

برسبین میں اسٹون ایکس کے سینئر تجزیہ کار میٹ سمپسن نے کہا کہ میرے خیال میں کرنسیوں میں ہونے والی تمام حالیہ تبدیلیاں اپنی حد سے کافی آگے نکل چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورو میں سال کے دوران عموماً صرف دو یا تین مرتبہ بڑی تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے اور حالیہ گراوٹ بھی انہی میں سے ایک ہے، تاہم قیمتوں میں کمی کا دباؤ اب کم ہورہا ہے، اس لیے ان نچلی سطح پر لین دین کرتے ہوئے انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔

فرانس کی انتہائی دائیں بازو کی صدارتی امیدوار میرین لی پین نے رواں ہفتے بجٹ خسارہ کم کرنے کے منصوبے پیش کیے جنہیں مالیاتی منڈیوں نے اطمینان بخش قرار دیا۔ اس کے برعکس ان کے سخت بائیں بازو کے حریف ژاں لوک میلانشوں نے مرکزی بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومتی قرضے منسوخ کردے۔

فرانس میں طلبہ نے جمعرات کو تعلیمی اداروں کی صورتحال کیخلاف احتجاج کے تازہ سلسلے میں ہائی اسکولوں کی ناکہ بندی کی اور مختلف شہروں میں مارچ کیا۔ ان مظاہروں نے حکمرانوں کیلئے اس مشکل توازن کو نمایاں کیا کہ ایک طرف عوامی اخراجات میں اضافے کے مطالبات ہیں تو دوسری جانب مالیاتی منڈیوں میں خدشات پائے جاتے ہیں۔ میکوری کے تجزیہ کاروں تھیری وِزمین اور گیرتھ بیری نے اپنے صارفین کے نام نوٹ میں کہا کہ فرانس کے بانڈز کی فروخت کے دباؤ اور سماجی بے چینی کے درمیان اب ایک ایسا چکر بن گیا ہے جس میں دونوں ایک دوسرے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

سڑکوں پر احتجاج اور ہنگاموں میں شدت سے بانڈز کے منافع کی شرح میں فرق بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ محدود رہا اور اس کی بڑھتی ہوئی قدر کی رفتار سست پڑ گئی، کیونکہ امریکی بانڈز کے منافع رواں ہفتے تقریباً تین ماہ کی سب سے بڑی گراوٹ کی جانب گامزن تھے۔ رات گئے مارکیٹ میں نمایاں تیزی بھی دیکھی گئی۔

جاپانی ین مسلسل چوتھے ہفتے گراوٹ کی جانب گامزن رہا، تاہم گزشتہ تین ہفتوں کے دوران اس کی قدر میں کمی معمولی رہی ہے اور یہ ایک ڈالر کے مقابلے میں 158 ین کے قریب مستحکم ہے۔

سنگاپور میں میزوہو سیکیورٹیز کے ایشیا پیسیفک میکرو اسٹریٹجی کے سربراہ وشنو وراتھن نے کہا کہ ڈالر کو’غیر مستحکم برتری حاصل ہے جسے یورو اور ین کی کمزوری مزید نمایاں کررہی ہے۔

آسٹریلوی ڈالر 0.6960 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3233 ڈالر پر رہا۔

نیوزی لینڈ کا ڈالر چار سال سے زائد عرصے کی طویل ترین مسلسل گراوٹ کا سامنا کررہا ہے اور مسلسل ساتویں ہفتے کمی کی جانب گامزن ہے۔ اس کی بنیادی وجہ نیوزی لینڈ میں شرح سود کا 2.75 فیصد کی کم سطح پر ہونا ہے جبکہ امریکی فیڈرل فنڈز کی شرح 3.75 سے 4 فیصد کے درمیان ہے۔

نیوزی لینڈ کا ڈالر 0.5601 امریکی ڈالر پر رہا اور 2025 کی اپنی کم ترین سطح 0.5485 ڈالر سے زیادہ دور نہیں ہے۔