✕

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کو کہا ہے کہ پاکستانی فوجی اہلکار مختلف نوعیت کی ذمہ داریوں کے لیے پہلے ہی سعودی عرب میں تعینات ہیں۔

سی این این کی بیکی اینڈرسن سے گفتگو کرتے ہوئے فوج کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ آیا حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوجی دستے بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوجی ’’کئی دہائیوں‘‘ سے وہاں موجود ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سہ فریقی اتحاد تینوں ممالک کے دیرینہ سفارتی، سیاسی، عسکری اور عوامی روابط کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں مختلف نوعیت کی صلاحیتوں کے حامل پاکستانی فوجی دستے پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں۔

ان کا یہ بیان تینوں ممالک کی جانب سے چند روز قبل اجتماعی دفاعی عزم پر فوری عمل درآمد اور سعودی عرب میں متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ ریاض میں اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کیا گیا، جس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ سیاسی اور عسکری رہنماؤں نے شرکت کی۔

تینوں ممالک نے کہا کہ فوجی تعیناتیاں منظور شدہ انتظامات اور ہر ملک کے قومی قوانین کے مطابق ہوں گی، جن کا مقصد تیاری کی سطح، عسکری انضمام اور مشترکہ صلاحیت میں بہتری لانا ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں ارکان پر حملہ تصور ہوگا۔