✕
دنیا

ترکیہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کو تکنیکی و دفاعی مدد فراہم کررہا ہے، حکام

  • پاکستان اور ترکیہ حوثی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کو دفاعی و تکنیکی امداد فراہم کرتے ہوئے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کو فعال کر رہے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

دو حکام نے بدھ کو بتایا ہے کہ ترکیہ سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائی میں مدد دینے کے لیے بنیادی طور پر دفاعی اور تکنیکی معاونت فراہم کررہا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب نیٹو کے رکن ترکیہ اور پاکستان نے اپنے نئے اتحاد کے اجتماعی دفاعی عزم پر عمل درآمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور ہوگا۔ تینوں ممالک نئے اتحاد کے دائرہ کار اور طریقہ کار کے تعین کے لیے کام کررہے ہیں اور حوثیوں کے حملوں کے ردعمل میں سیاسی اور عسکری اجلاس بھی منعقد کرچکے ہیں۔

پیر کو تینوں ممالک نے کہا تھا کہ انہوں نے اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عمل درآمد اور سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی ’’فوری تعیناتی‘‘ یقینی بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

نیٹو کی دوسری بڑی فوج اور مضبوط دفاعی صنعت کے حامل ترکیہ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے، ریاض کی عسکری تکنیکی ضروریات پوری کرنے میں مدد کی آمادگی ظاہر کی ہے اور بحیرۂ احمر میں بحری جہاز رانی کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے سعودی قیادت میں بننے والے اتحاد میں شامل ہونے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

ایک ترک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ترکیہ کی جانب سے متوقع معاونت صرف فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس کے تبادلے اور ہتھیاروں کے نظام تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک اس اتحاد کے تحت کسی اور نوعیت کی تعیناتی نہیں کی گئی۔

ڈرون آپریٹرز، دفاعی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے میں معاونت

حکام نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کو ترکیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت، جس میں فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہیں، فی الحال زیادہ تر دوطرفہ بنیادوں پر ہوگی کیونکہ ترک پارلیمنٹ نے مشترکہ دفاعی معاہدے کی باضابطہ توثیق نہیں کی۔ ان کے مطابق توثیق کے بعد معاونت کی مقدار اور نوعیت میں اضافہ ہوگا۔

ایک امریکی عہدیدار نے اس معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ترکیہ نے اب تک بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کی صلاحیتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور لاجسٹکس میں معاونت شامل ہے۔ عہدیدار کے مطابق معاونت میں ڈرون آپریٹرز اور دفاعی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے میں مدد کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کی صلاحیتیں بھی شامل ہیں۔

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے ریاض میں مکہ اتحاد کے ہنگامی اجلاس کے بعد سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فریقین نے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں میں مدد کے لیے فراہم کی جانے والی معاونت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انہوں نے پیر کو کہا، ’’ہمارے ساتھ وزیر دفاع اور چیف آف جنرل اسٹاف بھی موجود تھے اور انہوں نے خاص طور پر عسکری، آپریشنل اور تکنیکی امور پر انتہائی مفید آرا پیش کیں۔‘‘

پاکستانی اور علاقائی حکام نے بتایا ہے کہ انقرہ اور اسلام آباد نے سعودی عرب کو فوجی سازوسامان فراہم کیا ہے جسے سعودی عرب یمن میں استعمال کررہا ہے۔

رواں ہفتے سعودی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد کے ساتھ یمنی حکومتی فورسز نے آبنائے باب المندب کے قریب تزویراتی علاقے پر دوبارہ قبضے کے لیے جوابی کارروائی شروع کی ہے۔ باب المندب توانائی کی برآمدات اور دیگر تجارتی سامان کی بین الاقوامی بحری ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

حکام نے گزشتہ ہفتے رائٹرز کو بتایا تھا کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کررہا ہے، جس کے لیے زیر غور آپشنز میں بحیرۂ احمر کے بحری تجارتی راستے کو محفوظ بنانے کے لیے ساحلی محاذ سے پیش قدمی یا متعدد محاذوں پر حملہ شامل ہیں۔