ادائیگیوں کے توازن کو پائیدار بنانے اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ترسیلاتِ زر کی شاندار کارکردگی ہے جو مالی سال 2022-23 میں 27.3 ارب ڈالر کی کم ترین سطح سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 41.6 ارب ڈالر ہوگئیں۔ آج بھی جنگ کے باعث خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کی معیشتوں جہاں سے ترسیلاتِ زر کے 50 فیصد سے زائد رقوم آتی ہیں کو دباؤ کا سامنا ہے، اس کے باوجود ترسیلاتِ زر میں اضافہ جاری ہے اور امکان ہے کہ مالی سال 2026-27 میں مجموعی ترسیلاتِ زر اسٹیٹ بینک کے 44 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچ جائیں گی۔
حکومت اور اسٹیٹ بینک رسمی شعبے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں تاکہ غیر رسمی ہنڈی حوالہ مارکیٹ کا حصہ رسمی ذرائع کی جانب منتقل کیا جاسکے اور اس میں انہیں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہورہی ہے۔ اس سے قبل حکومت بینکوں کے ذریعے سبسڈی فراہم کرتی تھی، تاہم اب یہ سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔ اب ایک نیا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کے تحت بینک اپنی جانب سے معاونت فراہم کررہے ہیں تاکہ ترسیلاتِ زر میں اضافے کا سلسلہ برقرار رہے۔
یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا کیونکہ اسٹیٹ بینک اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے حال ہی میں پاسبان ریمیٹنس ریوارڈ اسکیم کے نام سے ایک نئی انعامی قرعہ اندازی اسکیم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بینک ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں کو سالانہ 16 ارب روپے کے نقد انعامات دیں گے۔ ہر سہ ماہی میں 2,521 افراد کامیاب قرار پائیں گے اور انہیں مجموعی طور پر 4 ارب روپے کے نقد انعامات دیے جائیں گے۔ اس اسکیم کا مقصد مزید لوگوں کو رسمی ذرائع استعمال کرنے اور انعامی قرعہ اندازی کا حصہ بننے کی ترغیب دینا ہے۔
یہ ایک اچھی پیشرفت ہے۔ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ترسیلاتِ زر کے لیے مراعات مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ 2009 میں اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ اور وزارت اوورسیز پاکستانیز نے مشترکہ طور پر پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو (پی آر آئی) کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد ترسیلاتِ زر کو تیز تر اور کم لاگت بنا کر انہیں رسمی ذرائع کے ذریعے بھیجنے میں سہولت فراہم کرنا تھا۔ یہ اقدام مؤثر ثابت ہوا کیونکہ اس کے بعد سے ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ مالی سال 2008-09 میں یہ محض 7.8 ارب ڈالر تھیں۔
اس کے بعد جب بھی حکومتی معاونت روکی گئی، ترسیلاتِ زر لازماً غیر رسمی ذرائع کی جانب منتقل ہوئیں۔ اس کی تازہ مثال مالی سال 2022-23 ہے، جب اُس وقت کی پی ڈی ایم (پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ) حکومت نے سبسڈی واپس لے لی اور ترسیلاتِ زر مالی سال 2021-22 کے 31.3 ارب ڈالر سے کم ہوکر مالی سال 2022-23 میں 27.3 ارب ڈالر رہ گئیں۔ بعد ازاں اُس وقت کی نگران حکومت نے سبسڈی دوبارہ شروع کی تو ترسیلاتِ زر کی آمد میں ایک بار پھر اضافہ شروع ہوگیا۔ ترسیلاتِ زر میں کمی اور پھر بحالی کی دیگر وجوہات بھی تھیں، تاہم مراعات کا فقدان یقینی طور پر ان میں سے ایک وجہ تھا۔
بعد ازاں اطلاعات کے مطابق بعض بینکوں نے مارکیٹنگ پر ضرورت سے زیادہ اخراجات کرکے سبسڈی کا ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کردیا تھا جن میں مقامی ملازمین کے لیے بیرونِ ملک دورے بھی شامل تھے۔ علاوہ ازیں آئی ایم ایف اور دیگر متعلقہ فریق بھی اس سبسڈی کو پسند نہیں کرتے تھے۔ بہرحال اب یہ سلسلہ ختم ہوچکا ہے اور بینک خود اس کی لاگت برداشت کررہے ہیں جس کے باعث وہ اپنے اخراجات کے معاملے میں زیادہ محتاط اور دانشمندانہ طرزِعمل اختیار کررہے ہیں۔ نئی انعامی قرعہ اندازی اسکیم کا مستقبل بھی اسی نوعیت کا ہے۔
پاکستان میں بینک دیگر تمام شعبوں کے مقابلے میں زیادہ منافع کماتے ہیں۔ تاہم، بینکوں کا کاروباری ماڈل بتدریج ملک بھر سے ڈپازٹس حاصل کرنے اور بنیادی طور پر انہیں حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کرنے پر منحصر ہوتا جارہا ہے۔ بینکوں کی توجہ زیرو کاسٹ والے کرنٹ اکاؤنٹس کا حصہ بڑھا کر اخراجات کم کرنے پر مرکوز ہے جبکہ بعض اوقات وہ صارفین کو گمراہ کن انداز میں مصنوعات یا خدمات فروخت کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ دوسری جانب نجی شعبے کو فراہم کیا جانے والا قرض سکڑ رہا ہے۔
بیرونی کھاتے سے متعلق کمزوریاں سب سے بڑا خطرہ ہیں جبکہ بڑھتی ہوئی ترسیلاتِ زر ان خطرات کے خلاف ایک حفاظتی سہارا فراہم کررہی ہیں۔ چنانچہ حکومت، اسٹیٹ بینک اور بینکوں، سب کے مفاد میں یہی ہے کہ بینک خود لاگت برداشت کریں اور زیادہ اور مستحکم رسمی ترسیلاتِ زر کے حصول میں سہولت فراہم کریں۔
نظام مجموعی طور پر بہتر انداز میں کام کررہا ہے۔ بینکوں کا خطرہ خودمختار قرض کے خطرے سے جڑا ہوا ہے کیونکہ بینکوں کے اثاثوں کا بڑا حصہ حکومتی کاغذات اور سیکیورٹیز میں لگا ہوا ہے۔ اس لیے بینکوں اور حکومت دونوں کے باہمی مفاد میں ہے کہ ان خطرات کو کم کیا جائے۔
تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماضی میں اسلامی نظریاتی کونسل لاٹری پر مبنی انعامی اسکیموں کو غیر اسلامی قرار دے چکی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ اسکیم اسلامی نظریاتی کونسل کی منظوری حاصل کرنے کے بعد متعارف کرائی گئی ہے۔
مزید برآں، بینکوں پر اس اسکیم کی لاگت کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے بینکوں میں رکھے گئے ڈپازٹس پر کم از کم منافع کی شرح کی شرط ختم کردی ہے جو پالیسی ریٹ سے 1.4 فیصد پوائنٹ کم تک محدود تھی۔
آئندہ یہ شرط صرف ایک کروڑ روپے تک کے سیونگ اکاؤنٹس میں موجود ڈپازٹس پر لاگو ہوگی۔ ایسے ملک میں جہاں قومی بچت کی شرح پہلے ہی انتہائی کم ہے، یہ اقدام بچت کرنے والوں کے لیے ایک نامناسب کٹوتی کے مترادف ہے اور ایک اکاؤنٹ میں ایک کروڑ روپے سے زائد کی بینکنگ نظام میں بچت کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ لہٰذا مناسب یہی ہے کہ ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں کو دی جانے والی مراعات کی لاگت بینک خود برداشت کریں، بجائے اس کے کہ اس کا بوجھ وسیع تر ٹیکس دہندگان اور بچت کرنے والوں پر ڈالا جائے۔