✕
دنیا

لٹویا کے پارلیمانی انتخابات میں یوکرین نواز یونائیٹڈ لسٹ کو واضح برتری

  • 88 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک یونائیٹڈ لسٹ کو 36.6 فیصد ووٹ ملے
شائع اپ ڈیٹ

لٹویا کے وزیراعظم آندرس کولبرگس کی زیر قیادت مرکز پسند اور یوکرین نواز جماعت یونائیٹڈ لسٹ نے ہفتے کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں توقعات سے کہیں زیادہ بڑے فرق سے کامیابی حاصل کرلی۔ جزوی نتائج کے مطابق ووٹوں کی گنتی کے دوران روسی جارحیت کے خدشات کے باعث ووٹرز میں بے چینی بھی نمایاں رہی۔

88 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک یونائیٹڈ لسٹ کو 36.6 فیصد ووٹ ملے، جبکہ پاپولسٹ اور میگا طرز کی جماعت لٹویا فرسٹ 13.4 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ لٹویا فرسٹ نے انتخابی مہم کے دوران ملک کی بڑی نسلی روسی اقلیت کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔

بالٹک ممالک کئی ماہ سے خبردار کر رہے ہیں کہ روس یورپ بھر میں تخریب کاری، سائبر حملوں اور دیگر ہائبرڈ کارروائیوں کے ذریعے یوکرین کی حمایت کمزور اور خوف پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم مغربی حکام ماسکو کی جانب سے نیٹو پر براہ راست حملے کی صلاحیت کے خدشات کو مسترد کرتے ہیں۔ لٹویا نیٹو کا رکن ہے۔ روس نے ان الزامات کو بے بنیاد اور روس مخالف جنون کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

کولبرگس نے کہا کہ وہ وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہنے کی امید رکھتے ہیں، تاہم وہ لٹویا فرسٹ کے ساتھ حکومت نہیں بنانا چاہیں گے۔ جزوی نتائج کے مطابق انہیں حکومت تشکیل دینے کے لیے اتحادی جماعتوں کی ضرورت ہوگی۔

روس نواز سویرن پاور پارٹی 11.6 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی، جبکہ کریملن کے خلاف سخت مؤقف رکھنے والی قوم پرست نیشنل الائنس نے 9.1 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

47 سالہ کولبرگس مئی میں اقتدار میں آئے تھے۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے لٹویا کی دفاعی صلاحیت بڑھانے، ڈرون مخالف نظام مضبوط کرنے اور دفاعی اخراجات مجموعی قومی پیداوار کے 5 فیصد تک برقرار رکھنے کا وعدہ کیا، جو نیٹو میں بلند ترین شرحوں میں شامل ہے۔