✕
دنیا

بحیرہ احمر کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے سعودی عرب کا حوثیوں کے خلاف حملے کا منصوبہ

  • بحیرہ احمر کی اہم گزرگاہ باب المندب کو حوثیوں سے واپس لینے کے لیے سعودی عرب یمن میں فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، رائٹرز
شائع اپ ڈیٹ

علاقائی اور مغربی حکام نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ سعودی عرب یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، جس کے لیے زیر غور آپشنز میں بحیرہ احمر کی بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے ساحلی علاقے میں پیش قدمی یا متعدد محاذوں پر بیک وقت حملہ شامل ہے۔

6 ایسے افراد کے مطابق جو تیاریوں سے واقف ہیں، یہ کارروائی آئندہ چند ہفتوں میں شروع کیے جانے کا امکان ہے، جس کی قیادت زمین پر موجود یمنی فورسز کریں گی جن کی نگرانی ریاض کرتا ہے، جبکہ انہیں سعودی فضائی حملوں کی مدد حاصل ہوگی۔

ان افراد نے سکیورٹی معاملات پر گفتگو کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا پہلے ہی یمن میں سعودی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، جبکہ بعض علاقائی اور یورپی ممالک بھی سعودی عرب کو زیادہ تر دفاعی نوعیت کی فوجی امداد دے رہے ہیں، تاہم سعودی اتحادیوں کی براہِ راست جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے کی توقع نہیں۔

سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کرتے ہوئے عرب اتحاد کی قیادت سنبھالی تھی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کی تھی، جسے حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء سے بے دخل کر دیا تھا۔ فریقین کے درمیان 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی بڑی حد تک برقرار رہی، تاہم رواں سال ایران جنگ کے نتیجے میں حالات بگڑ گئے اور حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں اور تیل تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کردیے۔

سعودی عرب کی منصوبہ بندی میں شامل اس مجوزہ کارروائی کا ایک اہم مقصد حوثیوں کی گزشتہ ماہ ہونے والی تیز رفتار پیش قدمی کو واپس پلٹانا ہے، جس کے دوران انہوں نے ساحلی علاقے میں پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب پر قبضہ کرلیا تھا۔ خلیجی اور یمنی حکام کے علاوہ مغربی سفارت کار بھی اس منصوبے سے واقف افراد میں شامل ہیں۔

خلیجی اور یمنی حکام کے مطابق سعودی عرب حملے کے لیے 2 ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے: ایک باب المندب کے گرد و نواح تک محدود حملہ، یا اس سے زیادہ وسیع فوجی کارروائی جس میں یمن کے مختلف محاذوں پر بیک وقت مربوط حملے کیے جائیں، جن میں البیضا، مأرب، تعز اور الجوف کے گورنریٹس شامل ہیں۔

تمام حکام کے مطابق کارروائی کے حجم کے لحاظ سے ایک لاکھ سے زائد یمنی فوجیوں کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔

سعودی اور یمنی حکومتوں، حوثیوں اور امریکی فوج کے ترجمانوں نے سعودی منصوبوں پر تبصرے کے لیے رائٹرز کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

باب المندب بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع اہم بحری گزرگاہ ہے، جو بحیرہ روم اور ایشیا کے درمیان تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ رواں سال آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ ایران تنازع کے باعث آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہے۔

مغربی سفارت کار اور خلیجی عہدیدار کے مطابق ریاض اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جب تک حوثیوں کا باب المندب پر کنٹرول برقرار ہے، ان کے ساتھ یمن میں امن مذاکرات کے نئے دور میں داخل نہیں ہوا جاسکتا، کیونکہ اس سے حوثیوں کو عالمی سطح پر نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہوجاتا ہے۔

سعودی تیاریوں سے واقف 6 افراد کارروائی کے آغاز کا درست وقت نہیں بتا سکے۔ ان کے اندازے ایک ہفتے کے اندر کارروائی شروع ہونے سے لے کر نومبر کے اوائل میں امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے بعد تک مختلف ہیں۔

سعودی عرب میں امریکا کے سابق سفیر مائیکل ریٹنی نے کہا کہ ان کے خیال میں کارروائی محدود دائرے تک رہے گی اور یقینی طور پر 2015 میں سعودی قیادت میں ہونے والی کارروائی سے کہیں کم بڑے پیمانے کی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا، ’’وہ جتنا حوثیوں کو مکمل طور پر شکست دینا چاہتے ہیں، اتنا ہی انہیں اس صورتِ حال کو بھی بحال کرنا ہوگا جو باب المندب کے ساتھ حوثیوں کے علاقے پر کنٹرول سے پہلے تھی۔ بہتر ہوگا کہ کارروائی نسبتاً محدود ہو، ساحلی علاقوں کو دوبارہ حاصل کیا جائے اور معمول کی بحری آمدورفت بحال کی جائے۔‘‘

ٹرمپ، ترکیہ اور پاکستان

واشنگٹن، جو سعودی عرب کا سب سے طاقتور اتحادی ہے، سعودی فضائی کارروائیوں میں معاونت کے لیے فوجی مشیر اور انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، جس میں اہداف سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں، ایک مغربی سفارت کار کے مطابق۔

تاہم امریکی معاونت کی سطح محدود رہ سکتی ہے۔ رائٹرز پہلے رپورٹ کرچکا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی براہِ راست فوجی مدد، مثلاً فضائی حملوں، کی درخواست مسترد کردی تھی۔

پاکستان اور ترکیہ، جن کے ساتھ سعودی عرب نے گزشتہ ماہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، نے یمن میں سعودی عرب کے زیر استعمال فوجی سازوسامان فراہم کیا ہے، پاکستانی اور علاقائی حکام نے بتایا۔

گزشتہ ماہ پاکستان نے 4 مال بردار طیاروں کے ذریعے فضائی دفاعی نظام، ہلکی توپ خانے کی تنصیبات، ڈرونز اور ڈرون شکن نظام سمیت فوجی سازوسامان عدن بھیجا تھا، جو سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کا مرکز ہے، ایک پاکستانی سرکاری عہدیدار نے بتایا۔

ایک دوسرے پاکستانی عہدیدار، خلیجی عہدیدار اور مغربی سفارت کار کے مطابق پاکستانی فوجی مشیر بھی یمنی فورسز کی معاونت کے لیے سعودی ہم منصبوں کے ساتھ وہاں موجود ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے موجودہ جنگ سے قبل خریدے گئے ترک ڈرونز بھی یمن میں تعینات کیے گئے ہیں۔

علاقائی حکام کے مطابق یمن میں نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کے حوالے سے سعودی عرب کی ایک بڑی تشویش حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں سے اپنی تیل تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق ریاض نے کئی اتحادیوں سے دفاعی نظام کے لیے مدد طلب کی ہے۔

دوسرے پاکستانی عہدیدار کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب میں 30 ہزار سے 40 ہزار فوجی تعینات کیے ہیں، جن کا مقصد مملکت کی زمینی سرحدوں کے دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں کو روکنے میں مدد دینا ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ ان فوجیوں کی تعیناتی گزشتہ سال شروع ہونے والی مختلف مرحلوں کی کارروائیوں اور حالیہ کشیدگی کے بعد ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے یمن میں جنگی کارروائیوں کے لیے فوجی بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

پاکستانی اور ترک وزارتِ دفاع نے ریاض کو فراہم کی جانے والی فوجی معاونت کے بارے میں تبصرے کے لیے رائٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

دریں اثنا، فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بحیرہ احمر کی بندرگاہی شہر ینبع کے تحفظ میں مدد کے لیے دفاعی نظام اور فوجی دستے سعودی عرب بھیجے گا۔

یمنی فورسز میں انتشار

یمن کے اندر کسی بھی زمینی کارروائی کے لیے مختلف یمنی جنگجو دھڑوں پر مشتمل ایک غیر متحد اتحاد پر انحصار کرنا ہوگا۔

یمن کے تجزیہ کار محمد الباشا نے کہا، ’’حوثیوں کے خلاف بہت سی قوتیں اب بھی منظم یا اس نوعیت کی طویل کارروائی کے لیے تیار نہیں جن کے ذریعے ایک منظم حوثی فوجی قوت کو پیچھے دھکیلا جاسکے۔ حوثیوں کی جانب سے بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ ڈالے جانے کے باعث ان قوتوں کی اس وقت بھی آزمائش جاری ہے۔‘‘

سعودی حکومت کے نقطۂ نظر سے قریب سمجھے جانے والے سعودی سیاسی تجزیہ کار علی شھابی نے خبردار کیا کہ حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائی کا نتیجہ زمینی فورسز کی کارکردگی پر منحصر ہوگا۔

انہوں نے کہا، ’’اب تک ترجیح زمینی پوزیشنوں کا دفاع اور محاذ کو مستحکم کرنا رہی ہے، تاہم وہ یقینی طور پر اب کارروائی شروع کریں گے۔ کامیابی کا زیادہ تر انحصار مقامی فورسز کی کارکردگی کے معیار پر ہوگا۔‘‘