امریکی افواج دو دہائیوں بعد عراق سے نکل گئیں، ایران کے لیے اثر و رسوخ بڑھانے کی گنجائش پیدا ہوگئی، ماہرین
- امریکی افواج کا عراق سے انخلا ایران کی نظر میں فتح، تہران کے اتحادیوں کو تقویت اور داعش کے دوبارہ منظم ہونے کا خطرہ
امریکی افواج بدھ تک عراق میں اپنے آخری اڈوں سے بھی انخلا مکمل کرنے والی ہیں۔ ایران اور اس کے اتحادی اس اقدام کو فتح قرار دے رہے ہیں، جنہیں اب عراق میں گہرا اثر و رسوخ حاصل ہے۔ دو دہائیوں سے زائد جنگ کے دوران عراق میں 4,500 امریکی شہری ہلاک ہوئے۔
عراقی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انخلا، جس پر 2024 میں صدر جو بائیڈن کے دور میں اتفاق ہوا تھا اور جسے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران بھی آگے بڑھایا، تہران اور اس کے طاقتور اتحادیوں کو زیادہ آزادی دے سکتا ہے، جبکہ داعش سمیت دیگر امریکی مخالف گروہوں کو بھی دوبارہ سرگرم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔
عراقی سکیورٹی تجزیہ کار جاسم البہدلی نے کہا کہ امریکی اتحاد کی روانگی سے ایران کو اسٹریٹیجک فائدہ ہوگا کیونکہ اس سے وہ فوجی موجودگی ختم ہوجائے گی جو کئی برسوں سے عراق میں تہران کے اثر و رسوخ کے لیے ایک توازن کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔
انہوں نے پیش گوئی کی کہ ایران نواز ملیشیا گروپ اس انخلا کو اپنی تحریک کی فتح کے طور پر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور سیاسی فیصلہ سازی میں اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھانے کی کوشش کریں گے۔
عراق میں اسلامی مزاحمت کے کمانڈر ابو مجتبیٰ الیسیری نے امریکی انخلا کو عراقی اسلامی مزاحمتی گروپوں اور محب وطن عراقیوں کی تاریخی فتح اور امریکی منصوبے کی فیصلہ کن شکست قرار دیا۔
انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ 30 ستمبر کو عراق کی تاریخ کے ایک سیاہ باب کے خاتمے اور ملک پر اپنا فیصلہ مسلط کرنے میں قبضے کی ناکامی کا جشن منایا جائے گا۔ ان کے بقول عراق نے ثابت کیا ہے کہ اس کی خودمختاری غیر ملکی افواج سے نہیں بلکہ مزاحمت اور عوام کی مرضی سے محفوظ بنائی جاسکتی ہے۔
عراق ابھی تیار نہیں
اگرچہ امریکی افواج کا حتمی انخلا مجموعی طور پر عراقی عوام میں مقبول ہے، تاہم ایران نواز گروہوں کی طاقت پر تشویش رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ انخلا قبل از وقت ہے۔
فلوجہ کے رہنما عبدالرحمن الزبائی نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کے خیال میں عراق اس وقت سکیورٹی کی مکمل ذمہ داری سنبھالنے کے لیے ابھی پوری طرح تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام عراقی مکمل خودمختاری چاہتے ہیں اور اس پر کسی کو اختلاف نہیں لیکن امریکی قیادت میں اتحاد کا اس انداز میں انخلا اور پیدا ہونے والا خلا وہ چیز ہے جس سے تمام عراقی خوفزدہ ہیں۔
امریکی افواج نے 2003 میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے عراق پر حملہ کیا تھا اور بعد ازاں ملک پر قبضہ برقرار رکھا۔ امریکی فوج 2011 کے اختتام پر عراق سے نکل گئی تھی۔
بعد ازاں وہ تین سال سے بھی کم عرصے میں دوبارہ عراق پہنچ گئی اور 2014 سے 2017 کے دوران عراقی افواج کی داعش کے خلاف جنگ میں مدد کی۔
’’آپریشن عراقی فریڈم‘‘ کے دوران ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد افغانستان میں ہونے والی متوازی جنگ کے مقابلے میں تقریباً دوگنی تھی، جو 2021 میں اچانک امریکی انخلا کے ساتھ ختم ہوئی۔
حالیہ برسوں میں عراق واحد ملک رہا ہے جس کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ قریبی سیاسی اور فوجی تعلقات رہے ہیں۔
امریکا نے 2020 میں بغداد ایئرپورٹ پر حملے کے ذریعے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو قتل کیا تھا۔ ایران کے اتحادیوں نے متعدد مرتبہ امریکی اڈوں پر حملے کیے، جن کے جواب میں امریکا نے بھی کارروائیاں کیں۔
ایران کے خلاف رواں سال کی جنگ میں ہلاک ہونے والے 18 امریکی فوجیوں میں سے 7 عراق میں موجود تھے۔ آخری ہلاک ہونے والا فوجی جولائی میں اربیل کے قریب ایک اڈے پر ڈرون کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنانے کے دوران مارا گیا۔
ایران کے مزاحمتی محور کی فتح
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا حتمی مقصد پورے مشرق وسطیٰ سے امریکی افواج کا انخلا ہے۔ تہران عراق سے امریکی انخلا کو خطے میں اپنے اتحادی مسلح گروہوں پر مشتمل ’’مزاحمتی محور‘‘ کی فتح قرار دیتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے نائب چیئرمین امیر حیات مقدم نے کہا کہ امریکی افواج کے عراق اور خطے سے نکلنے کے بعد عراق میں پائیدار سکیورٹی قائم ہوگی۔
انہوں نے ایرانی پارلیمانی نیوز سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا خیرمقدم کرتا ہے اور یقینی طور پر اس کی حمایت کرے گا۔ ان کے مطابق مزاحمتی گروپ اس وقت کارروائیاں کررہے ہیں اور بعض اوقات امریکی فوجیوں کو نشانہ بھی بناتے ہیں۔
واشنگٹن نے ایران نواز عراقی ملیشیا گروپوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تہران کی ہدایت پر پڑوسی ممالک پر حملے کرکے وسیع تر مشرق وسطیٰ کے تنازع میں کردار ادا کررہے ہیں۔ رواں ماہ ان گروہوں نے سعودی عرب کی ایک بڑی تیل پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا۔ بغداد حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان گروہوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
کیا داعش دوبارہ سرگرم ہوسکتی ہے؟
عراقی وفاقی حکومت اور نیم خودمختار شمالی کرد خطے کے بعض سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی انخلا سے داعش کو بھی دوبارہ سرگرم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ تقریباً ایک دہائی قبل اپنی خود ساختہ خلافت کے خاتمے کے باوجود داعش کے پاس اب بھی خفیہ سیلز کا نیٹ ورک موجود ہے۔
کرد کمانڈر سیرون بارزانی کے مطابق امریکی انٹیلی جنس،لاجسٹک معاونت اور ڈرونز کی عدم موجودگی داعش کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستمبر کے اختتام تک بین الاقوامی اتحاد کے عراق سے باضابطہ انخلا کے اعلان کے بعد دو ہفتوں سے زائد عرصے کے دوران داعش کے خفیہ سیلز کی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے، جس سے ان کے بقول جنگجوؤں کا حوصلہ بڑھا ہے۔
عراقی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ داعش کا ایک مشتبہ سیل امریکی انخلا کے موقع پر خودکش حملوں کی تیاری کررہا تھا۔ چار عراقی سکیورٹی اور فوجی حکام کے مطابق اس منصوبے نے اس تشویش کو نمایاں کیا ہے کہ کئی فوجی شکستوں کے باوجود داعش سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کرکک کے اہم تیل شہر میں ایک سینئر سکیورٹی عہدیدار کرنل خالد البیاتی نے کہا کہ داعش یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ اب بھی طاقتور ہے اور خونریز حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔