✕
دنیا

چین، امریکا کا 60 ارب ڈالر کی اشیا پر ٹیرف میں کمی پر اتفاق

  • اشیا میں امریکی مکئی سے کاسمیٹکس اور چینی گھریلو آلات سے کھلونوں تک مختلف مصنوعات شامل
شائع اپ ڈیٹ

امریکا اور چین نے ایک دوسرے سے درآمد کی جانے والی 60 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر عائد محصولات میں کمی پر اتفاق کیا ہے۔ ان اشیا میں امریکی مکئی سے کاسمیٹکس اور چینی گھریلو آلات سے کھلونوں تک مختلف مصنوعات شامل ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ امریکا-چین بورڈ آف ٹریڈ کے تحت دونوں ممالک نے زیادہ سازگار ٹیرف سہولت کے لیے حساس نوعیت کی حامل نہ ہونے والی اشیا کی 30،30 ارب ڈالر کی تجارت کی سفارش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے لیے اس کا مطلب چین کو کی جانے والی امریکی برآمدات کے تقریباً 30 فیصد کے لیے مارکیٹ تک بہتر رسائی کا راستہ کھولنا ہے۔

باہمی ٹیرف میں کمی اور تجارتی جنگ بندی میں توسیع گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے والی رواں سال کی دوسری سربراہی ملاقات کے اہم نکات میں شامل تھے جس میں صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرکت کی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ دو فہرستوں میں سے ایک کے مطابق چین نے امریکا سے درآمد کی جانے والی مختلف زرعی اشیا جن میں مکئی، گندم، جوار، گوشت، ڈیری مصنوعات، خوردنی تیل اور آئل میل شامل ہیں پر عائد محصولات میں کمی کا منصوبہ بنایا ہے۔ تاہم اس فہرست میں سویابین شامل نہیں تھی۔

بیجنگ امریکی مچھلی اور سمندری غذا، لکڑی اور لکڑی سے بنی مصنوعات، کاسمیٹکس اور طبی آلات پر عائد محصولات میں بھی کمی کرنے پر غور کرے گا۔

ایک اور فہرست میں واشنگٹن کی جانب سے چینی چھوٹے گھریلو برقی آلات جن میں کافی میکرز اور ٹوسٹرز شامل ہیں کے علاوہ دسترخوان، کمبل اور بستر کی چادروں پر عائد باہمی محصولات میں کمی بھی شامل تھی۔

ان فہرستوں میں کھلونے، آتش بازی، مصنوعی پھول، کرسمس ٹری کی لائٹس اور دیگر تہواروں کی سجاوٹ کی اشیا، نیز بچوں کے لیے کار سیٹیں بھی شامل تھیں۔

چین، امریکا تجارتی جنگ بندی میں مزید توسیع

چین کی وزارتِ تجارت نے پیر کو کہا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ بندی می توسیع سے دونوں فریقوں کو اقتصادی اور تجارتی مسائل کے حل کے لیے جاری انتظام کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ان شعبوں میں پیش رفت کے طریقوں پر غور کرنے کی گنجائش ملے گی۔

وزارت نے کہا کہ اس توسیع سے کمپنیوں کے درمیان تعاون اور جاری فعال مذاکرات کے لیے ایک نسبتاً مستحکم اور قابلِ پیش گوئی پالیسی ماحول بھی فراہم ہوگا۔

وزارتِ تجارت کے مطابق دونوں فریق ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع اور رکاوٹوں، پالیسی میں شفافیت اور پیش گوئی کے عمل کو بہتر بنانے اور کاروباری اداروں کے تحفظات دور کرنے کے لیے باقاعدگی سے مذاکرات کریں گے۔

زراعت اور کوئلہ

چین کی جانب سے ٹیرف میں کمی کے لیے مصنوعات کے انتخاب سے بظاہر بیجنگ کو وائٹ ہاؤس کے مطابق زرعی مصنوعات کی خریداری کے لیے 17 ارب ڈالر کے وعدے کی تکمیل میں مدد ملے گی۔ چین گزشتہ سال طے پانے والے معاہدے کے تحت سالانہ 2 کروڑ 50 لاکھ میٹرک ٹن امریکی سویابین کی خریداری دوبارہ بڑے پیمانے پر شروع کرچکا ہے۔

وزارتِ تجارت نے کہا کہ دونوں ممالک تجارتی کونسل کے تحت ایک زرعی ورکنگ گروپ قائم کریں گے، جس کا پہلا اجلاس سال کے اختتام سے قبل ہوگا۔ اجلاس میں دوطرفہ مارکیٹ تک رسائی اور ضوابط سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، صدور کی سربراہی ملاقات میں چین کی جانب سے 2027 اور 2028 میں امریکا سے سالانہ ایک کروڑ میٹرک ٹن کوئلہ درآمد کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ یہ مقدار ہر سال چین کی مجموعی کوئلے کی درآمدات کے تقریباً 2 فیصد کے برابر ہے۔