ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی 2026 کی رپورٹ اے کریٹیکل جنکچر آف دی ورلڈ ٹریڈنگ سسٹم میں کہا گیا ہے کہ عالمی تجارتی پالیسی اور ڈبلیو ٹی او کو کثیر الجہتی تجارتی نظام کے 80 سال قبل قیام کے بعد سے اب تک کی سب سے سنگین اور مسلسل رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
اس بیان سے شاید ہی کوئی اختلاف کرے، کیونکہ بالخصوص تین بڑے عوامل اس کی وجہ ہیں: (i) صدر ٹرمپ کی جانب سے قواعد پر مبنی عالمی معیشت کی خلاف ورزی جس میں ٹیرف کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بھی شامل ہے؛ (ii) بیشتر پیداواری سرگرمیوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھنے والی اشیا یعنی بجلی، گیس/ایل این جی، پٹرولیم اور پٹرولیم مصنوعات کو روسی ایندھن کی برآمدات پر مغرب کی جانب سے عائد پابندیوں کے بعد بھی رسد کی شدید کمی کا سامنا ہے؛ اور (iii) 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد یہ قلت مزید بڑھ گئی جس کے نتیجے میں بالآخر دنیا کی 20 سے 25 فیصد ایندھن کی رسد متاثر ہوئی۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد باب المندب کی بندش سے یہ خلل مزید شدت اختیار کرگیا۔
تاہم رپورٹ نے اگرچہ ان جغرافیائی سیاسی عوامل کا حوالہ دیا ہے جنہوں نے عالمی تجارت کو متاثر کیا لیکن اس نے دیگر زیادہ بنیادی نوعیت کے مسائل کی بھی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مسائل اس نظام کی اپنی کامیابیوں کا نتیجہ ہیں۔ تاہم رپورٹ نے زور دیا کہ اس نظام کے قیام کی بنیادی منطق اب بھی اہم اقتصادی فوائد فراہم کر رہی ہے اور یہ نظام بدستور قدر و افادیت رکھتا ہے۔ لیکن مستقبل میں اس کی مؤثریت کا انحصار اب اس بات پر ہوگا کہ یہ اس زیادہ مربوط، کثیر قطبی اور متنوع عالمی معیشت کے مطابق خود کو کس حد تک ڈھال سکتا ہے جس کے وجود میں آنے میں اس نظام نے بھی کردار ادا کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کے لیے اس کے قواعد، وعدوں اور طریقۂ کار میں ترمیم درکار ہوگی کیونکہ موجودہ نظام واضح طور پر عالمی معیشت میں رونما ہونے والی تبدیلی کی رفتار اور پیمانے سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
حیرت کی بات نہیں کہ ڈبلیو ٹی او نے اس کے خاتمے کی سفارش نہیں کی بلکہ اس کے بجائے درج ذیل تجاویز پیش کی ہیں: جو کچھ خراب ہے اسے درست کیا جائے، جو فرسودہ ہوچکا اسے جدید بنایا جائے، جو مؤثر ہے اسے برقرار رکھا جائے اور نئی پالیسیوں کے اثرات کے مطابق باہمی تعاون کو ڈھالا جائے۔ ڈبلیو ٹی او کو ماضی میں بھی دباؤ کے مراحل کا سامنا رہا اور اس کی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ یہ نظام جمود کا شکار رہنے کے بجائے ان قواعد، وعدوں اور طریقۂ کار کی تجدید کے ذریعے برقرار رہا ہے جن کے ذریعے اس کے بنیادی اصولوں کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں مزید خبردار کیا گیا کہ اگر تبدیلیاں نہ کی گئیں تو کثیر الجہتی تعاون کو مضبوط بنانے اور کثیر الجہتی تجارتی قواعد کے کمزور ہونے کے درمیان فرق بڑھتا جائے گا جسے رپورٹ کے مطابق مختلف منظرناموں کی بنیاد پر عالمی حقیقی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 5 سے 10 فیصد کے مساوی مواقع کی لاگت قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈبلیو ٹی او کے ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ مضبوط کثیر الجہتی تجارتی نظام 2050 تک عالمی جی ڈی پی میں تقریباً 3 فیصد یا 3 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کرسکتا ہے جبکہ تجارتی نظام کو جدید بنانے میں ناکامی عالمی پیداوار میں 10 فیصد تک کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت دوسری جنگِ عظیم کے بعد جی اے ٹی ٹی کے معماروں یا حتیٰ کہ یوراگوئے راؤنڈ کے مذاکرات کاروں کو درپیش عالمی معیشت سے بنیادی طور پر مختلف ہے، اس حقیقت پر 3 ایسی وجوہات کی بنا پر کوئی سوال نہیں اٹھتا جنہیں رپورٹ میں اجاگر نہیں کیا گیا۔ اول امریکا، مغربی یورپی ممالک، جاپان اور آسٹریلیا سمیت مغربی ممالک کی اقتصادی طاقت کو حریف ممالک، بالخصوص چین کی معاشی مضبوطی نے چیلنج کیا ہے جس نے امریکی جانب سے عائد کیے گئے بھاری ٹیرف کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ دوم چین نے نایاب ارضی عناصر (ریئر ارتھز) کی ریفائننگ کی ایسی صلاحیت پیدا کرلی جو عالمی رسد کا 90 فیصد فراہم کرتی ہے۔ ان میں سماریم، ڈیسپروزیم اور ٹربیئم شامل ہیں جو دفاعی، برقی گاڑیوں اور سیمی کنڈکٹر کی صنعتوں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس صورتحال نے چین کو غیر معمولی اثر و رسوخ استعمال کرنے اور امریکی ٹیرف کے اثرات کو کم کرنے کا موقع دیا۔ سوم جغرافیہ ایسے ممالک کو بھی غلبہ حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہے جو عسکری اعتبار سے کم طاقتور ہیں۔ سماریم، ڈیسپروزیم اور ٹربیئم دفاعی، برقی گاڑیوں اور سیمی کنڈکٹر کی صنعتوں کے لیے انتہائی اہم ہیں، جیسا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ناکہ بندی کی صورت میں جغرافیائی محلِ وقوع اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مغربی ممالک اس وقت بھی اپنی پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، خواہ امریکا انفرادی طور پر یا یورپی یونین اجتماعی طور پر اور ملکی صنعت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی کے ایک آلے کے طور پر ٹیرف اور پابندیوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں انہیں واضح طور پر شدید قلت کا سامنا ہے اور جہاں متبادل رسد دستیاب ہے وہاں اس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے جو کہیں زیادہ مہنگی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کی پیداواری صنعت کی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں رہتیں۔
رپورٹ کے مطابق عالمی تجارتی اشیا کی 72 فیصد تجارت اب بھی ڈبلیو ٹی او کی موسٹ فیورڈ نیشن (ایم ایف این) شرائط کے تحت ہوتی ہے تاہم پاکستان کسی بھی ملک کے ساتھ یہ حیثیت نہیں رکھتا، اگرچہ جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز (جی ایس پی پلس) کے ذریعے یورپی یونین کی منڈیوں تک پاکستان کو ترجیحی تجارتی رسائی حاصل ہے۔