پزشکیان کا ٹرمپ کو جواب: ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا، ’مکمل تباہی‘ کی دھمکی مسترد
- اقوام متحدہ میں امریکا، ایران کشیدگی عروج پر، تہران کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، سفارت کاری کے لیے دروازے کھلے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران امریکا کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا، تاہم وہ اب بھی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی فورم پر ایران کو ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں دونوں رہنماؤں کی ایک دوسرے کے برعکس تقاریر نے کئی ماہ بعد امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے پہلے براہِ راست مذاکرات کے سلسلے کو مکمل کیا۔ ان مذاکرات سے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے حوالے سے دونوں فریقوں کے عوامی موقف میں بظاہر کوئی رعایت سامنے نہیں آئی۔
اپنے خطاب میں پزشکیان نے ایران کی فوجی کارروائیوں کو دفاعی قرار دیتے ہوئے ان کا دفاع کیا اور اصرار کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا خواہاں نہیں۔
ایک ممکنہ نئے تنازع کے خدشے کے پیش نظر ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے، اگر وہ دنیا بھر میں ایرانی شہری طیاروں کی پروازیں روکنے کے لیے عائد کی جانے والی نئی امریکی پابندیوں پر عمل کرتے ہیں۔
واشنگٹن نے کہا ہے کہ بدھ کے بعد ایرانی پروازوں کی اجازت دینے والے کسی بھی ملک کے خلاف نام نہاد ثانوی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ اگر ہمسایہ ممالک ایرانی پروازیں روک دیتے ہیں تو ایران اس امر کو یقینی بنائے گا کہ ان ممالک کے ہوائی اڈے کام نہ کرسکیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس منگل کو ایرانی اور امریکی حکام کے لیے کئی ماہ بعد پہلے معلوم بالواسطہ مذاکرات کا موقع بنا۔ یہ مذاکرات جولائی میں جنگ بندی ختم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ہوئے، جن میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے اجلاس کے موقع پر ثالثوں کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کیا۔
ٹرمپ نے منگل کو اپنی تقریر کے بعد کہا، ’’اسٹیو اور جیرڈ نے آج ایران کے ثالثوں کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز ملاقات کی۔ میرے خیال میں ان کے درمیان معاہدہ طے پانے کی بہت اچھی پیش رفت ہورہی ہے۔ ہمیں ہر طرف سے یہی سننے کو مل رہا ہے۔‘‘
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران نے قطری ثالث کے ذریعے واشنگٹن سے رابطہ کیا اور اپنی شرائط سے آگاہ کیا، جن میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور امریکا کی جانب سے ’’جارحیت پر مبنی اقدامات‘‘ روکنا شامل ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ابتدا میں خبر دی تھی کہ عراقچی اور وٹکاف کے درمیان ملاقات ہوئی، تاہم ایرانی حکام نے رائٹرز کو وضاحت کی کہ یہ بالمشافہ ملاقات نہیں تھی۔
ایران کی جانب سے سفارتی کوششوں کی مزاحمت
نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی نے، جس کے روابط پاسداران انقلاب سے ہیں، ایک مضمون میں کہا کہ عراقچی کا وٹکاف اور کشنر سے رابطہ کرنا غلط اقدام تھا اور یہ ’’ٹرمپ کے لیے ایک بڑا تحفہ‘‘ ہے، کیونکہ ایران پہلے ہی اپنی شرائط سے آگاہ کرچکا ہے۔
ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ وفد کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے امریکی حکام سے بالمشافہ ملاقات نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس کونسل میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کا انتخاب سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کرتے ہیں۔ خامنہ ای نے اپنے والد کی جگہ سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد اب تک عوامی سطح پر منظرِ عام پر نہیں آئے، ان کے والد جنگ کے پہلے روز مارے گئے تھے۔
تیل کی قیمتیں دو ہفتے کی کم ترین سطح کے قریب
تاہم سفارتی رابطے کے آغاز سے تیل کی قیمتیں دو ہفتے کی کم ترین سطح کے قریب رہیں۔ برینٹ خام تیل تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس رہا، رواں ماہ کے آغاز میں اس وقت قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا جب یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر میں آمدورفت کے لیے خطرہ بننے والی ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی، جو سعودی عرب کی برآمدات کے متبادل راستوں میں سے ایک ہے۔
ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فروری میں ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے نام سے شروع کی گئی جنگ کو تقریباً سات ماہ ہوچکے ہیں۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک، عالمی توانائی کی رسد متاثر اور یہ تنازع خطے کے دیگر ممالک، بالخصوص لبنان اور حالیہ عرصے میں یمن تک پھیل چکا ہے۔
جون میں طے پانے والے ایک عبوری معاہدے پر ٹرمپ اور پزشکیان نے دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایران کو اس کے اہم مطالبات، یعنی مالی پابندیوں کے خاتمے اور اثاثے غیر منجمد کرنے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات کا موقع ملنا تھا۔
تاہم آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے ضوابط کے معاملے پر، جنگ سے قبل دنیا کے پانچویں حصے کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے اہم راستے، یہ معاہدہ چند ہی ہفتوں میں بے اثر ہوگیا۔ ایران اس آبنائے پر کنٹرول قائم کرکے اس سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنا چاہتا ہے، جسے واشنگٹن مسترد کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں تازہ ترین رپورٹ ہونے والے حملے میں برطانیہ کی بحری سلامتی کی ایجنسی یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یوکے ایم ٹی او) نے بتایا کہ ایک مال بردار جہاز کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے دو ارکان ہلاک ہوگئے۔ عملے کو جہاز سے نکال لیا گیا جبکہ جہاز میں آگ لگی ہوئی تھی اور وہ بے قابو ہوکر بہہ رہا تھا۔
تقریباً روزانہ ہونے والے حملوں کے باوجود حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک جہاز رانی کمپنیوں کو کارگو کی مالیت کے ایک چوتھائی تک فیس ادا کر رہے ہیں تاکہ وہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے کا خطرہ مول لیں، اس دوران جہازوں کے ٹرانسپونڈر بند رکھے جاتے ہیں، اور آبنائے کے دوسری جانب پہنچنے کے بعد خام تیل دوسرے جہازوں میں منتقل کردیا جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات سے تیل کی برآمدات جنگ سے قبل کی سطح پر بحال ہوچکی ہیں، جبکہ سعودی عرب نے رواں اور اگلے ماہ کے لیے خلیج سے 6 کروڑ بیرل تیل فروخت کیا ہے، جس کی ترسیل آبنائے ہرمز سے آگے عمان کے ساحل کے قریب کی جائے گی۔
اس کے باوجود اندازہ ہے کہ خلیج سے حاصل ہونے والے تیل کا ایک تہائی عالمی رسد سے غائب ہے۔ قلت نے بالخصوص ڈیزل جیسی ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھی، شرح سود میں اضافہ ہوا اور ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچا ہے۔