✕

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (آباد) کے ارکان اپنے کاروبار کو کارپوریٹ اداروں میں تبدیل کرنے اور رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس رجسٹر کرانے پر غور کررہے ہیں۔

ریگولیٹر نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ یہ پیشرفت سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے منعقد کیے گئے آگاہی سیشن کے بعد سامنے آئی ہے۔

ایس ای سی پی کے کمشنر مظفر احمد مرزا نے سیشن میں کمیشن کے وفد کی قیادت کی جس کی میزبانی آباد کے مرکزی دفتر میں کی گئی۔ آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی، سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید، وائس چیئرمین طارق عزیز میمن اور بلڈرز و ڈویلپرز برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔

مظفر احمد مرزا نے شرکاء کو کاروبار کی رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے، ضابطہ جاتی امور میں وضاحت بہتر کرنے اور غیر رسمی کاروبار و شراکت داریوں کو باقاعدہ کارپوریٹ ڈھانچے اپنانے کی ترغیب دینے کے لیے ایس ای سی پی کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ کمپنی کی رجسٹریشن سے ایک علیحدہ قانونی ادارہ وجود میں آتا ہے اور عمومی طور پر حصص داروں کی ذمہ داری محدود ہوجاتی ہے جس سے کاروباری ذمہ داریوں کو ارکان کے ذاتی اثاثوں سے الگ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

ایس ای سی پی کے حکام جن میں کراچی کمپنی رجسٹریشن آفس کے انچارج سڈنی کسٹوڈیو پریرا بھی شامل تھے نے ای زیڈ فائل پلیٹ فارم کا عملی مظاہرہ کیا اور بتایا کہ بیرونی رجسٹریوں کے ساتھ ڈیجیٹل انضمام کے باعث کمپنی رجسٹریشن اور کارپوریٹ فائلنگ کا عمل زیادہ تیز اور آسان ہوگیا ہے۔

سیشن میں اس امر کو بھی اجاگر کیا گیا کہ کارپوریٹ حیثیت اختیار کرنے سے ملکی و بین الاقوامی منڈیوں اور مالیاتی ذرائع تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ کاروباری ساکھ، شفافیت اور تسلسل بھی مضبوط ہوتا ہے۔

آباد کی قیادت نے ایس ای سی پی کی جانب سے آگاہی کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ اس کے ارکان کارپوریٹائزیشن اور آر ای آئی ٹی رجسٹریشن پر فعال طور پر غور کر رہے ہیں۔

آباد نے ایس ای سی پی کے ساتھ رابطہ کاری اور کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت رئیل اسٹیٹ شعبے سے متعلق سفارشات پیش کرنے پر بھی اتفاق کیا۔