’’کیوبا میں آزادی آنے والی ہے‘‘، ٹرمپ کا اقوام متحدہ میں خطاب
- امریکی صدر ٹرمپ نے کہا، ’’کمیونزم کبھی امریکا نہیں آئے گا، لیکن آزادی کیوبا ضرور آئے گی۔‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کیوبا کو ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیونسٹ نظام کے تحت چلنے والے اس جزیرے میں آزادی آنے والی ہے۔ خطاب میں انہوں نے خطے میں امریکا کی زیادہ فعال شمولیت کا بھی ذکر کیا۔
ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میری انتظامیہ کیوبا کی صورتِ حال میں بھی بنیادی تبدیلی لانے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں کمیونسٹ حکومت شدید دباؤ میں ہے اور اسے اب تک کے سب سے بڑے دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ مکمل طور پر ناکام ریاست ہے، یہ پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے ناکام ہورہی ہے اور بالآخر یہ حکومت ختم ہوجائے گی۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’کمیونزم کبھی امریکا نہیں آئے گا، لیکن آزادی کیوبا ضرور آئے گی۔‘‘
ٹرمپ کے خطاب کے دوران کیوبا کا وفد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے واک آؤٹ کرگیا۔
امریکا گزشتہ 60 برس سے زائد عرصے سے کیوبا پر تجارتی پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے کمیونسٹ حکومت کے زیرِ انتظام کیوبا پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ یہ پیش رفت اس کے بعد ہوئی جب ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری میں فوجی کارروائی کے ذریعے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔
ٹرمپ ماضی میں بھی کیوبا کو ناکام ریاست قرار دے چکے ہیں، جن میں جون میں کیا گیا ان کا بیان بھی شامل ہے، جب انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کے پاس کیوبا کے لیے کچھ بہت اچھے منصوبے ہیں اور وہ ملک کی صورتِ حال سنبھال لے گا۔
فِیڈل کاسترو کے 1959 کے انقلاب کے بعد سے کیوبا کئی دہائیوں سے امریکا کا مخالف رہا ہے۔ فلوریڈا میں مقیم سخت گیر کیوبا نژاد امریکیوں کی ٹرمپ کو بھرپور حمایت حاصل ہے، جو کئی دہائیوں سے امریکا کی جانب سے کیوبا میں حکومت کی تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔ ریپبلکن امریکی صدر نے واضح کردیا ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔