اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان برقرار، 100 انڈیکس تقریباً 250 پوائنٹس بڑھ گیا
- بینچ مارک انڈیکس 171,402.08 پوائنٹس پر بند ہوا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو خریداری کا سلسلہ جاری رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 250 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بینچ مارک انڈیکس نے کاروباری سیشن کے آغاز میں تیزی دکھائی اور دورانِ سیشن 171,680.73 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ بعد ازاں انڈیکس پر فروخت کا دباؤ آیا اور صبح کے آخری حصے اور دوپہر کے ابتدائی اوقات میں تیزی بتدریج کم ہوتی گئی۔
تقریباً ساڑھے 11 بجے کے بعد انڈیکس میں مسلسل کمی دیکھی گئی اور یہ 170,866.93 پوائنٹس کی دن کی کم ترین سطح پر آگیا، جو کاروباری سیشن کے دوران منافع کے حصول اور فروخت کے نمایاں دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
بعد ازاں مارکیٹ نے تیزی سے بحالی کی اور انڈیکس 171,100 پوائنٹس کی سطح سے اوپر آگیا، جس کے بعد دوپہر کے بیشتر حصے میں محدود دائرے میں کاروبار ہوتا رہا۔
کاروبار کے آخری منٹوں میں معمولی کمی کے بعد خریداری کی نئی لہر دیکھی گئی، جس سے انڈیکس دوبارہ دن کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچا لیکن اختتام سے قبل معمولی کمی ہوئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 248.92 پوائنٹس یا 0.15 فیصد اضافے سے 171,402.08 پوائنٹس پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں محدود اور ملا جلا کاروباری سیشن رہا جہاں سرمایہ کاروں نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور سعودی عرب سے خام تیل کی اضافی فراہمی کی توقعات کو خطے میں دوبارہ پیدا ہونے والی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں پرکھا۔
گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 268.58 پوائنٹس یا 0.16 فیصد اضافے سے 171,153.17 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر منگل کو ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں تیزی کے باعث ایشیائی مارکیٹیں بلند ہوئیں جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات سے امیدیں وابستہ کرلیں۔ دوسری جانب افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے مزید شرحِ سود میں اضافے کے امکانات کے باعث ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔
توجہ اس ہفتے کے آخر میں ہونے والی ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی اہم ملاقات پر بھی مرکوز ہے جہاں سرمایہ کار اس بات کے اشارے دیکھ رہے ہیں کہ آیا دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے رہنما باہمی تعلقات میں مزید بگاڑ کو روک سکتے ہیں۔
شی بدھ کو ایک دہائی سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ واشنگٹن پہنچ رہے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ بندی کے معاہدے میں توسیع اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ممکنہ تعاون کے حوالے سے امیدیں بڑھ رہی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے لیے تیار ہیں جو اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں متوقع ہیں۔ اس پیشرفت سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی اور بانڈز کی شرحِ منافع میں کمی ہوئی۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس ابتدائی کاروبار میں ایک فیصد سے زائد بڑھ گیا۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص پر مشتمل جنوبی کوریا کی مارکیٹ تقریباً 2 فیصد جبکہ تائیوان کے حصص 1.3 فیصد بلند ہوئے۔ جاپان کی مارکیٹیں تعطیل کے باعث بند رہیں۔
نیسڈیک فیوچرز میں 0.37 فیصد اضافہ ہوا جبکہ یورپی فیوچرز 0.3 فیصد بلند رہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑی حد تک میٹا کے میوز اے آئی اسسٹنٹ کے اجرا کو ملنے والے مثبت ردعمل پر مرکوز رہی۔
چین کا بلیو چپ اسٹاک انڈیکس 0.75 فیصد بڑھا جبکہ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔ چین اور ہانگ کانگ میں اے آئی سے متعلق حصص میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔
دریں اثنا پاکستانی روپے نے منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کا سلسلہ جاری رکھا۔ مقامی کرنسی ایک پیسے کی بہتری کے ساتھ 277.21 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 692.88 ملین حصص کے مقابلے میں کم ہوکر 641.83 ملین حصص رہا۔
حصص کی مجموعی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 20.10 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہوکر 18.47 ارب روپے رہی۔
تصدیق انفارمیشن 133.19 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی، اس کے بعد میڈیا ٹائمز لمیٹڈ کے 72.72 ملین اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 48.57 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔
منگل کو مجموعی طور پر 494 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 226 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 221 میں کمی جبکہ 47 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔