اگست 2026 میں بجلی کی پیداوار سالانہ بنیادوں پر 5 فیصد بڑھ گئی
- جولائی 2026 کے 15,122 گیگاواٹ آور کے مقابلے میں بجلی کی پیداوار ایک فیصد کم رہی
پاکستان میں اگست 2026 کے دوران بجلی کی پیداوار 14,943 گیگاواٹ آور رہی، جو اگست 2025 کے 14,218 گیگاواٹ آور کے مقابلے میں سالانہ بنیادوں پر 5.1 فیصد زیادہ ہے۔
اگست 2025 میں بجلی کی پیداوار 14,218 گیگاواٹ آور ریکارڈ کی گئی تھی۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے جاری ایک نوٹ میں کہا کہ اگرچہ بجلی کی پیداوار اگست 2021 میں ریکارڈ کیے گئے 16,176 گیگاواٹ آور کی بلند ترین سطح سے اب بھی کم ہے، تاہم اس میں حالیہ اضافہ بجلی کے شعبے کی سرگرمیوں اور مجموعی معاشی نمو کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
ماہانہ بنیادوں پر اگست 2026 میں بجلی کی پیداوار جولائی کے 15,122 گیگاواٹ آور کے مقابلے میں ایک فیصد کم رہی۔
اے ایچ ایل کے مطابق بجلی کی پیداوار نیپرا کے ریفرنس سے زیادہ رہی، جس کی وجوہات میں کم ٹیرف، صنعتی صارفین کی قومی گرڈ کی جانب منتقلی، صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے اضافی کھپت پیکیج اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری شامل ہیں۔ جولائی 2026 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار (ایل ایس ایم) سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد بڑھی تھی۔
اے ایچ ایل نے کہا کہ بجلی کی پیداوار کا ریفرنس سطح سے زیادہ رہنا مستقبل کے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) کے لیے بھی مثبت اشارہ ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی لاگت اگست 2026 میں سالانہ بنیادوں پر 38 فیصد بڑھ کر 10.01 روپے فی کلو واٹ آور ہوگئی، جو گزشتہ سال اسی ماہ 7.27 روپے فی کلو واٹ آور تھی۔
رپورٹ کے مطابق بجلی کی بلند پیداواری لاگت کی بنیادی وجہ آر ایل این جی اور فرنس آئل کے زیادہ استعمال پر مشتمل توانائی مکس تھا، جبکہ عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں نے بھی پیداواری لاگت میں اضافہ کیا۔
اے ایچ ایل کے مطابق اسی کے نتیجے میں ڈسکوز نے اگست 2026 کے لیے 1.73 روپے فی کلو واٹ آور مثبت فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی درخواست کی۔
ماہانہ بنیادوں پر بجلی کی پیداواری لاگت جولائی 2026 کے 10.75 روپے فی کلو واٹ آور کے مقابلے میں 7 فیصد کم رہی۔
اگست میں پن بجلی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ رہی جس کا مجموعی بجلی پیداوار میں حصہ 38 فیصد تھا۔
اے ایچ ایل کے مطابق اگست 2026 میں پن بجلی کی پیداوار 5,654 گیگاواٹ آور رہی جو سالانہ بنیادوں پر 2.5 فیصد زیادہ اور اگست کی طویل مدتی اوسط 4,846 گیگاواٹ آور سے 17 فیصد زائد ہے۔ یہ اگست میں پن بجلی کی دوسری بلند ترین پیداوار ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پانی کی بہتر دستیابی کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں مسلسل بہتری کم لاگت والے توانائی مکس کو مضبوط بنا رہی ہے، جس سے مجموعی پیداواری لاگت اور ایف سی اے میں کسی حد تک کمی لانے میں مدد مل رہی ہے۔
پن بجلی کے بعد کوئلے سے بجلی پیداوار کا حصہ 27 فیصد رہا جبکہ جوہری توانائی کا حصہ 10 فیصد تھا۔ گیس اور آر ایل این جی کا بجلی پیداوار میں حصہ بالترتیب 9 فیصد اور 7 فیصد رہا۔
اے ایچ ایل کے مطابق اگست 2026 میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار 3,956 گیگاواٹ آور رہی جو سالانہ بنیادوں پر 53 فیصد زیادہ اور کسی بھی اگست کے مقابلے میں بلند ترین سطح ہے۔ اس میں درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداوار 105 فیصد اضافے کے ساتھ 2,330 گیگاواٹ آور جبکہ مقامی کوئلے سے پیداوار 13 فیصد بڑھ کر 1,626 گیگاواٹ آور ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ آر ایل این جی کی کم دستیابی اور ایل این جی کی بلند لاگت کے باعث کوئلے پر مبنی بجلی پیداوار کی جانب مسلسل منتقلی کی عکاسی کرتا ہے۔ بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث صرف درآمدی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ اگست 2026 میں مجموعی کوئلہ پیداوار کا 16 فیصد رہا۔
قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع میں ہوا سے بجلی کی پیداوار کا مجموعی مکس میں حصہ 6 فیصد جبکہ شمسی توانائی کا حصہ ایک فیصد رہا۔