ین میں اتار چڑھاؤ، کرنسی مداخلت کے امکانات پر قیاس آرائیاں
- بینک آف جاپان نے جمعہ کو شرحِ سود 1.25 فیصد کردی، جو 31 سال کی بلند ترین سطح ہے
عالمی کرنسی مارکیٹ میں پیر کو سرمایہ کاروں کی توجہ جاپانی ین پر مرکوز رہی، جو گزشتہ ہفتے 2 فیصد کمی کے بعد دباؤ کا شکار ہے۔ ین میں تیزی سے کمی کے باعث ٹوکیو کی جانب سے شرحِ سود سے متعلق جانچ اور ممکنہ کرنسی مداخلت کے امکانات پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
ین معمولی بہتری کے ساتھ 156.64 فی ڈالر پر آگیا، جبکہ جاپانی مارکیٹیں تین روزہ تعطیلات کے باعث بند رہیں۔ کم کاروباری حجم کے دوران سرمایہ کار ممکنہ سرکاری مداخلت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بینک آف جاپان نے جمعہ کو شرحِ سود 1.25 فیصد کردی، جو 31 سال کی بلند ترین سطح ہے، تاہم متوقع اضافے کے باوجود ین کو سہارا نہ مل سکا۔ شرحِ سود میں اضافے کے فیصلے پر دو اراکین نے اختلاف کیا، جبکہ مرکزی بینک کی جانب سے مستقبل میں مزید سخت پالیسی کا واضح اشارہ نہ ملنے سے سرمایہ کار مایوس ہوئے۔
اس کے بعد ین کی قدر میں نمایاں کمی ہوئی، جس کے بعد نکی اخبار نے رپورٹ کیا کہ جاپانی حکام نے بینکوں سے کرنسی کی قیمتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ مارکیٹ میں شرحِ سود کی جانچ کو ممکنہ کرنسی مداخلت سے قبل کا اقدام سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو اور یورپی مرکزی بینک نے بھی رواں ماہ شرحِ سود میں اضافہ کیا اور مہنگائی سے نمٹنے کے لیے مزید سخت اقدامات کا امکان ظاہر کیا۔
ڈالر انڈیکس 100.23 پر مستحکم رہا، جبکہ گزشتہ ہفتے فیڈ کے شرحِ سود میں اضافے کے بعد اس میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا۔
سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق اکتوبر کے اجلاس میں فیڈ کی مزید شرحِ سود بڑھانے کے امکانات 55 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، جو ایک ہفتہ قبل 42.5 فیصد تھے۔