✕
پاکستان

وفاقی محصولات میں کمی سے صوبائی ترقیاتی پروگرام متاثر ہورہے ہیں، سندھ حکومت

  • سندھ نے اپنے وسائل پر دباؤ کے باوجود مالی تعاون کے ذریعے اس عزم کا مظاہرہ کیا ہے،سکھ دیو ہیمنانی
شائع اپ ڈیٹ

سندھ حکومت کے ترجمان سکھ دیو ہیمنانی نے کہا ہے کہ وفاقی محصولات میں کمی سے صوبائی ترقیاتی پروگرام اور عوامی خدمات سے متعلق وعدے براہ راست متاثر ہورہے ہیں، کیونکہ بعد ازاں کم کیا گیا محصولاتی ہدف حاصل کرلینے سے صوبوں کو وہ فنڈز واپس نہیں ملتے جن کی توقع بجٹ تیار کرتے وقت کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طاقت وفاق اور صوبوں کے درمیان مضبوط تعاون، وسائل کی منصفانہ تقسیم، آئینی حقوق کے تحفظ اور عوام کی جمہوری خواہشات کے احترام میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے جتنے مضبوط ہوں گے، وفاق بھی اتنا ہی مضبوط ہوگا، کیونکہ بااختیار صوبے عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی، ہنگامی حالات سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور قومی ضروریات پوری کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔

سکھ دیو ہیمنانی نے کہا کہ سندھ نے اپنے وسائل پر دباؤ کے باوجود مالی تعاون کے ذریعے اس عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی مالیات پر بحث کے دوران یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کو متعلقہ قابل تقسیم محاصل میں مجموعی طور پر 57.5 فیصد حصہ ملتا ہے، نہ کہ وفاقی حکومت کی مجموعی آمدن کا 57.5 فیصد۔

ان کے مطابق سندھ کو عام صوبائی پول میں 24.55 فیصد حصہ ملتا ہے، جو علیحدہ گرانٹس اور براہ راست منتقلی سے قبل مجموعی خالص قابل تقسیم پول کا تقریباً 14 فیصد بنتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وسائل صوبوں کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے اور بنیادی عوامی خدمات فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ وفاق کی اہم غیر ٹیکس آمدن این ایف سی کے تحت محصولات کی تقسیم کے نظام سے باہر رہتی ہے۔ وفاق اور صوبوں کے مالی تعلقات کا جائزہ لیتے وقت اس فرق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ صوبائی بجٹ وفاقی محصولات کی پیش گوئی کی بنیاد پر تیار کیے جاتے ہیں، جبکہ قابل تقسیم پول سے اصل منتقلی وصولیوں پر منحصر ہوتی ہے۔ مالی سال 2025-26 کیلئے ایف بی آر کا ابتدائی ہدف 14.131 ٹریلین روپے تھا، جبکہ سال کے اختتام پر خالص وصولی تقریباً 13 ٹریلین روپے رہی، جس سے 1.13 ٹریلین روپے کا فرق پیدا ہوا۔

نتیجتاً سندھ کے وفاقی ٹیکس حصے اور براہ راست منتقلی کو تقریباً 2.044 ٹریلین روپے سے کم کرکے 1.879 ٹریلین روپے کردیا گیا، جس سے بجٹ تخمینوں میں تقریباً 165 ارب روپے کی کمی ہوئی۔

سکھ دیو ہیمنانی نے کہا کہ ان مالی دباؤ کے باوجود سندھ نے مالی سال 2026-27 میں آرٹیکل 164 کے تحت اپنے حصے سے قومی اسٹریٹجک ضروریات کیلئے تقریباً 260 ارب روپے مختص کیے، جبکہ صوبے کے مجموعی ترقیاتی پروگرام کا حجم تقریباً 1.018 ٹریلین روپے سے کم کرکے 720 ارب روپے کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے پر بحث کا مقصد آئینی وفاقیت اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ مرکز اور صوبوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو کمزور کرکے وفاق کو مضبوط نہیں کیا جاسکتا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026