حکومت نے ’سکیورٹی خطرات‘ کے پیش نظر جماعت اسلامی کا لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کردی
- جماعت اسلامی کا پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک لانگ مارچ جاری رکھنے کا عزم
حکومت اور جماعت اسلامی (جے آئی) کے درمیان پٹرولیم لیوی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے سے متعلق مذاکرات کا پانچواں دور ہفتہ کو کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوگیا، یہ بات جماعت اسلامی کی جانب سے جاری بیان میں کہی گئی ہے۔
حکومتی وفد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور پنجاب کے وزیر خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔
جماعت اسلامی کے وفد کی قیادت نائب امیر لیاقت بلوچ نے کی، جس میں قائم مقام سیکریٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، جے آئی امیر کے معاون خصوصی عمیر ادریس، لاہور کے امیر ضیاء الدین انصاری، سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی اور سلمان شیخ شامل تھے۔
جماعت اسلامی کے مطابق حکومتی وفد نے سکیورٹی خطرات کے پیش نظر پارٹی سے اپنا لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک لانگ مارچ ناگزیر رہے گا۔
بیان کے مطابق حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کو یقین دہانی کرائی کہ عوام کو جلد از جلد ’’بے مثال ریلیف‘‘ فراہم کیا جائے گا۔
حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے دباؤ کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ آئی ایم ایف کا ایک وفد جلد پاکستان کا دورہ کرنے والا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت عوام کے مطالبات پورے کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے، بصورت دیگر جماعت اسلامی احتجاج اور لانگ مارچ جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں لانگ مارچ اتوار کو طے شدہ شیڈول کے مطابق کراچی سے شروع ہوگا۔ جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب مارچ کے آغاز کے لیے 20 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
حافظ نعیم کے ریمارکس
کراچی میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے اور انہوں نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اتوار کو کراچی سے لانگ مارچ شروع کرے گی۔
انہوں نے عوام کو ریلیف دینے کے معاملے میں حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کا حوالہ دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جانب حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے راستے نکال رہی ہے۔
حافظ نعیم نے مزید الزام عائد کیا کہ ’’اشرافیہ‘‘ سے تعلق رکھنے والے افراد نے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں، شوگر انڈسٹری اور بینکوں سمیت مختلف بااثر شعبوں کے ذریعے یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں سے فائدہ اٹھایا۔
جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مطالبہ پورا ہونے تک اس کی احتجاجی مہم جاری رہے گی۔