2025 کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے احتسابی نظام سے متعلق موصول ہونے والی 68 شکایات میں سے 43 پاکستان سے متعلق تھیں، یوں سال کے دوران اس نظام کو موصول ہونے والی شکایات میں پاکستان سب سے بڑا ذریعہ رہا۔
اے ڈی بی کے احتسابی نظام کی سالانہ رپورٹ 2025 کے مطابق شکایات وصول کرنے والے افسر نے 2025 کے دوران 166 شکایات پر کارروائی کی، جن میں 157 نئی درخواستیں جبکہ 9 کیسز 2024 سے منتقل ہوئے تھے۔ ان میں سے 68 شکایات کا تعلق احتسابی نظام سے تھا جبکہ 98 شکایات اس کے دائرہ کار سے باہر تھیں۔
رپورٹ کے مطابق احتسابی نظام سے متعلق 68 شکایات میں سے 44 وسطی اور مغربی ایشیا سے موصول ہوئیں، جن میں 43 پاکستان جبکہ ایک جارجیا سے متعلق تھی۔ سال کے دوران موصول اور نمٹائی گئی احتسابی نظام سے متعلق تمام شکایات میں پاکستان کا حصہ 63 فیصد رہا۔
تاہم، اے ڈی بی نے خبردار کیا کہ کسی ملک سے موصول ہونے والی شکایات کی زیادہ تعداد کو خودبخود اے ڈی بی کی مالی معاونت سے جاری منصوبوں میں حفاظتی اقدامات کی ناقص کارکردگی کا ثبوت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ بینک نے کہا کہ سول سوسائٹی کی سرگرمیاں، اے ڈی بی کے منصوبوں کے پورٹ فولیو کا حجم، بڑے انفرااسٹرکچر منصوبوں کا ارتکاز، متعلقہ فریقوں میں آگاہی اور شکایات کے ازالے کے نظام تک رسائی جیسے عوامل شکایات کی تعداد کو متاثر کرسکتے ہیں۔
2025 کے دوران ٹرانسپورٹ شعبے سے سب سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں جن کی تعداد 28 رہی جو احتسابی نظام سے متعلق تمام شکایات کا 41 فیصد بنتی ہیں۔ اس کے بعد توانائی شعبے سے 17 جبکہ پانی اور دیگر شہری انفرااسٹرکچر و خدمات کے شعبے سے 12 شکایات موصول ہوئیں۔ زراعت، دیہی ترقی اور قدرتی وسائل کے شعبے سے 9 شکایات سامنے آئیں جبکہ تعلیم اور کثیر شعبہ جاتی منصوبوں سے ایک، ایک شکایت موصول ہوئی۔
احتسابی نظام سے متعلق 68 شکایات میں سے 36 نے کم از کم مطلوبہ معلومات کی شرائط پوری کیں اور انہیں اسپیشل پروجیکٹ فسیلیٹیٹر (ایس پی ایف) یا کمپلائنس ریویو پینل (سی آر پی) کو بھجوا دیا گیا۔ 21 شکایات کو نمٹا کر بند کردیا گیا جبکہ 2025 کے اختتام پر 11 شکایات شکایات وصول کرنے والے افسر کے پاس زیرِ التوا تھیں۔
رپورٹ کے مطابق 29 شکایات ایس پی ایف جبکہ 9 شکایات سی آر پی کو بھجوائی گئیں، جن میں دو شکایات ایسی تھیں جنہیں مسئلہ حل کرنے کے مرحلے سے کمپلائنس ریویو کے لیے منتقل کیا گیا۔ زمین کے حصول، دوبارہ آبادکاری اور معاوضے سے متعلق معاملات نمایاں ترین شکایات کے طور پر سامنے آئے۔ قابلِ سماعت 36 شکایات میں سے 15، یعنی 42 فیصد، دوبارہ آبادکاری، معاوضے، زمین کی قیمت کے تعین اور زمین کے حصول سے متعلق تھیں۔ ماحولیاتی اور قدرتی وسائل سے متعلق مسائل 7 شکایات میں جبکہ معلومات تک رسائی اور مشاورت سے متعلق شکایات 5، 5 کیسز میں سامنے آئیں۔
پاکستان نے اے ڈی بی کی مسائل کے حل سے متعلق سرگرمیوں میں بھی نمایاں جگہ بنائی۔ اسپیشل پروجیکٹ فسیلیٹیٹر کے دفتر (او ایس پی ایف) کو پاکستان سے ٹرانسپورٹ، پانی اور شہری انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں کے منصوبوں سے متعلق شکایات موصول ہوئیں۔
پاکستان سے متعلق ایک اہم کیس ساہیوال میں پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز پروجیکٹ سے متعلق تھا جہاں او ایس پی ایف نے گندے پانی کی صفائی کے پلانٹ کے انجینئرنگ ڈیزائن میں تبدیلی کے لیے سہولت کاری کی۔ رپورٹ کے مطابق نئے ڈیزائن کے باعث 15 سے 20 ایکڑ قیمتی زرعی اراضی کے حصول سے گریز ممکن ہوا جس سے مقامی آبادی کے لیے زمین محفوظ رہی اور منصوبے کی ضروریات بھی پوری ہوگئیں۔
رپورٹ کے مطابق متبادل ڈیزائن نے یہ ظاہر کیا کہ ابتدائی مرحلے میں رابطہ کاری اور عملی طور پر مسائل کے حل سے متاثرہ گھرانوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے جبکہ پیداواری زرعی وسائل کو بھی محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور منصوبے کے نتائج میں ممکنہ طور پر بہتری لائی جاسکتی ہے۔
کمپلائنس ریویو پینل نے بھی پاکستان کے منصوبوں سے متعلق شکایات پر کارروائی کی۔ خیبر پختونخوا رورل روڈز پروجیکٹ اور پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروجیکٹ سے متعلق شکایات کو کمپلائنس ریویو کے دائرہ کار سے باہر اور ناقابلِ سماعت قرار دیا گیا۔
اے ڈی بی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ شکایت کنندگان کے لیے رازداری بدستور ایک اہم تشویش رہی۔ 2025 میں قابلِ سماعت 36 شکایات میں سے 16 میں رازداری کی درخواست کی گئی، جو 44 فیصد بنتی ہیں۔ ان میں سے 11 شکایت کنندگان نے ممکنہ انتقامی کارروائی پر بھی خدشات کا اظہار کیا۔