✕
پاکستان

کوہاٹ بم دھماکے میں 15 پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد شہید، پولیس

  • دھماکے اور اس کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں ساتوں حملہ آور مارے گئے، حکام
شائع اپ ڈیٹ

پولیس ذرائع کے مطابق جمعہ کو کوہاٹ پولیس لائنز کے اندر ایک مسجد سے ٹکرانے والی دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی کے دھماکے اور اس کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے پولیس تنصیبات پر دھاوا بولنے کی کوشش کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکاروں اور 6 شہریوں سمیت کم از کم 21 افراد شہید جبکہ 57 دیگر زخمی ہوگئے۔

یہ حملہ اولڈ پولیس لائنز کے قریب واقع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ دھماکے کے فوراً بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کردیا، جبکہ زخمیوں کو علاج کے لیے سی ایم ایچ کوہاٹ منتقل کیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے سینٹرل پولیس آفس نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ ایک خودکش بمبار نے کمپاؤنڈ کے اندر اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ بعد ازاں دفتر نے 21 افراد کی شہادت کی تصدیق کی، جن میں 15 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 57 بتائی گئی۔

پولیس لائنز کے اطراف صورتحال کشیدہ رہی اور مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ ابتدائی دھماکے کے بعد تقریباً 10 دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق کلیئرنس آپریشن تکمیل کے قریب ہے، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے جبکہ دھماکے کی اصل وجہ کا تعین کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ زخمی پولیس اہلکار اور شہری تاحال سی ایم ایچ کوہاٹ میں زیر علاج ہیں۔

ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ دھماکے سے کمپاؤنڈ کی چار دیواری کا ایک حصہ تباہ ہوگیا، جبکہ ایمبولینسوں کی آمد کے دوران لوگ ملبے سے زخمیوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔

فوٹو: ریسکیو 1122 کوہاٹ

لوگ سڑک پر پڑے ہوئے تھے جبکہ خون آلود کپڑوں میں ملبوس دیگر افراد ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ تمام 7 حملہ آور دھماکے اور اس کے بعد ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ حملہ آوروں کی ’’بزدلانہ کارروائیاں‘‘ قوم کے ’’مضبوط عزم‘‘ کو کمزور نہیں کر سکتیں۔

پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھے ہیں، جن میں زیادہ تر فوج اور پولیس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ایک بیان جاری کرکے جمعہ کے حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ دہشت گرد پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور تربیت کے لیے افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں استعمال کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا پولیس کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کی جانب سے جاری ابتدائی تفصیلات کے مطابق ابتدائی دھماکے کے بعد ایک دہشت گرد نے اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب دھماکا خیز مواد سے خود کو اڑا لیا۔

پولیس کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی مشترکہ فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی شروع کردی۔

پولیس نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے ایک دہشت گرد اسنائپر کو بھی ہلاک کردیا۔ ان کے مطابق کمپاؤنڈ کے اندر کلیئرنس اور سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔

ریسکیو 1122 خیبر پختونخوا کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا کہ 60 سے زائد ریسکیو اہلکاروں کے علاوہ 22 ایمبولینسیں، ریسکیو گاڑیاں اور ایک ریکوری وہیکل جائے وقوعہ پر آپریشن میں شریک ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے دہشت گرد حملے میں بے گناہ افراد کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔

ایوان صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق صدر نے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

صدر نے حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین ممکنہ طبی امداد فراہم کی جائے۔

انہوں نے کہا، ’’قومی سلامتی کے لیے فتنۃ الخوارج اور غیر ملکی پشت پناہی سے سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔‘‘

ایک الگ بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، وزیراعظم آفس نے بتایا۔

وزیراعظم نے حکام کو زخمیوں کو فوری اور بہترین ممکنہ طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ بھی طلب کی اور امدادی و ریسکیو کارروائیاں تیز کرنے کے ساتھ متاثرہ افراد کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔